تاریخ
تھونِس-ہیراکلیون: بحیرۂ روم کی گہرائیوں میں چھپا قدیم مصر کا گمشدہ شہر
07-اکتوبر-2026 — Qazi Jawad
0 تبصرے
28 وزٹ
Read in English
اسکندریہ: بحیرۂ روم کی گہرائیوں میں مصر کے ساحل سے دور ایک ایسا قدیم شہر صدیوں تک خاموشی سے دفن رہا جس کا وجود ایک عرصے تک صرف قدیم تاریخی حوالوں اور تحریروں سے معلوم ہوتا تھا۔ یہ شہر تھونِس-ہیراکلیون (Thonis-Heracleion) کے نام سے جانا جاتا تھا اور کبھی قدیم مصر کی اہم ترین بندرگاہوں میں شمار ہوتا تھا۔
قدیم مصر کا اہم تجارتی مرکز
اسکندریہ کے عروج سے پہلے تھونِس-ہیراکلیون مصر میں داخل ہونے والے غیر ملکی بحری جہازوں کے لیے ایک اہم دروازے کی حیثیت رکھتا تھا۔ یہ شہر تجارت، بحری سرگرمیوں اور مذہبی رسومات کا ایک بڑا مرکز تھا۔
قدیم شواہد سے معلوم ہوتا ہے کہ یہاں وسیع بندرگاہیں، نہریں، گودیوں اور سینکڑوں لنگر موجود تھے، جہاں بحیرۂ روم کے مختلف علاقوں سے آنے والے جہاز لنگر انداز ہوتے تھے۔
یہ شہر مذہبی اعتبار سے بھی غیر معمولی اہمیت رکھتا تھا۔ یہاں ایک عظیم الشان مندر موجود تھا جو مصری دیوتا آمون-گِرب کے لیے وقف تھا، جبکہ شہر کے یونانی دنیا کے ساتھ بھی گہرے مذہبی اور ثقافتی روابط تھے۔
سمندر کی تہہ میں کیسے پہنچا؟
وقت گزرنے کے ساتھ اس شہر کی زمین کئی قدرتی عوامل سے متاثر ہوئی۔ ماہرینِ آثارِ قدیمہ اور ارضیات کے مطابق زمین کا دھنسنا، سمندر کی سطح میں اضافہ، زلزلے، سمندری لہریں اور مٹی کے مائع جیسی کیفیت اختیار کر لینا ان عوامل میں شامل تھے جنہوں نے شہر کے بڑے حصے کو سمندر کی تہہ میں پہنچا دیا۔
آٹھویں صدی عیسوی تک تھونِس-ہیراکلیون تقریباً مکمل طور پر پانی کے نیچے جا چکا تھا، اور آنے والی صدیوں میں ریت اور مٹی کی تہوں نے اس کے آثار کو مزید ڈھانپ دیا۔
ایک ہزار سال بعد دوبارہ دریافت
صدیوں تک یہ شہر انسانی نظروں سے اوجھل رہا۔ 1990 کی دہائی میں اس علاقے میں زیرِ آب آثارِ قدیمہ کی تلاش کا کام شروع ہوا، جبکہ 2000 میں فرانسیسی ماہرِ آثارِ قدیمہ فرانک گوڈیو (Franck Goddio) اور ان کی ٹیم نے مصری حکام کے تعاون سے ابوقیر خلیج میں اس قدیم شہر کے اہم آثار دریافت کیے۔
یہ دریافت دنیا کے لیے حیران کن تھی، کیونکہ ایک ایسا شہر جسے صدیوں سے تقریباً ایک گمشدہ داستان سمجھا جاتا تھا، حقیقت میں سمندر کی تہہ میں محفوظ موجود تھا۔
سمندر کی تہہ سے حیران کن خزانے
زیرِ آب کھدائی اور تحقیق کے دوران ماہرین کو قدیم شہر کے متعدد حیرت انگیز آثار ملے۔ ان میں دیوہیکل شاہی مجسمے، مندروں کے آثار، سونے کے سکے، زیورات، مٹی کے برتن، مذہبی اشیا، قدیم لنگر اور بحری جہازوں کے آثار شامل ہیں۔
کچھ مجسمے 16 فٹ سے بھی زیادہ بلند ہیں، جبکہ سینکڑوں قدیم لنگروں کی دریافت اس بات کی نشاندہی کرتی ہے کہ یہ بندرگاہ اپنے دور میں کتنی مصروف اور اہم تھی۔
