پولیس
ملتان کے ملزم توقیر نذیر کی موت پر سی سی ڈی چیف کا موقف: "سوشل میڈیا پر بحث سے ہمیں کوئی غرض نہیں"
26-اکتوبر-2026 — Qazi Jawad
0 تبصرے
31 وزٹ
Read in English
لاہور: ملتان میں 15 سالہ بچے وسیم عباس کی گاڑی تلے کچل کر ہلاکت کے مقدمے کے مرکزی ملزم توقیر نذیر کی مبینہ پولیس مقابلے میں موت کے معاملے پر سی سی ڈی چیف سہیل ظفر چٹھہ نے اپنا موقف پیش کرتے ہوئے کہا ہے کہ پولیس مقدمات کی تفتیش سوشل میڈیا پر ہونے والی بحث کو سامنے رکھ کر نہیں کرتی۔
سہیل ظفر چٹھہ کے مطابق، کرائم کنٹرول ڈیپارٹمنٹ (سی سی ڈی) اپنی مقررہ تفتیشی حکمتِ عملی اور طریقۂ کار کے تحت مقدمات کی تحقیقات کرتا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ پولیس کی ذمہ داری قانون کے مطابق اپنے فرائض انجام دینا ہے، نہ کہ سوشل میڈیا پر ہونے والی بحث یا عوامی ردعمل کی بنیاد پر کارروائی کرنا۔
سی سی ڈی کن مقدمات پر توجہ دیتا ہے؟
سی سی ڈی چیف کے بیان کے مطابق، محکمہ ایسے سنگین جرائم کی تفتیش کرتا ہے جن میں کرائے کے قاتلوں کے ذریعے قتل، غیرت کے نام پر قتل اور بچوں و خواتین کے خلاف ایسے جرائم شامل ہیں جو معاشرے میں خوف و ہراس پیدا کرتے ہیں۔
انہوں نے واضح کیا کہ کسی واقعے کے بارے میں سوشل میڈیا یا ذرائع ابلاغ پر ہونے والی گفتگو محکمہ کی تفتیشی کارروائیوں کی بنیاد نہیں بنتی۔ ان کے مطابق، پولیس کا کام اپنے فرائض کی ادائیگی ہے۔
لائبہ اعجاز کیس میں بھی پولیس کا موقف سامنے آ گیا
دوسری جانب لائبہ اعجاز کیس کے مرکزی ملزم نعمان کی موت کے معاملے پر اسلام آباد کے ایس ایس پی آپریشنز قاضی علی رضا کا موقف بھی سامنے آیا ہے۔
رپورٹ کے مطابق، انہوں نے پولیس مقابلوں کو معمول کی کارروائی قرار دیتے ہوئے اس تاثر کی تردید کی کہ پولیس سوشل میڈیا ٹرینڈز، عوامی دباؤ یا کسی دوسرے دباؤ کے زیرِ اثر کارروائی کرتی ہے۔
تاہم، پولیس مقابلوں میں ہونے والی ہلاکتوں کے معاملے میں ہر واقعے کے حقائق، حالات اور قانونی جواز کا الگ سے جائزہ لینا اہم ہے۔
توقیر نذیر کی ہلاکت کا پس منظر
ملتان میں 15 سالہ یتیم بچے وسیم عباس کی گاڑی تلے کچل کر ہلاکت کے مقدمے میں توقیر نذیر کو مرکزی ملزم بتایا گیا تھا۔ بعد ازاں اس کی مبینہ پولیس مقابلے میں ہلاکت کی خبر سامنے آئی، جس کے بعد سوشل میڈیا صارفین اور انسانی حقوق سے متعلق حلقوں کی جانب سے واقعے پر سوالات اٹھائے گئے۔
اس معاملے نے پولیس مقابلوں، تفتیشی طریقۂ کار، قانون کی حکمرانی اور ملزمان کے قانونی حقوق سے متعلق بحث کو دوبارہ نمایاں کر دیا ہے۔
