ایک پاکستانی شہری فرحان کے بارے میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ وہ 2001 میں 22 سال کی عمر میں قانونی طریقے سے امریکہ گیا تھا، جہاں اس نے ملازمت شروع کی اور بعد ازاں گرین کارڈ بھی حاصل کر لیا۔
مذکورہ تفصیلات کے مطابق امریکہ میں قیام کے دوران فرحان ایک ایسے شخص کے قریب آیا جو اپنی اہلیہ کے مبینہ تعلقات کے باعث شدید پریشان تھا۔ دونوں کے درمیان دوستی ہوئی اور بعد ازاں ایک سنگین جرم کا منصوبہ بنایا گیا۔
دعویٰ ہے کہ ایک روز ارشد نامی پاکستانی نوجوان کو فائرنگ کرکے قتل کر دیا گیا۔ پولیس تحقیقات کے دوران فون ریکارڈ اور دیگر شواہد کی مدد سے مبینہ طور پر کیس کے کردار سامنے آئے، جس کے بعد فرحان سمیت تین افراد کو گرفتار کیا گیا۔
رپورٹ کے مطابق عدالت نے تینوں ملزمان کو عمر قید کی سزا سنائی۔ فرحان نے سزا میں کمی اور رہائی کے لیے متعدد اپیلیں بھی کیں، تاہم اسے کامیابی نہ مل سکی۔
دعویٰ کیا گیا ہے کہ فرحان نے 2023 میں سزا مکمل کرنے کے بعد دوبارہ معمول کی زندگی شروع کرنے کی کوشش کی، لیکن اس کے مجرمانہ ریکارڈ کے باعث اسے روزگار کے حصول میں مشکلات کا سامنا کرنا پڑا۔
بعد ازاں امریکی امیگریشن حکام نے اسے حراست میں لیا اور قانونی کارروائی مکمل کرنے کے بعد پاکستان ڈی پورٹ کر دیا۔
یوں 25 سال قبل بہتر مستقبل کی امید میں امریکہ جانے والے فرحان کی زندگی ایک سنگین جرم کے باعث مکمل طور پر بدل گئی اور بالآخر اسے پاکستان واپس آنا پڑا۔
نوٹ: یہ تحریر فراہم کردہ معلومات اور دعووں کی بنیاد پر مرتب کی گئی ہے؛ عدالتی و سرکاری ریکارڈ سے تصدیق ضروری ہے۔
🚨 25 سال بعد پاکستانی شہری امریکہ سے ڈی پورٹ، ماضی کے ایک سنگین جرم نے پوری زندگی بدل دی.
19