پنجاب: گھروں میں چلنے والے ٹیوشن سینٹرز اور اکیڈمیاں بھی نجی تعلیمی اداروں میں شامل.

29

لاہور – پنجاب حکومت نے گھروں پر چلنے والے ٹیوشن سینٹرز اور اکیڈمیوں کو نجی تعلیمی اداروں کے دائرے میں شامل کر لیا ہے، جس کے بعد ان پر ٹیکس اور یوٹیلیٹی بلز کے حوالے سے نئے اثرات مرتب ہو سکتے ہیں۔
پنجاب حکومت نے Punjab Private Educational Institutions Act 2026 میں ترمیم کر دی ہے، جس کے تحت رہائشی علاقوں میں گھروں سے چلنے والے ٹیوشن سینٹرز، کوچنگ سینٹرز اور اکیڈمیاں بھی نجی تعلیمی اداروں کی تعریف میں شامل ہوں گی۔
اس ترمیم کے بعد ایسے مراکز اور چھوٹے نجی اسکول درج ذیل اثرات کا سامنا کر سکتے ہیں:
· ٹیکس نظام کے تحت آ سکتے ہیں
· ان کی عمارتوں پر پراپرٹی ٹیکس عائد ہو سکتا ہے
· بجلی، گیس اور دیگر یوٹیلیٹی کنکشنز کو کمرشل تصور کیے جانے کا امکان ہے
آل پاکستان پرائیویٹ اسکولز کالجز ایسوسی ایشن نے ترمیم پر تحفظات کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ اس سے بالخصوص وہ خواتین اور لڑکیاں متاثر ہو سکتی ہیں جو گھروں میں محلے کے چند بچوں کو پڑھا کر محدود آمدنی حاصل کرتی ہیں۔
ایسوسی ایشن نے حکومت سے ترمیم واپس لینے اور اس کے نتیجے میں پڑنے والے اضافی مالی بوجھ پر دوبارہ غور کرنے کا مطالبہ کیا ہے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں