سوات: تحصیل مٹہ کے علاقے شکردرہ میں گزشتہ رات نامعلوم افراد کی فائرنگ کے افسوسناک واقعے کے بعد ضلعی انتظامیہ اور پولیس متحرک ہو گئی۔ واقعے میں تین افراد جاں بحق جبکہ افضل گجر نامی ایک شخص زخمی ہو گیا تھا۔
ڈپٹی کمشنر سوات سہیل احمد خان نے واقعے کے فوری بعد سیدو شریف ہسپتال کا دورہ کیا، جہاں انہوں نے زخمی افراد کی عیادت کی اور طبی سہولیات کا جائزہ لیا۔ بعد ازاں وہ صبح کے وقت شکردرہ میں جائے وقوعہ پر پہنچے اور متاثرہ خاندانوں سے ملاقات کر کے تعزیت اور ہمدردی کا اظہار کیا۔
واقعے کے خلاف احتجاجاً لواحقین اور مقامی افراد نے مینگورہ۔مٹہ مین روڈ کو تقریباً تین گھنٹوں تک بند رکھا، جس کے باعث ٹریفک کی آمدورفت متاثر ہوئی۔ ضلعی انتظامیہ نے مظاہرین کے ساتھ مذاکرات کیے، جس کے نتیجے میں کامیاب بات چیت کے بعد سڑک کو ٹریفک کے لیے دوبارہ کھول دیا گیا۔
ضلعی انتظامیہ کے مطابق علاقے میں پولیس کی اضافی نفری تعینات کر دی گئی ہے جبکہ واقعے کی تحقیقات جاری ہیں۔ حکام کا کہنا ہے کہ فائرنگ میں ملوث عناصر کی شناخت اور گرفتاری کے لیے اقدامات کیے جا رہے ہیں اور قانون کے مطابق کارروائی عمل میں لائی جائے گی۔




پولیس اور ضلعی انتظامیہ کے مطابق اس وقت علاقے میں صورتحال قابو میں ہے اور حالات معمول کے مطابق ہیں، جبکہ عوام کے جان و مال کے تحفظ کو یقینی بنانے کے لیے سیکیورٹی اقدامات مزید مؤثر بنائے گئے ہیں۔
مٹہ سوات فائرنگ واقعہ: ڈپٹی کمشنر کا جائے وقوعہ کا دورہ، مذاکرات کے بعد بند شاہراہ ٹریفک کے لیے بحال.
28