اہم نکتہ: کسی بھی پولیس مقابلے کی شفافیت اور قانونی حیثیت کا تعین محض بیانات یا سوشل میڈیا پر ردعمل سے نہیں، بلکہ دستیاب شواہد، غیر جانب دارانہ تحقیقات اور متعلقہ قانونی کارروائی کی روشنی میں ہونا چاہیے۔
سہیل ظفر چٹھہ کے مطابق، کرائم کنٹرول ڈیپارٹمنٹ (سی سی ڈی) اپنی مقررہ تفتیشی حکمتِ عملی اور طریقۂ کار کے تحت مقدمات کی تحقیقات کرتا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ پولیس کی ذمہ داری قانون کے مطابق اپنے فرائض انجام دینا ہے، نہ کہ سوشل میڈیا پر ہونے والی بحث یا عوامی ردعمل کی بنیاد پر کارروائی کرنا۔
سی سی ڈی کن مقدمات پر توجہ دیتا ہے؟
سی سی ڈی چیف کے بیان کے مطابق، محکمہ ایسے سنگین جرائم کی تفتیش کرتا ہے جن میں کرائے کے قاتلوں کے ذریعے قتل، غیرت کے نام پر قتل اور بچوں و خواتین کے خلاف ایسے جرائم شامل ہیں جو معاشرے میں خوف و ہراس پیدا کرتے ہیں۔
انہوں نے واضح کیا کہ کسی واقعے کے بارے میں سوشل میڈیا یا ذرائع ابلاغ پر ہونے والی گفتگو محکمہ کی تفتیشی کارروائیوں کی بنیاد نہیں بنتی۔ ان کے مطابق، پولیس کا کام اپنے فرائض کی ادائیگی ہے۔
لائبہ اعجاز کیس میں بھی پولیس کا موقف سامنے آ گیا
دوسری جانب لائبہ اعجاز کیس کے مرکزی ملزم نعمان کی موت کے معاملے پر اسلام آباد کے ایس ایس پی آپریشنز قاضی علی رضا کا موقف بھی سامنے آیا ہے۔
رپورٹ کے مطابق، انہوں نے پولیس مقابلوں کو معمول کی کارروائی قرار دیتے ہوئے اس تاثر کی تردید کی کہ پولیس سوشل میڈیا ٹرینڈز، عوامی دباؤ یا کسی دوسرے دباؤ کے زیرِ اثر کارروائی کرتی ہے۔
تاہم، پولیس مقابلوں میں ہونے والی ہلاکتوں کے معاملے میں ہر واقعے کے حقائق، حالات اور قانونی جواز کا الگ سے جائزہ لینا اہم ہے۔
توقیر نذیر کی ہلاکت کا پس منظر
ملتان میں 15 سالہ یتیم بچے وسیم عباس کی گاڑی تلے کچل کر ہلاکت کے مقدمے میں توقیر نذیر کو مرکزی ملزم بتایا گیا تھا۔ بعد ازاں اس کی مبینہ پولیس مقابلے میں ہلاکت کی خبر سامنے آئی، جس کے بعد سوشل میڈیا صارفین اور انسانی حقوق سے متعلق حلقوں کی جانب سے واقعے پر سوالات اٹھائے گئے۔
اس معاملے نے پولیس مقابلوں، تفتیشی طریقۂ کار، قانون کی حکمرانی اور ملزمان کے قانونی حقوق سے متعلق بحث کو دوبارہ نمایاں کر دیا ہے۔
اہم نکتہ: کسی بھی پولیس مقابلے کی شفافیت اور قانونی حیثیت کا تعین محض بیانات یا سوشل میڈیا پر ردعمل سے نہیں، بلکہ دستیاب شواہد، غیر جانب دارانہ تحقیقات اور متعلقہ قانونی کارروائی کی روشنی میں ہونا چاہیے۔
تبصرے (0)
ابھی کوئی تبصرہ موجود نہیں — پہلا تبصرہ آپ کریں۔
تبصرہ کریں