حوثی رہنما کا بیان: “مکہ پر حملے کا نہ کوئی ارادہ، نہ کوئی منصوبہ”

22

صنعاء – مکہ مکرمہ پر حملے کے حوالے سے حوثی رہنما کا بیان سامنے آ گیا ہے، جس میں انہوں نے مکہ پر حملے کے ارادے یا منصوبے کی تردید کی ہے۔
حوثی رہنما کا مؤقف
حوثی رہنما کے مطابق:
“مکہ مکرمہ پر حملے کا نہ کوئی ارادہ ہے نہ کوئی منصوبہ!”
انہوں نے الزام عائد کیا کہ سعودی عرب صرف جھوٹ بول کر ایسے پروپیگنڈوں کے ذریعے مسلمانوں کے جذبات بھڑکا کر اپنا فائدہ اٹھانے کی کوشش کر رہا ہے۔
ممکنہ اہداف
حوثی رہنما نے واضح کیا کہ اگر ضرورت پڑی تو ان کے اہداف سعودی عرب کے شہر ریاض ہوں گے، جہاں ان کے مطابق ڈانس پارٹیاں، شراب اور فیشن کلب بنے ہوئے ہیں۔
یہ بیان ایسے وقت سامنے آیا ہے جب سعودی عرب اور حوثیوں کے درمیان کشیدگی عروج پر ہے۔ حال ہی میں حوثیوں نے سعودی عرب کے مختلف شہروں بشمول خمیس مشیط، ابھا اور جازان پر بیلسٹک میزائل اور ڈرون حملے کیے تھے ۔ سعودی حکام نے ان حملوں میں 73 افراد کے زخمی ہونے کی تصدیق کی تھی ۔
یاد رہے کہ 7 اگست 2026 کو سعودی عرب، ترکی اور پاکستان کے درمیان مکہ مشترکہ دفاعی معاہدہ پر دستخط ہوئے تھے، جس کے تحت کسی ایک ملک پر مسلح حملے کو تینوں پر حملہ تصور کیا جائے گا۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں