پاکستان
گورنر خیبرپختونخوا کی وضاحت، صحت کارڈ ختم نہیں کیا گیا، معاملات کا جائزہ جاری
26-اکتوبر-2026 — Qazi Jawad
0 تبصرے
20 وزٹ
Read in English
پشاور: گورنر خیبرپختونخوا فیصل کریم کنڈی نے واضح کیا ہے کہ صوبے میں صحت کارڈ پروگرام ختم نہیں کیا گیا اور نہ ہی کسی فرد کو اس سہولت سے خارج کیا گیا ہے۔
صحت کارڈ پروگرام کے معاملات کا جائزہ
گورنر فیصل کریم کنڈی کا کہنا تھا کہ صحت کارڈ پروگرام سے متعلق معاملات کا جائزہ لیا جا رہا ہے۔ اس حوالے سے عوام میں پائی جانے والی تشویش کے تناظر میں انہوں نے پروگرام کے خاتمے کی خبروں کی تردید کی۔
عوامی مفاد کو ترجیح دی جائے گی
فیصل کریم کنڈی نے کہا کہ عوامی فائدے کے لیے شروع کیے گئے اچھے منصوبوں کو جاری رکھا جائے گا، چاہے انہیں کسی بھی حکومت یا شخصیت نے شروع کیا ہو۔
ان کا کہنا تھا:
”عوام کے فائدے کے لیے شروع کیے گئے اچھے منصوبوں کو آگے بڑھائیں گے، چاہے وہ کسی نے بھی شروع کیے ہوں۔“
تاہم، گورنر نے یہ بھی کہا کہ صوبے پر بوجھ بننے والی چیزوں کو ختم کیا جائے گا۔
پس منظر
یہ بیان ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب خیبرپختونخوا میں گورنر راج کے نفاذ کے بعد صحت کارڈ پلس پروگرام کے مستقبل کے حوالے سے مختلف اطلاعات گردش کر رہی تھیں۔
دوسری جانب، فراہم کردہ معلومات کے مطابق، قومی احتساب بیورو (نیب) خیبرپختونخوا نے صحت کارڈ پلس کے سابق چیف ایگزیکٹو آفیسر ڈاکٹر محمد ریاض تنولی کو مبینہ مالی بے ضابطگیوں کی تحقیقات کے سلسلے میں 29 اکتوبر کو طلب کیا ہے۔
گورنر کے بیان سے صحت کارڈ پروگرام کے مستقبل کے حوالے سے عوامی خدشات دور کرنے کی کوشش کی گئی ہے، تاہم جاری جائزے اور پروگرام سے متعلق آئندہ فیصلوں کی مزید تفصیلات سامنے آنا باقی ہیں۔
صحت کارڈ پروگرام کے معاملات کا جائزہ
گورنر فیصل کریم کنڈی کا کہنا تھا کہ صحت کارڈ پروگرام سے متعلق معاملات کا جائزہ لیا جا رہا ہے۔ اس حوالے سے عوام میں پائی جانے والی تشویش کے تناظر میں انہوں نے پروگرام کے خاتمے کی خبروں کی تردید کی۔
عوامی مفاد کو ترجیح دی جائے گی
فیصل کریم کنڈی نے کہا کہ عوامی فائدے کے لیے شروع کیے گئے اچھے منصوبوں کو جاری رکھا جائے گا، چاہے انہیں کسی بھی حکومت یا شخصیت نے شروع کیا ہو۔
ان کا کہنا تھا:
”عوام کے فائدے کے لیے شروع کیے گئے اچھے منصوبوں کو آگے بڑھائیں گے، چاہے وہ کسی نے بھی شروع کیے ہوں۔“
تاہم، گورنر نے یہ بھی کہا کہ صوبے پر بوجھ بننے والی چیزوں کو ختم کیا جائے گا۔
پس منظر
یہ بیان ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب خیبرپختونخوا میں گورنر راج کے نفاذ کے بعد صحت کارڈ پلس پروگرام کے مستقبل کے حوالے سے مختلف اطلاعات گردش کر رہی تھیں۔
دوسری جانب، فراہم کردہ معلومات کے مطابق، قومی احتساب بیورو (نیب) خیبرپختونخوا نے صحت کارڈ پلس کے سابق چیف ایگزیکٹو آفیسر ڈاکٹر محمد ریاض تنولی کو مبینہ مالی بے ضابطگیوں کی تحقیقات کے سلسلے میں 29 اکتوبر کو طلب کیا ہے۔
گورنر کے بیان سے صحت کارڈ پروگرام کے مستقبل کے حوالے سے عوامی خدشات دور کرنے کی کوشش کی گئی ہے، تاہم جاری جائزے اور پروگرام سے متعلق آئندہ فیصلوں کی مزید تفصیلات سامنے آنا باقی ہیں۔
تبصرے (0)
ابھی کوئی تبصرہ موجود نہیں — پہلا تبصرہ آپ کریں۔
تبصرہ کریں