پاکستان
حنا پرویز بٹ کے بیانات حکومت کے لیے شرمندگی کا باعث بنتے ہیں، عظمیٰ بخاری
22-اکتوبر-2026 — Qazi Jawad
0 تبصرے
28 وزٹ
Read in English
ن لیگی رکن اسمبلی کے بیانات پر صوبائی وزیر اطلاعات کا ردِعمل، حنا پرویز بٹ نے بھی اختلاف کرتے ہوئے اپنا مؤقف پیش کر دیا
لاہور: وزیر اطلاعات پنجاب عظمیٰ بخاری نے کہا ہے کہ مسلم لیگ (ن) کی رکن پنجاب اسمبلی حنا پرویز بٹ بعض اوقات ناسمجھی میں ایسی باتیں کر جاتی ہیں جو بعد میں ان کے لیے مسئلہ اور حکومت کے لیے شرمندگی کا باعث بنتی ہیں۔
جیو نیوز کے پروگرام ’’آج شاہزیب خانزادہ کے ساتھ‘‘ میں گفتگو کرتے ہوئے عظمیٰ بخاری نے کہا کہ وہ حنا پرویز بٹ کی سنجیدگی اور ان کی ٹوئٹس کے حوالے سے زیادہ بات نہیں کرنا چاہتیں، تاہم بعض بیانات ایسے ہوتے ہیں جن کے باعث بعد میں وضاحتیں دینا پڑتی ہیں۔
حنا پرویز بٹ کا ردِعمل
دوسری جانب حنا پرویز بٹ نے عظمیٰ بخاری کے بیان پر ردِعمل دیتے ہوئے کہا کہ اگر ان کے بیان سے عظمیٰ بخاری یا حکومت کو شرمندگی محسوس ہوتی ہے تو یہ ان کی اپنی چوائس ہے۔ انہوں نے کہا کہ وہ احترام کے ساتھ اپنی ساتھی عظمیٰ بخاری کے مؤقف سے اختلاف کرتی ہیں۔
بچوں اور خواتین کے خلاف جرائم پر گفتگو
پروگرام کے دوران عظمیٰ بخاری نے پنجاب میں بچوں اور خواتین کے خلاف جرائم اور ان کی روک تھام کے لیے پولیس کی کارروائیوں پر بھی بات کی۔ ان کا کہنا تھا کہ ایسے مقدمات میں پولیس کو فوری کارروائی کرتے ہوئے ملزمان کو گرفتار کرنا ہوتا ہے۔
انہوں نے کہا کہ سنگین جرائم میں ملوث ملزمان کے خلاف کارروائی کے لیے کرائم کنٹرول ڈیپارٹمنٹ (سی سی ڈی) قائم کیا گیا ہے اور ان کے مطابق اس کے قیام کے بعد پنجاب میں جرائم کی شرح میں کمی آئی ہے۔
وسیم عباس کیس سے متعلق اہم انکشافات
عظمیٰ بخاری نے وسیم عباس کیس کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ اگر واقعے کی سی سی ٹی وی فوٹیج سامنے نہ آتی تو بچے کی موت کو ٹریفک حادثہ قرار دیا جا سکتا تھا۔
انہوں نے افسوس کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ والد کے انتقال کے بعد بچے کو رشتے داروں نے اپنے ساتھ نہیں رکھا، تاہم واقعے کے بعد بہت سے رشتے دار سامنے آ رہے ہیں۔ ان کے مطابق، اس سے قبل کوئی بھی ان بچوں کو دو وقت کی روٹی فراہم کرنے کے لیے تیار نہیں تھا۔
صوبائی وزیر اطلاعات نے دعویٰ کیا کہ بچے کو اس کام کے عوض تنخواہ نہیں ملتی تھی بلکہ وہ صرف کھانے کے بدلے کام کر رہا تھا۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ بچے نے مبینہ طور پر تین مرتبہ وہاں سے بھاگنے کی کوشش کی تھی۔
ملزم کے فرار اور پولیس کارروائی سے متعلق بیان
عظمیٰ بخاری کے مطابق، ملزم کے حوالے سے ایسی اطلاعات بھی سامنے آئی تھیں کہ اس کے اپنے بچوں کے ساتھ بھی تشدد پر مبنی رویہ تھا۔ انہوں نے بتایا کہ ملزم حراست سے فرار ہوا تو اسے دوبارہ پکڑنے کے لیے ناکہ بندی کی گئی اور تعاقب بھی کیا گیا۔
ان کا کہنا تھا کہ بہاولپور کے قریب ملزمان کو روکنے کی کوشش کی گئی، تاہم وہ نہیں رکے۔ صوبائی وزیر نے مزید بتایا کہ ملزم کے ساتھ گاڑی میں موجود دوسرا شخص تاحال مفرور ہے۔
سی سی ڈی اہلکاروں کی ہلاکت اور زخمی ہونے کے واقعات
عظمیٰ بخاری نے کہا کہ ملزمان کے ساتھ مقابلوں کے دوران ایک سال میں سی سی ڈی کے سات اہلکار شہید جبکہ 100 سے زائد زخمی ہوئے ہیں۔
انہوں نے مزید بتایا کہ وزیراعلیٰ پنجاب نے بچوں اور خواتین کے خلاف تشدد کے واقعات میں اضافے کے معاملے پر اجلاس بھی کیا اور متعلقہ حکام سے اس رجحان کی وجوہات دریافت کیں۔
