Mansehra.com مانسہرہ ڈاٹ کام
24 ربیع الثانی 1448 ہجری بدھ، 7 اکتوبر 2026·23 اسو
آج کی حدیث سول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”جو شخص اللہ تعالیٰ کی راہ میں ایک دن روزہ رکھے، اللہ تعالیٰ اس کے چہرے کو جہنم سے ستر سال کی مسافت کے برابر دور کر دیتا ہے۔“ حوالہ: صحیح بخاری، حدیث نمبر0 284
تازہ ترین
مشہور شخصیات

ایمانداری کی وہ مثال جو وزیراعظم ہاؤس کی دیواروں میں گونجی — کیپٹن (ر) صفدر کی کہانی

07-اکتوبر-2026 — Qazi Jawad 0 تبصرے 34 وزٹ
Read in English
ایمانداری کی وہ مثال جو وزیراعظم ہاؤس کی دیواروں میں گونجی — کیپٹن (ر) صفدر کی کہانی
تحریر: فاروق اقدس / اسلام آباد
ایک معمولی سی درخواست، اور ایک غیر معمولی انکشاف
اگست 1990 کی بات ہے۔ صدر غلام اسحاق خان نے محترمہ بے نظیر بھٹو کی حکومت ختم کی اور سندھ کے معروف سیاسی شخصیت غلام مصطفی جتوئی کو نگران وزیراعظم کی ذمہ داریاں سونپی گئیں۔ اسی دوران پاک فوج کے ٹرپل ون بریگیڈ میں تعینات ایک نوجوان کیپٹن، صفدر، کو غلام مصطفی جتوئی صاحب کا اے ڈی سی مقرر کیا گیا۔
وزیراعظم ہاؤس میں منتقلی کے بعد کیپٹن صفدر نے انتظامیہ سے ایک معمولی سی درخواست کی — کہ انہیں ایک الگ الماری دی جائے جس میں وہ اپنی ذاتی اشیاء رکھ سکیں۔ یہ درخواست اتنی سادہ تھی کہ کسی کے وہم و گمان میں بھی نہ تھا کہ یہ ایک ایسے انکشاف کا دروازہ کھولے گی جو وزیراعظم ہاؤس کی دیواروں میں گونج اٹھے گا۔
الماری کھلی، اور تاریخ سامنے آ گئی
انتظامیہ نے کیپٹن صفدر کو ایک مقفل الماری فراہم کی، جو دراصل سندھ ہاؤس سے لائی گئی تھی — وہی الماری جو کچھ عرصہ قبل محترمہ بے نظیر بھٹو کے زیرِ استعمال تھی۔
چند دنوں بعد جب کیپٹن صفدر نے اپنی ذاتی اشیاء رکھنے کے لیے وہ الماری کھولی، تو ان کے سامنے ایسی چیزیں آئیں جنہیں دیکھ کر وہ خود بھی حیران رہ گئے۔ الماری کے اندر "وائٹ گولڈ" کے زیورات اور محترمہ بے نظیر بھٹو کی خاندانی تصاویر کی البم موجود تھی۔
یہ وہ لمحہ تھا جب ایک نوجوان فوجی افسر کے سامنے دو راستے تھے — ایک خاموشی کا، اور دوسرا ایمانداری کا۔
فیصلہ وہ لیا جو شاید ہر کوئی نہ لیتا
کیپٹن صفدر نے کوئی لمحہ ضائع نہ کیا۔ انہوں نے فوراً وزیراعظم کے ملٹری سیکرٹری کو مطلع کیا اور طریقہ کار کے مطابق تمام قیمتی زیورات اور تصاویر ملٹری سیکرٹری کے حوالے کر دیں۔
ملٹری سیکرٹری نے نگران وزیراعظم غلام مصطفی جتوئی کے علم میں یہ بات لاتے ہوئے، ایک تحریری نوٹ کے ساتھ تمام اشیاء سابق وزیراعظم بے نظیر بھٹو کو پہنچا دیں۔ اس نوٹ میں یہ بھی واضح طور پر درج کیا گیا کہ یہ تمام اشیاء پاک فوج کے ایک نوجوان کیپٹن کو آپ کے زیرِ استعمال الماری سے ملی تھیں۔
مگر کہانی یہیں ختم نہیں ہوئی۔ چند دنوں بعد اسی الماری کی دوسری دراز میں سے ہیرے کی انگوٹھیاں بھی ملیں، جن میں بیش قیمت نگینے جڑے ہوئے تھے۔ انہیں بھی اسی دیانت داری کے ساتھ، اسی طریقہ کار کے تحت، محترمہ بے نظیر بھٹو کو بھجوا دیا گیا۔
بے نظیر بھٹو کا شکریہ، اور وزیراعظم ہاؤس میں چرچا
جب یہ اشیاء محترمہ بے نظیر بھٹو تک پہنچیں، تو انہوں نے نہ صرف کیپٹن صفدر کی تعریف کی بلکہ ان کا شکریہ بھی ادا کیا۔
