نیپال – نیپال کی وادی ترشولی میں خوفناک سیلاب کے دوران ایک اسکول پرنسپل نے غیر معمولی بہادری اور حاضر دماغی کا مظاہرہ کرتے ہوئے 1643 بچوں کی جانیں بچا لیں۔
ضلع نواکوٹ میں واقع تریبھوون ترشولی سیکنڈری اسکول کے پرنسپل اور انگریزی کے استاد 47 سالہ راجندر دوادی بدھ کی صبح معمول کے مطابق اسکول پہنچے تو انہیں اندازہ بھی نہیں تھا کہ چند ہی لمحوں بعد انہیں سیکڑوں بچوں کی زندگی بچانے کے لیے وقت کے خلاف دوڑنا ہوگا۔
صبح تقریباً 9 بج کر 20 منٹ پر پرنسپل کو ایک دوست کی فون کال موصول ہوئی جس نے انہیں خبردار کیا کہ دریائے ترشولی میں پانی کی سطح خطرناک حد تک بلند ہو چکی ہے اور گاؤں کے تباہ ہونے کا خدشہ ہے۔
اس وقت اسکول کی تین منزلہ عمارت اور اس کے اطراف 1643 طلبہ موجود تھے۔ کچھ ہی دیر بعد ایک طالب علم کا والد بھاگتا ہوا اسکول پہنچا اور اطلاع دی کہ پانی کی سطح انتہائی تیزی سے بلند ہو رہی ہے۔
صورتِ حال کی سنگینی بھانپتے ہوئے پرنسپل نے:
· ایک لمحہ ضائع کیے بغیر اسکول کی گھنٹی بجائی
· تمام اساتذہ کو ہدایت کی کہ بچوں کو فوری طور پر کلاس رومز سے باہر نکالا جائے
· اسکول بسوں کے ڈرائیورز کو تمام بسیں واپس اسکول لانے کی ہدایت کی
· پرنسپل راجندر دوادی خود سب سے آخر میں بچوں کے پیچھے روانہ ہوئے
بچوں اور اساتذہ کے محفوظ مقام تک پہنچنے کے کچھ ہی دیر بعد سیلابی پانی نے اسکول کی پوری عمارت کو اپنی لپیٹ میں لے لیا اور دیکھتے ہی دیکھتے عمارت زمین بوس ہوگئی۔
خوش قسمتی سے اس وقت تک تمام بچے اور اساتذہ ایک بلند مقام پر موجود قدیم اور مضبوط درخت کے نیچے پناہ لے چکے تھے۔
راجندر دوادی کی بروقت فیصلہ سازی، بہادری اور حاضر دماغی کے باعث 1643 بچوں اور تقریباً تمام تدریسی عملے کی جانیں محفوظ رہی.
نیپال: اسکول پرنسپل کی بے مثال بہادری، 1643 بچوں کی جانیں بچا لیں.
31