چارسدہ: بیٹی کے رشتے سے انکار کا بدلہ، اغوا کی واردات لیکن پولیس نے بحفاظت بازیاب کر لیا.

30

چارسدہ – جب چارسدہ کی رہائشی اس 16 سالہ لڑکی کے لیے اس کے ماموں کے بیٹے کی طرف سے رشتہ آیا تو والد نے خود فیصلہ کرنے کی بجائے بیٹی سے اس کی رائے پوچھی۔
باپ نے بیٹی سے کہا: “ماموں کے بیٹے کے لیے تمہارا ہاتھ مانگا جا رہا ہے، آپ کی کیا رائے ہے؟”
بیٹی نے جواب دیا: “یہ تو ڈاکو ہے، لوفر ہے، اگر میرا ہاتھ اس کے ہاتھ میں دینا ہے تو مجھے دریا میں پھینک دیں۔”
بیٹی کا یہ جواب سن کر والد نے اس کی مرضی کا احترام کیا اور رشتے سے انکار کر دیا۔
لیکن یہ انکار ماموں کے بیٹے کو برداشت نہ ہوا اور وہ طیش میں آ گیا۔ 10 ستمبر کو چارسدہ کے علاقے سرڈھیری میں مسلح افراد گھر میں داخل ہوئے، لڑکی کو اسلحے کے زور پر زبردستی گھر سے نکالا اور گاڑی میں ڈال کر فرار ہو گئے۔
والد کے مطابق اس وقت گھر میں ایک بوڑھی والدہ، ان کی اہلیہ اور ایک رشتہ دار موجود تھے۔
واقعے کی اطلاع ملتے ہی چارسدہ پولیس نے مقدمہ درج کر کے لڑکی کی بازیابی کے لیے مختلف ٹیمیں تشکیل دیں۔ پولیس ٹیمیں پشاور، مردان اور پنجاب کے مختلف علاقوں میں تلاش کرتی رہیں، جبکہ ایک ٹیم ہنگو اور گردونواح میں سراغ ڈھونڈ رہی تھی۔
پھر 11 ستمبر کی شام اغوا ہونے والی لڑکی نے اپنا موبائل فون آن کیا اور کوہاٹ کے علاقے سے گھر والوں سے رابطے کی کوشش کی۔ پولیس نے موقع ضائع کیے بغیر موبائل کی لوکیشن ٹریس کی تو پتا چلا کہ لڑکی ہنگو کی سمت میں ہے۔
پولیس ٹیم فوری طور پر ہنگو پہنچی لیکن وہاں موبائل فون کی بیٹری ختم ہو گئی اور لوکیشن کے ذریعے رابطہ منقطع ہو گیا۔ اس کے باوجود پولیس نے تلاش جاری رکھی اور مقامی پولیس کی مدد سے ہیومن انٹیلیجنس کے ذریعے معلومات اکٹھی کیں۔ بالآخر ایک دور افتادہ مقام کا سراغ ملا جہاں لڑکی کو رکھا گیا تھا۔
چارسدہ پولیس نے صبح سویرے کارروائی کی، خواتین پولیس اہلکار بھی مسلح ٹیم کے ہمراہ موقع پر پہنچیں اور مقامی پولیس کی معاونت سے چھاپہ مار کر لڑکی کو بحفاظت بازیاب کروا لیا۔
کارروائی کے دوران ایک خاتون سمیت تین مبینہ ملزمان کو گرفتار کیا گیا۔ پولیس کے مطابق ابتدائی تفتیش میں واقعے کے پس منظر میں رشتے کا تنازع سامنے آیا ہے۔
یوں ایک باپ نے جس دن اپنی بیٹی کی مرضی کا احترام کرتے ہوئے اس کے لیے رشتے سے انکار کیا تھا، چند ہی دن بعد اسی انکار کے نتیجے میں بیٹی کو اغوا کیا گیا، لیکن پولیس نے بحفاظت بازیاب کروا لیا۔
اکثر ہمارے معاشرے میں بیٹی کی شادی کا فیصلہ اس کی زندگی کا سب سے بڑا فیصلہ ہوتا ہے، لیکن حیرت انگیز طور پر فیصلہ کرنے والوں میں خود وہ لڑکی شامل نہیں ہوتی جس نے ساری زندگی اس فیصلے کے نتائج بھگتنے ہوتے ہیں۔
اس باپ نے کم از کم اتنا ضرور کیا کہ اپنی بیٹی کو بولنے کا موقع دیا۔ بیٹی نے اپنی رائے دی اور باپ نے اس رائے کا احترام کیا۔ دیکھیں کہ بیٹی کا خدشہ کس قدر درست ثابت ہوا!
بیٹی کی زندگی کا فیصلہ کرنے سے پہلے ایک بار اس سے ضرور پوچھیں کہ وہ کیا چاہتی ہے۔ فقط ایک بار بیٹی کو سننا شاید اسے پوری زندگی کے عذاب سے بچانے کا باعث بنے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں