ٹک ٹاک پر ایک کمنٹ، معمولی تنازع اور دو نوجوانوں کا قتل، اوکاڑہ واقعے کی چونکا دینے والی تفصیلات سامنے آ گئیں.

28

اوکاڑہ کے علاقے حویلی لکھا کے محلہ فریدیہ میں پیش آنے والے دوہرے قتل کے افسوسناک واقعے کی تحقیقات میں اہم انکشافات سامنے آئے ہیں۔ ابتدائی تحقیقات کے مطابق یہ خونی تصادم کسی پرانی دشمنی کا نہیں بلکہ ٹک ٹاک ویڈیو پر کیے گئے ایک کمنٹ سے شروع ہونے والے تنازع کا نتیجہ تھا۔
یکم اگست کی رات تقریباً 10 بجے 15 سے 17 سال عمر کے دو دوست، بلال اور شرجیل، اپنے کام سے فارغ ہو کر محلے کی ایک آئس کریم شاپ پر گئے، جہاں وہ آئس کریم کھا رہے تھے۔ اسی دوران چند نوجوان وہاں پہنچے اور معمولی تلخ کلامی دیکھتے ہی دیکھتے گالی گلوچ، ہاتھا پائی اور پھر خونی تصادم میں تبدیل ہو گئی۔
ایف آئی آر کے مطابق مرکزی ملزم حمید اللہ خان نے مبینہ طور پر خنجر اور چھری سے بلال اور شرجیل پر حملہ کیا، جس سے دونوں شدید زخمی ہو گئے۔ انہیں فوری طور پر اسپتال منتقل کیا گیا، مگر وہ جانبر نہ ہو سکے۔
انچارج انویسٹی گیشن تھانہ حویلی نولکھا محمد عبدالرزاق کے مطابق ابتدائی تفتیش میں معلوم ہوا ہے کہ واقعے سے تقریباً دو ہفتے قبل ایک ٹک ٹاک ویڈیو پر کیے گئے کمنٹ کے باعث دونوں نوجوانوں کے گروپوں میں تنازع شروع ہوا، جو بعد ازاں سوشل میڈیا اور واٹس ایپ گروپس میں تلخ جملوں کے تبادلے کے بعد شدت اختیار کرتا گیا۔
مقامی رہائشیوں کے مطابق پہلی جھڑپ کے بعد مبینہ ملزم نے اپنے ٹک ٹاک اکاؤنٹ پر خنجر کے ساتھ ویڈیوز بھی شیئر کیں، جن میں بدلہ لینے سے متعلق اشارے موجود تھے۔ واقعے کے بعد وہ ویڈیوز بھی سوشل میڈیا پر وائرل ہو گئی ہیں۔
پولیس کا کہنا ہے کہ مقدمے میں نامزد تمام ملزمان کو گرفتار کر لیا گیا ہے، جبکہ آلۂ قتل کی برآمدگی اور مزید شواہد اکٹھے کرنے کے لیے ملزمان کا جسمانی ریمانڈ حاصل کیا گیا ہے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں