مانسہرہ میں ایک گروہ نے نوجوانوں کو بیرونِ ملک نوکری دینے کا جھانسہ دے کر لوٹنے کا دھندہ کیا، جس کا شکار ایک متاثرہ نوجوان فیصل خان ولد فضل غنی، رہائشی محلہ فیض آباد جندر بانڈہ، بنے۔ فیصل خان نے پریس بریفنگ میں بتایا کہ گلاب ولد نامعلوم، سکنہ بیدڑہ چنکی، جو اکثر ہمارے کباڑ کے ٹھیکے پر آتا تھا، نے ان سے کرغزستان ویزہ کے لیے پیسے لے کر روپوش ہو گیا۔
چھ ماہ بعد گلاب دوبارہ سامنے آیا اور معذرت کرتے ہوئے کہا کہ وہ فیصل خان کو سعودی عرب ورک ویزہ پر بھیج دے گا اور تمام ذمہ داری قبول کرتا ہے۔ اعتماد کرتے ہوئے فیصل خان نے 6 لاکھ 30 ہزار روپے گلاب کو بروئے گواہ ادا کیے، جبکہ اسلام آباد میں میڈیکل، پروٹیکٹر، کرایہ اور دیگر ضروریات پر تقریباً 3 لاکھ 50 ہزار روپے مزید خرچ کیے۔
فیصل خان نے بتایا کہ گلاب نے وعدہ کیا کہ سعودی عرب پہنچتے ہی اگلے دن نوکری شروع ہو جائے گی۔ تاہم سعودی عرب پہنچنے پر انہیں ویران عمارت میں بھیج دیا گیا، جہاں پہلے سے 60-70 پاکستانی نوجوان موجود تھے۔ وہاں کوئی دفتر یا منظم انتظام نہیں تھا۔ سپروائزر نے ماہانہ 1400 ریال کی نوکری کا وعدہ کیا، لیکن دو ماہ بعد وہ شعیب نامی ذمہ دار شخص کے ساتھ مل کر ویزہ پر خروج کر کے غائب ہو گیا۔
فیصل خان نے مزید بتایا کہ اس دوران وہ چھ ماہ تک وہاں موجود رہے اور تقریباً 3 لاکھ 50 ہزار روپے مزید خرچ کیے تاکہ نوکری حاصل کر سکیں۔ اس دوران ان کے اہل خانہ راولپنڈی میں دفتر کے چکر لگاتے رہے۔ آخرکار سعودی پولیس نے فیصل خان کو گرفتار کر کے جیل میں بند کیا اور بعد ازاں ڈی پورٹ کر کے پاکستان بھیج دیا۔
پاکستان پہنچنے کے بعد فیصل خان نے گلاب سے رابطہ کیا، جس نے دوبارہ اپنی غلطی تسلیم کی لیکن راولپنڈی ایجنٹ آفس پر الزامات لگانے شروع کر دیے۔
فیصل خان نے مطالبہ کیا کہ ایف آئی اے اور دیگر متعلقہ ادارے اس معاملے کی غیر جانبدارانہ انکوائری کریں اور گلاب اور اس کے ایجنٹ نیٹ ورک کے خلاف فوری قانونی کارروائی کریں تاکہ نہ صرف ان کی لٹی ہوئی رقم واپس ملے بلکہ انصاف بھی فراہم کیا جائے۔
مانسہرہ: بیرون ملک نوکریوں کے جھانسے میں گرفتار ہونے والے نوجوان کا سنسنی خیز انکشاف.
11