اس واقعے کے بعد کیپٹن صفدر کی پہلے سے موجود شرافت اور پیشہ ورانہ ساکھ میں ایمانداری کا ایک اور باب اضافہ ہو گیا۔ وزیراعظم ہاؤس میں اس واقعے کا خوب چرچا ہوا — کہ ایک نوجوان کیپٹن نے کس طرح ایک ایسی امانت کو، جس کا اسے کوئی علم بھی نہ تھا، بغیر کسی لالچ کے واپس پہنچا دیا۔
غلام مصطفی جتوئی کا انکشاف
اس واقعے کے حوالے سے پاکستان کے پہلے نگران وزیراعظم غلام مصطفی جتوئی نے اپنے ایک انٹرویو میں نہ صرف اس سارے واقعے کی تصدیق کی، بلکہ کیپٹن صفدر کے کردار پر روشنی ڈالتے ہوئے کچھ ایسے الفاظ کہے جو آج بھی سنہری حروف میں لکھنے کے قابل ہیں۔
انہوں نے کہا:
"نگران وزیراعظم کی حیثیت سے کیپٹن صفدر نے تین ماہ تک وزیراعظم ہاؤس میں ڈیوٹی کی۔ کیپٹن صفدر ایک پروفیشنل سولجر ہونے کے ساتھ ساتھ انتہائی ایماندار، بااعتماد، باکردار اور ایک اچھے حسب نسب کی خوبیاں رکھتا تھا۔"
انہوں نے مزید کہا:
"میں نے ہمیشہ اس کی تعریف ہی سنی — اس کے سینیئر سے بھی اور اپنے ذاتی اسٹاف سے بھی۔ مجھے اس سے گفتگو کر کے ہمیشہ بہت اچھا لگتا تھا کیونکہ وہ میرا احترام پروٹوکول کے ساتھ ساتھ اپنے بزرگوں کی طرح کرتا تھا۔ اس میں سعادت مندی کا عنصر بھی نمایاں نظر آتا تھا، جس سے یہ بات بھی ثابت ہوتی تھی کہ وہ بہت اچھے حسب نسب کے پس منظر کی خوبیاں رکھتا ہے۔ اس کی یہی چیزیں اور باتیں اسے منفرد اور ممتاز بناتی تھیں۔"
نواز شریف کو سفارش
غلام مصطفی جتوئی صاحب نے اپنے انٹرویو میں ایک اور اہم انکشاف بھی کیا:
"میں نے ذاتی طور پر بھی میاں نواز شریف کو وزارت عظمیٰ کا منصب سنبھالنے کے قابل کیپٹن صفدر کی ان خوبیوں اور صلاحیتوں سے آگاہ کیا تھا اور تجویز کیا تھا کہ وہ کیپٹن صفدر کو ہی اپنا اے ڈی سی رکھیں، چنانچہ انہوں نے ایسا ہی کیا۔"
یوں ایک نوجوان کیپٹن، جس نے اپنی ایمانداری سے سب کا دل جیت لیا تھا، 1990 میں نو منتخب وزیراعظم میاں نواز شریف کا اے ڈی سی مقرر ہوا — اور یہ سفر آگے چل کر ایک ایسے رشتے میں تبدیل ہوا جس نے تاریخ کا رخ موڑ دیا۔
ایک خصوصی نوٹ
محترمہ بے نظیر بھٹو کے قیمتی زیورات اور پرانی خاندانی تصاویر کے حوالے سے یہ تذکرہ اس وقت منظرِ عام پر آیا تھا جب کیپٹن صفدر نے جتوئی صاحب کے اے ڈی سی کی حیثیت سے ذمہ داریاں سنبھالی تھیں۔ اس موضوع پر کئی کالم بھی لکھے گئے تھے، لیکن ان کی تردید یا کوئی وضاحت سامنے نہیں آئی تھی۔
(دروغ بن گردن راوی و کالم نگار)
سبق
یہ کہانی صرف ایک واقعہ نہیں، ایک سبق ہے۔ یہ بتاتی ہے کہ ایمانداری کسی عہدے یا رتبے کی محتاج نہیں ہوتی۔ یہ ایک ایسا جوہر ہے جو انسان کے کردار میں ہوتا ہے، اور جب وہ جوہر امتحان کے لمحے میں چمکتا ہے، تو وہ تاریخ کے اوراق میں سنہری حروف میں درج ہو جاتا ہے۔
کیپٹن (ر) صفدر نے اس دن جو کیا، وہ شاید ان کے لیے ایک معمولی سی بات تھی — مگر یہی معمولی سی بات ان کے کردار کا وہ آئینہ ہے جو آج بھی ان کی شخصیت کی عکاسی کرتا ہے۔
تحریر: فاروق اقدس / اسلام آباد
(سندھ کے اہم سیاسی رہنما اور پاکستان کے پہلے نگران وزیراعظم غلام مصطفیٰ جتوئی کے روزنامہ جنگ کو دیے گئے انٹرویو سے اقتباس)
```

تبصرے (0)

ابھی کوئی تبصرہ موجود نہیں — پہلا تبصرہ آپ کریں۔

تبصرہ کریں

آپ کا تبصرہ منظوری کے بعد یہاں شائع ہوگا۔ ای میل عام صارفین کو نظر نہیں آئے گی۔