واضح رہے کہ عظمیٰ بخاری اور حنا پرویز بٹ کے بیانات ایسے وقت میں سامنے آئے ہیں جب پنجاب میں بچوں اور خواتین کے تحفظ، سنگین جرائم کی روک تھام اور متعلقہ اداروں کی کارروائیوں پر بحث جاری ہے۔
لاہور: وزیر اطلاعات پنجاب عظمیٰ بخاری نے کہا ہے کہ مسلم لیگ (ن) کی رکن پنجاب اسمبلی حنا پرویز بٹ بعض اوقات ناسمجھی میں ایسی باتیں کر جاتی ہیں جو بعد میں ان کے لیے مسئلہ اور حکومت کے لیے شرمندگی کا باعث بنتی ہیں۔
جیو نیوز کے پروگرام ’’آج شاہزیب خانزادہ کے ساتھ‘‘ میں گفتگو کرتے ہوئے عظمیٰ بخاری نے کہا کہ وہ حنا پرویز بٹ کی سنجیدگی اور ان کی ٹوئٹس کے حوالے سے زیادہ بات نہیں کرنا چاہتیں، تاہم بعض بیانات ایسے ہوتے ہیں جن کے باعث بعد میں وضاحتیں دینا پڑتی ہیں۔
حنا پرویز بٹ کا ردِعمل
دوسری جانب حنا پرویز بٹ نے عظمیٰ بخاری کے بیان پر ردِعمل دیتے ہوئے کہا کہ اگر ان کے بیان سے عظمیٰ بخاری یا حکومت کو شرمندگی محسوس ہوتی ہے تو یہ ان کی اپنی چوائس ہے۔ انہوں نے کہا کہ وہ احترام کے ساتھ اپنی ساتھی عظمیٰ بخاری کے مؤقف سے اختلاف کرتی ہیں۔
بچوں اور خواتین کے خلاف جرائم پر گفتگو
پروگرام کے دوران عظمیٰ بخاری نے پنجاب میں بچوں اور خواتین کے خلاف جرائم اور ان کی روک تھام کے لیے پولیس کی کارروائیوں پر بھی بات کی۔ ان کا کہنا تھا کہ ایسے مقدمات میں پولیس کو فوری کارروائی کرتے ہوئے ملزمان کو گرفتار کرنا ہوتا ہے۔
انہوں نے کہا کہ سنگین جرائم میں ملوث ملزمان کے خلاف کارروائی کے لیے کرائم کنٹرول ڈیپارٹمنٹ (سی سی ڈی) قائم کیا گیا ہے اور ان کے مطابق اس کے قیام کے بعد پنجاب میں جرائم کی شرح میں کمی آئی ہے۔
وسیم عباس کیس سے متعلق اہم انکشافات
عظمیٰ بخاری نے وسیم عباس کیس کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ اگر واقعے کی سی سی ٹی وی فوٹیج سامنے نہ آتی تو بچے کی موت کو ٹریفک حادثہ قرار دیا جا سکتا تھا۔
انہوں نے افسوس کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ والد کے انتقال کے بعد بچے کو رشتے داروں نے اپنے ساتھ نہیں رکھا، تاہم واقعے کے بعد بہت سے رشتے دار سامنے آ رہے ہیں۔ ان کے مطابق، اس سے قبل کوئی بھی ان بچوں کو دو وقت کی روٹی فراہم کرنے کے لیے تیار نہیں تھا۔
صوبائی وزیر اطلاعات نے دعویٰ کیا کہ بچے کو اس کام کے عوض تنخواہ نہیں ملتی تھی بلکہ وہ صرف کھانے کے بدلے کام کر رہا تھا۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ بچے نے مبینہ طور پر تین مرتبہ وہاں سے بھاگنے کی کوشش کی تھی۔
ملزم کے فرار اور پولیس کارروائی سے متعلق بیان
عظمیٰ بخاری کے مطابق، ملزم کے حوالے سے ایسی اطلاعات بھی سامنے آئی تھیں کہ اس کے اپنے بچوں کے ساتھ بھی تشدد پر مبنی رویہ تھا۔ انہوں نے بتایا کہ ملزم حراست سے فرار ہوا تو اسے دوبارہ پکڑنے کے لیے ناکہ بندی کی گئی اور تعاقب بھی کیا گیا۔
ان کا کہنا تھا کہ بہاولپور کے قریب ملزمان کو روکنے کی کوشش کی گئی، تاہم وہ نہیں رکے۔ صوبائی وزیر نے مزید بتایا کہ ملزم کے ساتھ گاڑی میں موجود دوسرا شخص تاحال مفرور ہے۔
سی سی ڈی اہلکاروں کی ہلاکت اور زخمی ہونے کے واقعات
عظمیٰ بخاری نے کہا کہ ملزمان کے ساتھ مقابلوں کے دوران ایک سال میں سی سی ڈی کے سات اہلکار شہید جبکہ 100 سے زائد زخمی ہوئے ہیں۔
انہوں نے مزید بتایا کہ وزیراعلیٰ پنجاب نے بچوں اور خواتین کے خلاف تشدد کے واقعات میں اضافے کے معاملے پر اجلاس بھی کیا اور متعلقہ حکام سے اس رجحان کی وجوہات دریافت کیں۔
واضح رہے کہ عظمیٰ بخاری اور حنا پرویز بٹ کے بیانات ایسے وقت میں سامنے آئے ہیں جب پنجاب میں بچوں اور خواتین کے تحفظ، سنگین جرائم کی روک تھام اور متعلقہ اداروں کی کارروائیوں پر بحث جاری ہے۔
تبصرے (0)
ابھی کوئی تبصرہ موجود نہیں — پہلا تبصرہ آپ کریں۔
تبصرہ کریں