تھونِس اور ہیراکلیون — ایک ہی شہر
اس شہر کی ایک دلچسپ تاریخی خصوصیت اس کا دو ناموں سے جانا جانا ہے۔
تھونِس اس کا مصری نام تھا، جبکہ ہیراکلیون یونانی دنیا میں استعمال ہونے والا نام تھا۔ قدیم مصنفین نے اپنی تحریروں میں اس شہر کا ذکر کیا، لیکن صدیوں تک اس کا اصل مقام ایک معمہ بنا رہا۔
زیرِ آب آثار کی دریافت نے بالآخر ثابت کر دیا کہ تھونِس اور ہیراکلیون دراصل ایک ہی شہر کے دو نام تھے۔
ایک قدرتی آثارِ قدیمہ کا خزانہ
سمندر کی تہہ میں دفن ہونے کی وجہ سے شہر کے متعدد آثار انسانی مداخلت، تعمیرِ نو اور قدرتی تباہی سے بڑی حد تک محفوظ رہے۔ یہی وجہ ہے کہ ماہرین اسے ایک طرح کے آثارِ قدیمہ کے ٹائم کیپسول سے تشبیہ دیتے ہیں۔
دلچسپ بات یہ ہے کہ ماہرین کے مطابق اب تک اس قدیم شہر کا صرف ایک محدود حصہ ہی دریافت کیا جا سکا ہے، جبکہ اس کے بڑے حصے اب بھی سمندر کی تہہ میں چھپے ہوئے ہیں۔
تاریخ جو دوبارہ منظرِ عام پر آ رہی ہے
تھونِس-ہیراکلیون صرف ایک گمشدہ شہر نہیں بلکہ قدیم مصر کی تجارت، مذہب، ثقافت اور بحری زندگی کی ایک اہم کھڑکی ہے۔ اس کی دریافت نے ثابت کیا کہ تاریخ کے وہ شہر بھی دوبارہ سامنے آ سکتے ہیں جو صدیوں تک انسانوں کی نظروں سے اوجھل رہے۔
بحیرۂ روم کی گہرائیوں میں چھپا یہ شہر آج بھی اپنے اندر بے شمار راز سموئے ہوئے ہے۔ ہر نئی دریافت قدیم مصر کی تاریخ کے ایک نئے باب کو دنیا کے سامنے لے آتی ہے۔
تھونِس-ہیراکلیون ڈوب ضرور گیا تھا، لیکن تاریخ سے مٹا نہیں — سمندر کی تہہ سے اس کی کہانی آج بھی دوبارہ ابھر رہی ہے۔
قدیم مصر کا اہم تجارتی مرکز
اسکندریہ کے عروج سے پہلے تھونِس-ہیراکلیون مصر میں داخل ہونے والے غیر ملکی بحری جہازوں کے لیے ایک اہم دروازے کی حیثیت رکھتا تھا۔ یہ شہر تجارت، بحری سرگرمیوں اور مذہبی رسومات کا ایک بڑا مرکز تھا۔
قدیم شواہد سے معلوم ہوتا ہے کہ یہاں وسیع بندرگاہیں، نہریں، گودیوں اور سینکڑوں لنگر موجود تھے، جہاں بحیرۂ روم کے مختلف علاقوں سے آنے والے جہاز لنگر انداز ہوتے تھے۔
یہ شہر مذہبی اعتبار سے بھی غیر معمولی اہمیت رکھتا تھا۔ یہاں ایک عظیم الشان مندر موجود تھا جو مصری دیوتا آمون-گِرب کے لیے وقف تھا، جبکہ شہر کے یونانی دنیا کے ساتھ بھی گہرے مذہبی اور ثقافتی روابط تھے۔
سمندر کی تہہ میں کیسے پہنچا؟
وقت گزرنے کے ساتھ اس شہر کی زمین کئی قدرتی عوامل سے متاثر ہوئی۔ ماہرینِ آثارِ قدیمہ اور ارضیات کے مطابق زمین کا دھنسنا، سمندر کی سطح میں اضافہ، زلزلے، سمندری لہریں اور مٹی کے مائع جیسی کیفیت اختیار کر لینا ان عوامل میں شامل تھے جنہوں نے شہر کے بڑے حصے کو سمندر کی تہہ میں پہنچا دیا۔
آٹھویں صدی عیسوی تک تھونِس-ہیراکلیون تقریباً مکمل طور پر پانی کے نیچے جا چکا تھا، اور آنے والی صدیوں میں ریت اور مٹی کی تہوں نے اس کے آثار کو مزید ڈھانپ دیا۔
