میڈرڈ: ہسپانوی فٹبال لیگ (لالیگا) کے صدر خاویر تیباس نے فیفا کے صدر جیانی انفینٹینو سے فوری استعفے کا مطالبہ کرتے ہوئے الزام عائد کیا ہے کہ عالمی فٹبال کی موجودہ پالیسیوں نے کھیل کے نظام کو نقصان پہنچایا ہے۔
ایک اطالوی اخبار کو دیے گئے انٹرویو میں خاویر تیباس نے کہا کہ 2030ء فیفا ورلڈ کپ میں ٹیموں کی تعداد 48 سے بڑھا کر 64 کرنے کی تجویز غیر ضروری اور بے معنی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ ورلڈ کپ اہم ترین ایونٹ ضرور ہے، مگر پوری فٹبال دنیا صرف اسی ایونٹ کے گرد نہیں گھوم سکتی۔
لالیگا صدر نے کہا کہ جیانی انفینٹینو کا وقت ختم ہو چکا ہے، تاہم فیفا کے نظام اور رکن ممالک کی حمایت کے باعث ان کے خلاف کوئی مضبوط امیدوار سامنے نہیں آ رہا۔ ان کے مطابق بہت سے لوگ انفینٹینو کی پالیسیوں سے اختلاف رکھتے ہیں، مگر خاموش رہ کر فٹبال کو پہنچنے والے نقصان میں شریک بنے ہوئے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ قومی فٹبال لیگز اس کھیل کی بنیاد ہیں، لیکن فیفا صرف ورلڈ کپ کو وسعت دینے پر توجہ دے رہا ہے، جس سے دنیا بھر میں ہزاروں ملازمتوں اور فٹبال کی مجموعی صنعت پر منفی اثرات مرتب ہو رہے ہیں۔
خاویر تیباس نے فیفا ورلڈ کپ 2026ء کے دوران متعارف کرائے گئے اضافی واٹر بریکس اور فائنل میں روایتی 15 منٹ کے بجائے 27 منٹ کے وقفے کو بھی تنقید کا نشانہ بنایا۔ ان کا کہنا تھا کہ جدید کولنگ سسٹمز سے لیس اسٹیڈیمز میں ایسے اضافی وقفوں کی ضرورت نہیں تھی اور یہ صرف اشتہاری و تجارتی مفادات کے لیے رکھے گئے۔
دوسری جانب جنوبی امریکی فٹبال تنظیم (CONMEBOL) پہلے ہی 2030ء ورلڈ کپ میں 64 ٹیموں کی شمولیت کی باضابطہ تجویز پیش کر چکی ہے، جبکہ یہ میگا ایونٹ 6 میزبان ممالک اور 3 براعظموں میں منعقد ہوگا۔
ادھر یورپی شائقین کی نمائندہ تنظیم نے بھی فیفا کو شدید تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ 2026ء ورلڈ کپ شائقین کی توقعات پر پورا نہیں اتر سکا۔ تنظیم نے فیصلہ سازی کے نظام میں اصلاحات، کونسل اور کانگریس کے کردار کی بحالی، اور کلبوں، لیگز، کھلاڑیوں اور شائقین کو مشاورتی عمل میں شامل کرنے کا مطالبہ کیا ہے۔
واضح رہے کہ جیانی انفینٹینو 2027ء سے 2031ء کی مدت کے لیے چوتھی بار فیفا کے صدر منتخب ہونے کے خواہاں ہیں، جبکہ اس عہدے کے انتخابات آئندہ سال 18 مارچ کو مراکش میں منعقد ہوں گے۔
لالیگا صدر کا فیفا سربراہ جیانی انفینٹینو سے استعفے کا مطالبہ، فٹبال نظام پر شدید تنقید.
20