پاکستان میں مقیم بعض افغان شہریوں کے لیے جعلی قومی شناختی کارڈ تیار کرنے والے عناصر کو فوری طور پر قانون کے کٹہرے میں لانا ناگزیر ہو چکا ہے۔ یہ وہ لوگ ہیں جنہوں نے ذاتی اور سیاسی مفادات کے حصول کے لیے نہ صرف قوانین کی دھجیاں اڑائیں بلکہ ملکی سلامتی کو بھی شدید خطرات سے دوچار کیا۔ انہی غیرقانونی اقدامات کے باعث دہشتگردوں کے لیے ملک کے اندر داخل ہونا اور آزادانہ نقل و حرکت ممکن ہوئی۔
آج صورتحال یہ ہے کہ دہشتگرد بہروپیے پاکستانی شہری بن کر ملک کے مختلف حصوں میں پھیل چکے ہیں۔ عام شہری تو درکنار، سیکیورٹی پر مامور اہلکاروں کے لیے بھی ان کی شناخت ایک بڑا چیلنج بن چکی ہے۔ جب کسی سرکاری یا حساس مقام پر داخلے کے وقت عام شہری سے شناختی کارڈ طلب کیا جاتا ہے، لیکن اگر دہشتگرد کے پاس بھی وہی مستند نظر آنے والا کارڈ موجود ہو جو ایک محب وطن شہری کے پاس ہے، تو پھر مشکوک اور محفوظ میں فرق کیسے ممکن ہوگا؟
اسلام آباد میں ہونے والے حالیہ خودکش حملے میں ملوث مبینہ خودکش بمبار کی شناخت یاسر خان ولد بہادر خان کے نام سے سامنے آئی ہے، جو گنج محلہ قاضیان، پشاور کا رہائشی بتایا جا رہا ہے۔ دستیاب معلومات کے مطابق مذکورہ شخص نے گزشتہ تقریباً پانچ ماہ افغانستان میں قیام کیا، جہاں اسے اسلحہ کے استعمال اور خودکش حملوں سے متعلق منظم تربیت دی گئی۔ یہ حقائق اس امر کا واضح ثبوت ہیں کہ دشمن صرف سرحد پار موجود نہیں بلکہ جعلی شناختوں اور سہولت کاری کے ذریعے ہمارے معاشرے کے اندر تک سرایت کر چکا ہے۔
اب وقت آ چکا ہے کہ صرف دہشتگردوں ہی نہیں بلکہ ان کے سہولت کاروں، جعل سازوں، جعلی دستاویزات بنانے والوں اور ان کی سرپرستی کرنے والے عناصر کے خلاف بھی بلاامتیاز اور فیصلہ کن کارروائی کی جائے۔ کسی بھی قسم کی مصلحت، سیاسی دباؤ یا سودے بازی کو بالائے طاق رکھ کر قومی سلامتی کو اولین ترجیح دینا ہوگی، کیونکہ ملک و قوم کی سلامتی کسی بھی قیمت پر داؤ پر نہیں لگائی جا سکتی۔
خودکش بمبار اور جعلی شناختی کارڈ: قومی سلامتی کو لاحق سنگین خطرہ
31