ایک ہزار سال بعد دوبارہ دریافت
صدیوں تک یہ شہر انسانی نظروں سے اوجھل رہا۔ 1990 کی دہائی میں اس علاقے میں زیرِ آب آثارِ قدیمہ کی تلاش کا کام شروع ہوا، جبکہ 2000 میں فرانسیسی ماہرِ آثارِ قدیمہ فرانک گوڈیو (Franck Goddio) اور ان کی ٹیم نے مصری حکام کے تعاون سے ابوقیر خلیج میں اس قدیم شہر کے اہم آثار دریافت کیے۔
یہ دریافت دنیا کے لیے حیران کن تھی، کیونکہ ایک ایسا شہر جسے صدیوں سے تقریباً ایک گمشدہ داستان سمجھا جاتا تھا، حقیقت میں سمندر کی تہہ میں محفوظ موجود تھا۔
سمندر کی تہہ سے حیران کن خزانے
زیرِ آب کھدائی اور تحقیق کے دوران ماہرین کو قدیم شہر کے متعدد حیرت انگیز آثار ملے۔ ان میں دیوہیکل شاہی مجسمے، مندروں کے آثار، سونے کے سکے، زیورات، مٹی کے برتن، مذہبی اشیا، قدیم لنگر اور بحری جہازوں کے آثار شامل ہیں۔
کچھ مجسمے 16 فٹ سے بھی زیادہ بلند ہیں، جبکہ سینکڑوں قدیم لنگروں کی دریافت اس بات کی نشاندہی کرتی ہے کہ یہ بندرگاہ اپنے دور میں کتنی مصروف اور اہم تھی۔
تھونِس اور ہیراکلیون — ایک ہی شہر
اس شہر کی ایک دلچسپ تاریخی خصوصیت اس کا دو ناموں سے جانا جانا ہے۔
تھونِس اس کا مصری نام تھا، جبکہ ہیراکلیون یونانی دنیا میں استعمال ہونے والا نام تھا۔ قدیم مصنفین نے اپنی تحریروں میں اس شہر کا ذکر کیا، لیکن صدیوں تک اس کا اصل مقام ایک معمہ بنا رہا۔
زیرِ آب آثار کی دریافت نے بالآخر ثابت کر دیا کہ تھونِس اور ہیراکلیون دراصل ایک ہی شہر کے دو نام تھے۔
ایک قدرتی آثارِ قدیمہ کا خزانہ
سمندر کی تہہ میں دفن ہونے کی وجہ سے شہر کے متعدد آثار انسانی مداخلت، تعمیرِ نو اور قدرتی تباہی سے بڑی حد تک محفوظ رہے۔ یہی وجہ ہے کہ ماہرین اسے ایک طرح کے آثارِ قدیمہ کے ٹائم کیپسول سے تشبیہ دیتے ہیں۔
دلچسپ بات یہ ہے کہ ماہرین کے مطابق اب تک اس قدیم شہر کا صرف ایک محدود حصہ ہی دریافت کیا جا سکا ہے، جبکہ اس کے بڑے حصے اب بھی سمندر کی تہہ میں چھپے ہوئے ہیں۔
تاریخ جو دوبارہ منظرِ عام پر آ رہی ہے
تھونِس-ہیراکلیون صرف ایک گمشدہ شہر نہیں بلکہ قدیم مصر کی تجارت، مذہب، ثقافت اور بحری زندگی کی ایک اہم کھڑکی ہے۔ اس کی دریافت نے ثابت کیا کہ تاریخ کے وہ شہر بھی دوبارہ سامنے آ سکتے ہیں جو صدیوں تک انسانوں کی نظروں سے اوجھل رہے۔
بحیرۂ روم کی گہرائیوں میں چھپا یہ شہر آج بھی اپنے اندر بے شمار راز سموئے ہوئے ہے۔ ہر نئی دریافت قدیم مصر کی تاریخ کے ایک نئے باب کو دنیا کے سامنے لے آتی ہے۔
تھونِس-ہیراکلیون ڈوب ضرور گیا تھا، لیکن تاریخ سے مٹا نہیں — سمندر کی تہہ سے اس کی کہانی آج بھی دوبارہ ابھر رہی ہے۔
ٹیگز:
##Mansehra.Com
تبصرے (0)
ابھی کوئی تبصرہ موجود نہیں — پہلا تبصرہ آپ کریں۔
تبصرہ کریں