اسلام آباد – پاکستان کی سب سے لمبی سرنگ بننے جا رہی ہے۔ یہ 172 کلومیٹر طویل مانسہرہ چلاس موٹروے ہوگی جو مانسہرہ سے شروع ہو کر کاغان، ناران، جھالکھنڈ اور بابوسر سے گزرتی ہوئی چلاس تک پہنچے گی۔
منصوبے کی ضرورت کیوں پیش آئی؟
سوال یہ ہے کہ جب قراقرم ہائی وے پہلے سے موجود ہے تو اس نئے راستے کی ضرورت کیوں پڑی؟ اس کی بنیادی وجہ موجودہ راستے کے سنگین مسائل ہیں۔
موجودہ راستے کے مسائل:
· ناران کاغان کی طرف جانے والی سڑک کئی جگہوں سے دو لین پر مشتمل ہے
· راستے میں خطرناک موڑ اور بابوسر ٹاپ کی طرف انتہائی اونچی چڑھائیاں ہیں
· شدید برفباری کے دوران یہ راستہ کئی مہینوں تک بند رہتا ہے
نئی موٹروے کی خصوصیات
نئی موٹروے چار لینز پر مشتمل ہوگی، جو موجودہ راستے کے مقابلے میں کہیں زیادہ محفوظ اور تیز ہوگی۔
اس موٹروے کے پروجیکٹ میں سب سے بڑا کام بابوسر کے مقام پر ہونا ہے، جہاں 13.5 کلومیٹر لمبی بابوسر ٹنل بنائی جائے گی۔ یعنی گاڑیوں کو بابوسر ٹاپ کی مشکل چڑھائیوں سے گزارنے کے بجائے پہاڑ کے اندر سے سیدھا نکالا جائے گا۔
جدید سہولیات
اس موٹروے پر درج ذیل سہولیات فراہم کی جائیں گی:
· ہر 25 سے 30 کلومیٹر پر جدید ریسٹ ایریاز
· دونوں سروں پر مال بردار گاڑیوں کے لیے ٹرمینلز
اقتصادی و اسٹریٹجک اہمیت
منصوبے کا بنیادی مقصد مغربی چین کو کراچی اور گوادر کی بندرگاہوں سے براہِ راست جوڑنا ہے تاکہ تجارتی راستہ تیز، مختصر اور کم لاگت والا بن سکے۔
نئی موٹروے سے شاہراہ قراقرم کا سفر 120 کلومیٹر تک کم ہو جائے گا۔
چیلنجز
ماہرین کے مطابق اس بڑے منصوبے کی تعمیر میں درج ذیل چیلنجز درپیش ہوں گے:
· پہاڑی علاقے میں تعمیراتی مشکلات
· ماحولیاتی منظوریاں
· بڑے مالی وسائل کی فراہمی
سوال قارئین سے
کیا آپ نے پاکستان کے ناردرن ایریاز کا سفر کیا ہے؟ اگر کیا ہے تو آپ جانتے ہوں گے کہ آخر بابوسر ٹاپ کی چڑھائیاں کتنی ہی خطرناک ہیں۔


پاکستان کی سب سے لمبی سرنگ: مانسہرہ چلاس موٹروے منصوبے کی مکمل تفصیلات.
28