ایبٹ آباد میں خواتین کے بااختیار بنانے پر سیمینار.

16

ایبٹ آباد: ڈسٹرکٹ ایڈمنسٹریشن، ڈسٹرکٹ یوتھ آفس اور شیلٹر آف ہوپ کے اشتراک سے خواتین کے بااختیار بنانے کے موضوع پر اہم پینل ڈسکشن منعقد ہوا۔ اس موقع پر اسسٹنٹ کمشنر ایبٹ آباد افسریاب ہندل اور اسسٹنٹ کمشنر زینب حفیظ نے خصوصی شرکت کی۔
پینل میں ایس پی کینٹ علی حمزہ، سیاسی و سماجی کارکن رومش سلیم، ممبر صوبائی اسمبلی سونیہ شاہ، ڈاکٹر ارم صدیقی، عزیر محمود، ڈاکٹر تحسین بی بی، حسن جہانگری اور صائمہ عروج شامل تھے۔ مقررین نے خواتین کی تعلیم، روزگار، سماجی کردار اور فیصلہ سازی میں شمولیت پر زور دیا۔
جنرل سیکرٹری پاکستان پیپلز پارٹی خواتین ونگ رومش سلیم نے کہا کہ خواتین کی کامیابی کو بیٹوں جیسا قرار دینا غیر ضروری ہے، اصل بااختیاری خواتین کی خود اعتمادی اور حوصلہ افزائی میں ہے۔ انہوں نے کہا کہ صنفی امتیاز سے بالاتر رکھ کر خواتین کو ہر شعبے میں بااختیار بنایا جانا چاہیے۔ رومش سلیم نے خوبصورت اشعار بھی پیش کیے:
“تو جانتی ہے کمانا بھی تو جانتی ہے بچانا بھی
ذرا اس زمانے کو بتا دے
تو جانتی ہے بڑھانا بھی
تیری سیکھ اور سمجھ سے چلتا ہے اک گھر
اس بات پہ ذرا تو غرور کر
تو رحمت ہے اس بات کی خبر ضرور رکھ
تو کما اپنا تو بچا اپنا
اگر اڑنا چاہے جیسے تو کوئی پنکھوں کو نہ کاٹ سکے
تیری اپنی ہو پہچان الگ
رشتوں میں نہ بانٹ سکی
تو پنکھ ہلا اڑتی جا چہرے پہ اپنے نور رکھ
تو رحمت ہے اس بات کی خبر ضرور رکھ”
دیگر مقررین نے بھی کہا کہ خواتین کو معاشرتی اور معاشی طور پر مضبوط بنانا وقت کی اہم ضرورت ہے۔ انہوں نے زور دیا کہ خواتین کو مساوی مواقع فراہم کیے جائیں تاکہ وہ نہ صرف اپنے خاندان بلکہ معاشرے کی ترقی میں بھی کردار ادا کرسکیں۔
پینل ڈسکشن میں یہ بات سامنے آئی کہ خواتین کی شمولیت کے بغیر پائیدار ترقی ممکن نہیں۔ مقررین نے اتفاق کیا کہ حکومتی ادارے، سول سوسائٹی اور عوام مل کر خواتین کے لیے سازگار ماحول پیدا کریں۔






یہ تقریب خواتین کے حقوق اور بااختیار بنانے کے حوالے سے ایک مثبت قدم قرار دی گئی، جس نے نہ صرف مسائل کو اجاگر کیا بلکہ ان کے حل کے لیے عملی تجاویز بھی پیش کیں۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں