اسلام آباد: وکیل ایمان مزاری اور ان کے شوہر ہادی علی چٹھہ کو سپریم کورٹ سے ضمانت اور سزا معطلی کے حکم کے چند گھنٹے بعد ایک دوسرے مقدمے میں دوبارہ گرفتار کرلیا گیا۔ دونوں کو بعد ازاں انسدادِ دہشت گردی عدالت میں پیش کیا گیا، جہاں عدالت نے انہیں جوڈیشل ریمانڈ پر اڈیالہ جیل بھیجنے کا حکم دیا۔
پولیس ذرائع کے مطابق اسلام آباد پولیس کی نفری دونوں کو تحویل میں لینے کے لیے اڈیالہ جیل پہنچی، جہاں سے انہیں اسلام آباد منتقل کیا گیا۔ بعد ازاں انہیں انسدادِ دہشت گردی عدالت میں پیش کیا گیا۔
رپورٹس کے مطابق یہ کارروائی تھانہ کوہسار میں درج ایک مقدمے سے متعلق ہے۔ سماعت کے دوران پولیس نے دونوں کے جسمانی ریمانڈ کی درخواست کی، تاہم عدالت نے پولیس کی درخواست مسترد کرتے ہوئے ایمان مزاری اور ہادی علی چٹھہ کو جوڈیشل ریمانڈ پر جیل بھیج دیا۔
سپریم کورٹ نے اسی روز ضمانت منظور کی تھی
اس سے قبل 17 ستمبر کو سپریم کورٹ نے ایمان مزاری اور ہادی علی چٹھہ کی سزا معطلی کی درخواستیں منظور کرتے ہوئے دونوں کی سزائیں معطل اور اسلام آباد ہائی کورٹ میں زیرِ سماعت معاملے کے حتمی فیصلے تک ضمانت پر رہائی کا حکم دیا تھا۔ عدالت نے دونوں کے لیے دو، دو لاکھ روپے کے ضمانتی مچلکے مقرر کیے تھے۔
سپریم کورٹ کے دو رکنی بینچ کی سربراہی جسٹس نعیم اختر افغان نے کی۔ سماعت کے دوران عدالت نے دونوں کے وکیل ہونے کا حوالہ دیتے ہوئے عدالتی وقار اور ڈیکورم کا خیال رکھنے کی ہدایت بھی کی۔
ایمان مزاری اور ہادی علی چٹھہ کو جنوری 2026 میں سوشل میڈیا پوسٹس سے متعلق ایک مقدمے میں ٹرائل کورٹ نے 17، 17 سال قید کی سزا سنائی تھی۔ دونوں نے اس فیصلے کے خلاف اسلام آباد ہائی کورٹ سے رجوع کیا، جبکہ سزا معطلی کا معاملہ بعد میں سپریم کورٹ تک پہنچا۔
اسلام آباد ہائی کورٹ میں سزا معطلی کی درخواستوں پر کارروائی جاری ہے اور 8 ستمبر کی سماعت کے بعد معاملہ 23 ستمبر تک ملتوی کیے جانے کی رپورٹ سامنے آئی تھی۔

یوں 17 ستمبر کو ایک ہی روز میں معاملہ ایک اہم مرحلے سے گزرا، جب سپریم کورٹ نے دونوں کی سابقہ سزائیں معطل کرکے ضمانت منظور کی، تاہم اس کے بعد اسلام آباد پولیس نے ایک دوسرے مقدمے میں انہیں دوبارہ گرفتار کرلیا۔ بعد ازاں انسدادِ دہشت گردی عدالت نے جسمانی ریمانڈ کی استدعا مسترد کرتے ہوئے دونوں کو جوڈیشل ریمانڈ پر جیل بھیج دیا۔
سپریم کورٹ سے ضمانت کے چند گھنٹے بعد ایمان مزاری اور ہادی علی چٹھہ دوبارہ گرفتار.
30