ذرائع کا کہنا ہے کہ چیئرمین اوگرا نے وزیراعظم کو بریفنگ دیتے ہوئے مؤقف اختیار کیا کہ:
عالمی سطح پر تیل کی قیمتیں تاریخی کم ترین سطح پر پہنچ چکی ہیں
ایسے میں عوام کو فوری ریلیف دینا حکومت کی ذمہ داری ہے
اگر فوری فیصلہ نہ کیا گیا تو حکومت ایک اہم موقع کھو دے گی
مزید برآں انہوں نے نشاندہی کی کہ:
گزشتہ ماہ ملک میں ایک ماہ کا تیل ذخیرہ موجود ہونے کے باوجود قیمتوں میں اضافہ کیا گیا
اس فیصلے سے عوام پر تقریباً 72 ارب روپے کا اضافی بوجھ پڑا
اس اقدام کے باعث عوام میں شدید بے چینی اور غم و غصہ پایا جاتا ہے
⚡ وزیراعظم کا سخت ردِعمل
ذرائع کے مطابق چیئرمین اوگرا کی گفتگو سننے کے بعد وزیراعظم نے شدید برہمی کا اظہار کیا۔ بتایا جاتا ہے کہ انہوں نے نہایت سخت لہجے میں جواب دیتے ہوئے سمری کو مسترد کر دیا۔
رپورٹس کے مطابق وزیراعظم نے فوری طور پر:
سمری کو رد کرتے ہوئے اسے موقع پر ہی ختم کر دیا
چیئرمین اوگرا کو عہدے سے ہٹانے کا فیصلہ کیا
🔄 نئی تقرری اور قانونی سوالات
بعد ازاں حکومت کی جانب سے:
سیکرٹری اسٹیبلشمنٹ نبیل احمد اعوان کو بطور قائم مقام چیئرمین اوگرا اضافی چارج دے دیا گیا
تاہم قانونی ماہرین نے اس اقدام پر سوالات اٹھاتے ہوئے کہا ہے کہ:
اوگرا کا ادارہ کابینہ ڈویژن کے ماتحت کام کرتا ہے
اس لیے اس نوعیت کی تقرری کے لیے باقاعدہ قانونی طریقہ کار ضروری ہوتا ہے
موجودہ اقدام آئینی و قانونی پیچیدگیاں پیدا کر سکتا ہے
📊 مجموعی صورتحال
ماہرین کے مطابق یہ معاملہ نہ صرف پیٹرولیم قیمتوں بلکہ حکومتی پالیسی، ادارہ جاتی خودمختاری اور عوامی اعتماد سے بھی جڑا ہوا ہے۔ اگر قیمتوں میں کمی نہ کی گئی تو مہنگائی کے شکار عوام پر مزید دباؤ بڑھنے کا خدشہ ہے۔
📉 عوامی ریلیف کی تجویز اور پس منظر
23