یورپ بھر میں مقیم پاکستانی نژاد صحافیوں نے لندن میں ایک مظاہرے کے دوران اپنی پیشہ ورانہ ذمہ داریاں انجام دینے والے صحافیوں کو ہراساں کرنے، نعرے بازی، بدزبانی اور دھمکی آمیز رویے کی شدید مذمت کرتے ہوئے اسے آزادیٔ صحافت پر حملہ قرار دیا ہے۔
مشترکہ بیان میں صحافیوں نے کہا کہ سینئر صحافی مرتضیٰ علی شاہ نہ صرف پاکستان بلکہ بین الاقوامی سطح پر بھی ایک معتبر صحافی ہیں، جنہوں نے کئی دہائیوں سے پیشہ ورانہ دیانت داری، غیرجانبداری اور اعلیٰ صحافتی اقدار کو برقرار رکھا ہے۔ بیان کے مطابق ان کے ساتھ پیش آنے والا ہراسانی کا واقعہ کسی بھی مہذب اور جمہوری معاشرے میں ناقابل قبول ہے۔
بیان میں کہا گیا کہ صحافیوں کو ان کی پیشہ ورانہ ذمہ داریاں ادا کرنے سے روکنے یا انہیں خوفزدہ کرنے کی کوششیں آزادیٔ صحافت، جمہوری اقدار اور اظہارِ رائے کی آزادی کے منافی ہیں۔ صحافیوں کا بنیادی فرض عوام تک درست، مستند اور غیرجانبدار معلومات پہنچانا ہے۔
صحافیوں نے مزید کہا کہ اگر کسی کو کسی صحافی کی رپورٹنگ یا رائے سے اختلاف ہو تو اس کے اظہار کے لیے قانونی اور جمہوری ذرائع موجود ہیں، جبکہ بدزبانی، دھمکیوں اور ہراسانی جیسے رویے کسی صورت قابل قبول نہیں۔
بیان میں برطانیہ کے قانون نافذ کرنے والے اداروں سے مطالبہ کیا گیا کہ واقعے کی مکمل، شفاف اور غیرجانبدارانہ تحقیقات کی جائیں، ذمہ دار افراد کو قانون کے مطابق انصاف کے کٹہرے میں لایا جائے اور آئندہ صحافیوں کی پیشہ ورانہ سرگرمیوں کے دوران ان کی حفاظت کو یقینی بنایا جائے۔
لندن میں صحافیوں کو ہراساں کرنے کے واقعے کی یورپ بھر کے پاکستانی نژاد صحافیوں کی شدید مذمت.
24