سعود گنڈاپور کی بطور انچارج انٹیلی جنس ایکسائز افسر تعیناتی کالعدم قرار.

16

پشاور: پشاور ہائی کورٹ نے اہم فیصلہ سناتے ہوئے سعود گنڈاپور کی بطور انچارج انٹیلی جنس ایکسائز افسر ڈپوٹیشن پر تعیناتی کو کالعدم قرار دے دیا۔ یہ فیصلہ اس کیس کی سماعت کے دوران سامنے آیا جس میں خیبر پختونخوا اسمبلی کے اسسٹنٹ ڈائریکٹر پروٹوکول کی محکمہ ایکسائز میں تعیناتی کو چیلنج کیا گیا تھا۔
کیس کی سماعت پشاور ہائی کورٹ میں جسٹس سید ارشد علی کی سربراہی میں دو رکنی بینچ نے کی۔ دورانِ سماعت عدالت کو بتایا گیا کہ مذکورہ تعیناتی قواعد و ضوابط کے برعکس کی گئی ہے۔
درخواست گزار کے وکیل نے مؤقف اختیار کیا کہ محکمہ ایکسائز کے افسران نے اس تعیناتی کو عدالت میں چیلنج کیا کیونکہ صوبائی حکومت نے پہلے سعود گنڈاپور کو ڈپوٹیشن پر محکمہ ایکسائز میں تعینات کیا اور بعد ازاں انہیں گریڈ 18 کی اہم نشست پر فائز کر دیا، جو کہ قانونی تقاضوں کے مطابق نہیں تھا۔
وکیل کے مطابق گریڈ 18 کی پوسٹ پر تعیناتی کے لیے لازم ہے کہ افسر کی بھرتی پبلک سروس کمیشن کے ذریعے گریڈ 16 سے کی گئی ہو اور وہ ترقی کے مراحل طے کرکے اس عہدے تک پہنچا ہو۔ براہِ راست یا ڈپوٹیشن کے ذریعے اس نوعیت کی تعیناتی قواعد کی خلاف ورزی تصور ہوتی ہے۔
مزید برآں عدالت کو یہ بھی بتایا گیا کہ سپریم کورٹ اپنے متعدد فیصلوں میں واضح طور پر اس قسم کی تعیناتیوں کی ممانعت کر چکی ہے، جس کے باوجود اس اصول کو نظر انداز کیا گیا۔
عدالت نے دلائل سننے کے بعد فیصلہ سناتے ہوئے سعود گنڈاپور کی بطور انچارج انٹیلی جنس ایکسائز افسر تعیناتی کو غیر قانونی قرار دے کر کالعدم کر دیا۔
یہ فیصلہ سرکاری محکموں میں تقرریوں کے شفاف اور میرٹ پر مبنی نظام کو یقینی بنانے کی جانب ایک اہم پیش رفت قرار دیا جا رہا ہے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں