کالمز
انصاف صرف ایک واقعے تک محدود نہ رہے! غریب کی عزتِ نفس، قانون کی حکمرانی اور ریاست کی ذمہ داری
25-اکتوبر-2026 — Qazi Jawad
0 تبصرے
59 وزٹ
Read in English
تحریر: ایک شہری کی نظر سے
کسی بھی مہذب معاشرے کی اصل پہچان اس کی بلند و بالا عمارتیں، ترقیاتی منصوبے یا حکمرانوں کے بڑے بڑے دعوے نہیں ہوتے، بلکہ اس معاشرے میں عام شہری کو حاصل عزت، تحفظ اور انصاف ہوتا ہے۔ ریاست کی حقیقی کامیابی اس وقت سامنے آتی ہے جب ایک کمزور شخص بھی اپنے حقوق کے لیے آواز اٹھا سکے اور اسے یقین ہو کہ قانون اس کے ساتھ کھڑا ہوگا۔
حالیہ واقعے میں ایک غریب شہری کے ساتھ مبینہ طور پر بدسلوکی اور اسے تھپڑ مارے جانے کے معاملے کا نوٹس لیا جانا اور اس کی داد رسی کی کوشش قابلِ تحسین اقدام ہے۔ مریم نواز صاحبہ کی جانب سے اس معاملے پر توجہ دینا ایک مثبت قدم ہے، کیونکہ جب کسی عام شہری کی عزتِ نفس مجروح ہو اور اس کی آواز متعلقہ حکام تک پہنچے تو اس کی شکایت کو سنجیدگی سے لینا ریاست کی بنیادی ذمہ داری ہے۔
تاہم، یہاں ایک اہم سوال بھی پیدا ہوتا ہے: کیا انصاف کا حصول صرف اسی صورت میں ممکن ہے جب کسی واقعے کی ویڈیو سوشل میڈیا پر وائرل ہو جائے یا کوئی بااثر شخصیت اس کا نوٹس لے؟ کیا ایک غریب شہری کو اپنی بے بسی ثابت کرنے کے لیے سوشل میڈیا کی توجہ کا محتاج ہونا چاہیے؟ یقیناً ایک مثالی نظامِ انصاف میں ایسا نہیں ہونا چاہیے۔
قانون کی حکمرانی کا اصل امتحان اس وقت ہوتا ہے جب کسی کمزور کے مقابلے میں کوئی طاقتور کھڑا ہو۔ اگر ایک عام شہری کے ساتھ زیادتی ہو تو اسے انصاف کے حصول کے لیے سفارش، سیاسی اثر و رسوخ یا عوامی دباؤ کا سہارا نہ لینا پڑے۔ اسے یقین ہونا چاہیے کہ متعلقہ ادارے اس کی شکایت سنیں گے، معاملے کی غیر جانب دارانہ تحقیقات کریں گے اور قانون کے مطابق کارروائی کریں گے۔
یہ حقیقت بھی نظر انداز نہیں کی جا سکتی کہ معاشرے میں عزت و احترام کا معیار دولت، عہدہ یا اثر و رسوخ نہیں ہونا چاہیے۔ ایک مزدور، ریڑھی بان، دکاندار، ملازم اور عام شہری بھی اسی عزت کا حق دار ہے جس کا کوئی افسر، سیاست دان یا صاحبِ حیثیت شخص۔ کسی انسان کی غربت اسے بے عزت کرنے کا جواز فراہم نہیں کرتی اور نہ ہی کسی عہدے یا اختیار کی بنیاد پر کسی کو قانون سے بالاتر سمجھا جا سکتا ہے۔
اگر کوئی سرکاری اہلکار، بااثر فرد یا عام شہری کسی دوسرے شخص کے ساتھ زیادتی کرتا ہے تو معاملے کی نوعیت کے مطابق شفاف تحقیقات اور قانونی کارروائی ہونی چاہیے۔ کسی کو محض الزام کی بنیاد پر مجرم قرار دینا درست نہیں، لیکن شکایت کرنے والے کی آواز دبانا بھی انصاف کے تقاضوں کے خلاف ہے۔ قانون کی بالادستی کا مطلب یہی ہے کہ شکایت کرنے والے کو بھی تحفظ ملے اور جس پر الزام ہو، اسے بھی منصفانہ قانونی عمل کا حق حاصل ہو۔
مریم نواز صاحبہ کی جانب سے ایسے معاملے پر توجہ دیے جانے کو ایک مثبت مثال کے طور پر دیکھا جا سکتا ہے، لیکن اصل ضرورت یہ ہے کہ یہ طرزِ عمل ایک مستقل نظام کا حصہ بنے۔ تھانوں، سرکاری دفاتر، اسپتالوں، بلدیاتی اداروں اور دیگر عوامی مقامات پر ہر شہری کے ساتھ عزت و احترام سے پیش آنے کو یقینی بنایا جائے۔ شکایات کے ازالے کا ایسا مؤثر نظام موجود ہو جہاں عام آدمی کی بات سنی جائے اور اسے انصاف کے لیے طویل انتظار، سفارش یا غیر ضروری مشکلات کا سامنا نہ کرنا پڑے۔
حکمرانوں کی ذمہ داری صرف کسی ایک واقعے کا نوٹس لینے تک محدود نہیں ہونی چاہیے، بلکہ انہیں ایسے ادارہ جاتی نظام کو مضبوط بنانا چاہیے جو ہر شہری کے حقوق کی حفاظت کرے۔ اگر کسی ایک مظلوم کو انصاف ملتا ہے تو یہ خوش آئند بات ہے، لیکن اگر ہزاروں دوسرے شہری اسی نوعیت کی شکایات کے باوجود انصاف سے محروم رہیں تو پھر ہمیں اپنے نظام کا سنجیدگی سے جائزہ لینے کی ضرورت ہے۔
آج ضرورت اس امر کی ہے کہ انصاف کو کسی شخصیت کی توجہ، کسی ویڈیو کی مقبولیت یا کسی سیاسی سفارش سے وابستہ نہ کیا جائے۔ انصاف ہر شہری کا حق ہے، خواہ وہ امیر ہو یا غریب، بااثر ہو یا بے اختیار۔
آخر میں، مریم نواز صاحبہ کا اس معاملے پر توجہ دینا قابلِ تعریف ہے، لیکن اس اقدام کی اصل کامیابی تب ہوگی جب معاشرے کا ہر کمزور فرد یہ اعتماد محسوس کرے کہ اس کی عزت محفوظ ہے، اس کی آواز سنی جائے گی اور اس کے ساتھ ہونے والی زیادتی پر قانون حرکت میں آئے گا۔
کیونکہ ریاست کی طاقت کا اصل مظاہرہ کمزور کو دبانے میں نہیں، بلکہ اسے تحفظ دینے میں ہے۔ ایک مضبوط معاشرہ وہی ہوتا ہے جہاں طاقتور قانون کے سامنے جواب دہ ہو اور غریب کو اپنی عزت اور حقوق کے تحفظ کے لیے کسی طاقتور کے دروازے پر دستک نہ دینی پڑے۔
انصاف کسی پر احسان نہیں، بلکہ ہر شہری کا بنیادی حق ہے۔
کسی بھی مہذب معاشرے کی اصل پہچان اس کی بلند و بالا عمارتیں، ترقیاتی منصوبے یا حکمرانوں کے بڑے بڑے دعوے نہیں ہوتے، بلکہ اس معاشرے میں عام شہری کو حاصل عزت، تحفظ اور انصاف ہوتا ہے۔ ریاست کی حقیقی کامیابی اس وقت سامنے آتی ہے جب ایک کمزور شخص بھی اپنے حقوق کے لیے آواز اٹھا سکے اور اسے یقین ہو کہ قانون اس کے ساتھ کھڑا ہوگا۔
حالیہ واقعے میں ایک غریب شہری کے ساتھ مبینہ طور پر بدسلوکی اور اسے تھپڑ مارے جانے کے معاملے کا نوٹس لیا جانا اور اس کی داد رسی کی کوشش قابلِ تحسین اقدام ہے۔ مریم نواز صاحبہ کی جانب سے اس معاملے پر توجہ دینا ایک مثبت قدم ہے، کیونکہ جب کسی عام شہری کی عزتِ نفس مجروح ہو اور اس کی آواز متعلقہ حکام تک پہنچے تو اس کی شکایت کو سنجیدگی سے لینا ریاست کی بنیادی ذمہ داری ہے۔
تاہم، یہاں ایک اہم سوال بھی پیدا ہوتا ہے: کیا انصاف کا حصول صرف اسی صورت میں ممکن ہے جب کسی واقعے کی ویڈیو سوشل میڈیا پر وائرل ہو جائے یا کوئی بااثر شخصیت اس کا نوٹس لے؟ کیا ایک غریب شہری کو اپنی بے بسی ثابت کرنے کے لیے سوشل میڈیا کی توجہ کا محتاج ہونا چاہیے؟ یقیناً ایک مثالی نظامِ انصاف میں ایسا نہیں ہونا چاہیے۔
قانون کی حکمرانی کا اصل امتحان اس وقت ہوتا ہے جب کسی کمزور کے مقابلے میں کوئی طاقتور کھڑا ہو۔ اگر ایک عام شہری کے ساتھ زیادتی ہو تو اسے انصاف کے حصول کے لیے سفارش، سیاسی اثر و رسوخ یا عوامی دباؤ کا سہارا نہ لینا پڑے۔ اسے یقین ہونا چاہیے کہ متعلقہ ادارے اس کی شکایت سنیں گے، معاملے کی غیر جانب دارانہ تحقیقات کریں گے اور قانون کے مطابق کارروائی کریں گے۔
یہ حقیقت بھی نظر انداز نہیں کی جا سکتی کہ معاشرے میں عزت و احترام کا معیار دولت، عہدہ یا اثر و رسوخ نہیں ہونا چاہیے۔ ایک مزدور، ریڑھی بان، دکاندار، ملازم اور عام شہری بھی اسی عزت کا حق دار ہے جس کا کوئی افسر، سیاست دان یا صاحبِ حیثیت شخص۔ کسی انسان کی غربت اسے بے عزت کرنے کا جواز فراہم نہیں کرتی اور نہ ہی کسی عہدے یا اختیار کی بنیاد پر کسی کو قانون سے بالاتر سمجھا جا سکتا ہے۔
اگر کوئی سرکاری اہلکار، بااثر فرد یا عام شہری کسی دوسرے شخص کے ساتھ زیادتی کرتا ہے تو معاملے کی نوعیت کے مطابق شفاف تحقیقات اور قانونی کارروائی ہونی چاہیے۔ کسی کو محض الزام کی بنیاد پر مجرم قرار دینا درست نہیں، لیکن شکایت کرنے والے کی آواز دبانا بھی انصاف کے تقاضوں کے خلاف ہے۔ قانون کی بالادستی کا مطلب یہی ہے کہ شکایت کرنے والے کو بھی تحفظ ملے اور جس پر الزام ہو، اسے بھی منصفانہ قانونی عمل کا حق حاصل ہو۔
مریم نواز صاحبہ کی جانب سے ایسے معاملے پر توجہ دیے جانے کو ایک مثبت مثال کے طور پر دیکھا جا سکتا ہے، لیکن اصل ضرورت یہ ہے کہ یہ طرزِ عمل ایک مستقل نظام کا حصہ بنے۔ تھانوں، سرکاری دفاتر، اسپتالوں، بلدیاتی اداروں اور دیگر عوامی مقامات پر ہر شہری کے ساتھ عزت و احترام سے پیش آنے کو یقینی بنایا جائے۔ شکایات کے ازالے کا ایسا مؤثر نظام موجود ہو جہاں عام آدمی کی بات سنی جائے اور اسے انصاف کے لیے طویل انتظار، سفارش یا غیر ضروری مشکلات کا سامنا نہ کرنا پڑے۔
حکمرانوں کی ذمہ داری صرف کسی ایک واقعے کا نوٹس لینے تک محدود نہیں ہونی چاہیے، بلکہ انہیں ایسے ادارہ جاتی نظام کو مضبوط بنانا چاہیے جو ہر شہری کے حقوق کی حفاظت کرے۔ اگر کسی ایک مظلوم کو انصاف ملتا ہے تو یہ خوش آئند بات ہے، لیکن اگر ہزاروں دوسرے شہری اسی نوعیت کی شکایات کے باوجود انصاف سے محروم رہیں تو پھر ہمیں اپنے نظام کا سنجیدگی سے جائزہ لینے کی ضرورت ہے۔
آج ضرورت اس امر کی ہے کہ انصاف کو کسی شخصیت کی توجہ، کسی ویڈیو کی مقبولیت یا کسی سیاسی سفارش سے وابستہ نہ کیا جائے۔ انصاف ہر شہری کا حق ہے، خواہ وہ امیر ہو یا غریب، بااثر ہو یا بے اختیار۔
آخر میں، مریم نواز صاحبہ کا اس معاملے پر توجہ دینا قابلِ تعریف ہے، لیکن اس اقدام کی اصل کامیابی تب ہوگی جب معاشرے کا ہر کمزور فرد یہ اعتماد محسوس کرے کہ اس کی عزت محفوظ ہے، اس کی آواز سنی جائے گی اور اس کے ساتھ ہونے والی زیادتی پر قانون حرکت میں آئے گا۔
کیونکہ ریاست کی طاقت کا اصل مظاہرہ کمزور کو دبانے میں نہیں، بلکہ اسے تحفظ دینے میں ہے۔ ایک مضبوط معاشرہ وہی ہوتا ہے جہاں طاقتور قانون کے سامنے جواب دہ ہو اور غریب کو اپنی عزت اور حقوق کے تحفظ کے لیے کسی طاقتور کے دروازے پر دستک نہ دینی پڑے۔
انصاف کسی پر احسان نہیں، بلکہ ہر شہری کا بنیادی حق ہے۔
تبصرے (0)
ابھی کوئی تبصرہ موجود نہیں — پہلا تبصرہ آپ کریں۔
تبصرہ کریں