بفہ قتل کیس: عدالتی حکم پر کارروائی کے دوران فائرنگ، خاتون جاں بحق

13

بفہ کے علاقے مجاہد آباد کی رہائشی شاہین بی بی، جو شاکراللہ کی زوجہ اور محمد اکبر کی دختر تھیں، اپنے خاوند کے ساتھ جاری عدالتی کیس کی پیروی کر رہی تھیں۔ ذرائع کے مطابق آج سینئر سول جج کی عدالت نے جہیز کا سامان اور حق مہر سے متعلق کمرہ سیل کرنے کا حکم جاری کیا تھا۔
عدالتی حکم کے بعد مقتولہ عدالت کا آرڈر، عدالتی بیلف اور تھانہ بفہ کے ایک حوالدار اور لیڈی کانسٹیبل کو ساتھ لے کر متعلقہ مکان پر پہنچی۔ جیسے ہی وہ مکان کے اندر داخل ہوئیں تو ایف آئی آر کے متن کے مطابق پہلے سے موجود ملزمان نے فائرنگ کر دی جس کے نتیجے میں شاہین بی بی موقع پر ہی جاں بحق ہو گئیں۔
مقدمے میں نامزد ملزمان میں انعام اللہ، رفاقت اور رفیع اللہ شامل ہیں جو غلام حیدر کے بیٹے بتائے جاتے ہیں۔ پولیس رپورٹ کے مطابق مقتولہ کے بیٹے نور اللہ ولد شاکراللہ بھی اس موقع پر موجود تھے۔ واقعے کے بعد پولیس نے فوری کارروائی کرتے ہوئے رفاقت اور رفیع اللہ کو موقع سے گرفتار کر لیا جبکہ انعام اللہ چھت پھلانگ کر فرار ہونے میں کامیاب ہو گیا۔
تھانہ بفہ پولیس نے مقتولہ کے بھائی محمد خان ولد محمد اکبر کی مدعیت میں زیر دفعہ 91 کے تحت مقدمہ درج کر لیا ہے۔ گرفتار ملزمان کو مزید تفتیش کے لیے تھانے منتقل کر دیا گیا ہے۔
پولیس کے مطابق مقتولہ کی نعش کو ضروری قانونی کارروائی اور پوسٹ مارٹم کے بعد ورثا کے حوالے کر دیا گیا ہے جبکہ فرار ملزم کی گرفتاری کے لیے چھاپے مارے جا رہے ہیں۔ واقعے کی وجوہات جاننے کے لیے تحقیقات جاری ہیں۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں