عباس قتل کیس میں بڑا یوٹرن: عدالت میں سابق ایس ایچ او کو ناکامی، ’پولیس مقابلہ‘ مؤقف مسترد ⚖️🚨

22

پشاور ہائی کورٹ، ایبٹ آباد بینچ میں سابق ایس ایچ او تھانہ پھلڑہ حمزہ علی خان کی جانب سے دائر کردہ رٹ پٹیشن کو خارج کر دیا گیا۔ درخواست آئینِ پاکستان کے آرٹیکل 199 کے تحت دائر کی گئی تھی جس میں ایف آئی آر نمبر 43 کو کالعدم قرار دینے کی استدعا کی گئی تھی۔
درخواست گزار کا مؤقف تھا کہ:
مقتول عباس ایک اشتہاری ملزم تھا
اس نے پولیس پر گاڑی چڑھائی اور فائرنگ کی
جوابی کارروائی میں وہ مارا گیا
ایف آئی آر 43 دباؤ اور سازش کا نتیجہ ہے
تاہم عدالت میں پیش کی گئی تفتیشی رپورٹ نے ان تمام نکات کو مسترد کر دیا۔
📌 دو ایف آئی آرز کا معاملہ کیسے ختم ہوا؟
کیس میں ابتدائی طور پر دو ایف آئی آرز درج تھیں:
ایف آئی آر نمبر 42 (مبینہ پولیس مقابلہ)
ایف آئی آر نمبر 43 (قتل کا مقدمہ)
تفتیش کے دوران پولیس نے خود ہی ایف آئی آر نمبر 42 کو دفعہ 173 ضابطہ فوجداری کے تحت شواہد نہ ہونے کی بنیاد پر منسوخ (Cancelled) کر دیا۔
یوں:
“ایک وقوعہ، دو ایف آئی آرز” والا مؤقف خود بخود ختم ہو گیا
سپریم کورٹ کے مشہور صغراں بی بی کیس (PLD 2018 SC 595) کا حوالہ بھی غیر مؤثر ہو گیا
اسی بنیاد پر درخواست گزار کے وکیل نے پٹیشن واپس لے لی، جسے عدالت نے باقاعدہ طور پر خارج (Dismissed) کر دیا۔
🔬 فرانزک شواہد نے کیس پلٹ دیا
تفتیشی ذرائع کے مطابق فرانزک سائنس لیبارٹری (FSL) رپورٹ اس کیس کا سب سے مضبوط ستون بن کر سامنے آئی ہے:
جائے وقوعہ سے ملنے والے خول اور سرکاری اسلحہ میں واضح فرانزک میچ
میڈیکل رپورٹ سے فائرنگ کی نوعیت مشکوک قرار
عینی شاہدین کے بیانات پولیس کے مؤقف سے متصادم
یہ تمام شواہد اس بات کی نشاندہی کرتے ہیں کہ واقعہ مبینہ مقابلہ نہیں بلکہ ٹارگٹڈ ایکشن تھا۔
🚫 عبوری ریلیف بھی نہ مل سکا
عدالت نے نہ صرف رٹ پٹیشن خارج کی بلکہ:
سابق ایس ایچ او کو گرفتاری سے بچاؤ کا کوئی ریلیف نہیں دیا
اس سے کیس کی سنگینی اور شواہد کی مضبوطی ظاہر ہوتی ہے
⚖️ موجودہ قانونی حیثیت
اس وقت:
ایف آئی آر نمبر 43 (دفعہ 302 PPC) ہی واحد مؤثر مقدمہ ہے
کیس مکمل طور پر ٹرائل کورٹ کی جانب بڑھ رہا ہے
استغاثہ کے پاس مضبوط شواہد موجود ہیں
📊 ماہرین کی رائے
قانونی ماہرین کے مطابق:
کیس اب ایک واضح قتل کے مقدمے میں تبدیل ہو چکا ہے
تمام توجہ اب شواہد، گواہوں اور محرکات پر مرکوز ہوگی
فرانزک میچ ملزم کے لیے بڑا قانونی چیلنج ثابت ہو سکتا ہے
🔎 پس منظر (واقعہ کیا تھا؟)
13 فروری 2026 کو:
پولیس نے مبینہ طور پر ناکہ بندی کی
عباس کو روکنے کی کوشش کی گئی
پولیس کے مطابق مقابلہ ہوا
تاہم:
بعد کی تفتیش میں یہ بیانیہ غلط ثابت ہوا
اور کیس نے نیا رخ اختیار کر لیا
🚨 آئندہ کیا ہوگا؟
ملزمان کے خلاف باقاعدہ ٹرائل ہوگا
شواہد عدالت میں پیش کیے جائیں گے
فیصلہ عدالتی جائزے کے بعد ہوگا

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں