ہری پور میں بجلی کی طویل اور غیر اعلانیہ لوڈشیڈنگ کے معاملے پر سابق اپوزیشن لیڈر اور پاکستان تحریکِ انصاف کے مرکزی رہنما عمر ایوب خان نے وفاقی حکومت اور مقامی سیاسی قیادت کو سخت تنقید کا نشانہ بنایا ہے۔ اپنے تفصیلی بیان میں انہوں نے کہا کہ رمضان المبارک جیسے بابرکت مہینے میں سحری اور افطار کے اوقات میں بجلی کی بندش نہایت افسوسناک اور عوام کے ساتھ “شرمناک سلوک” ہے۔
انہوں نے دعویٰ کیا کہ پی ٹی آئی کے دورِ حکومت میں خصوصی ہدایات جاری کی گئی تھیں کہ سحری اور افطار کے دوران بجلی کی بلا تعطل فراہمی یقینی بنائی جائے، تاکہ روزہ داروں کو کسی قسم کی پریشانی کا سامنا نہ کرنا پڑے۔ ان کے مطابق موجودہ حکومت اس بنیادی سہولت کی فراہمی میں بھی ناکام ہو چکی ہے، جس کا خمیازہ عام شہری بھگت رہے ہیں۔
مقامی قیادت پر براہِ راست تنقید
عمر ایوب خان نے ہری پور سے تعلق رکھنے والے مسلم لیگ (ن) کے رہنماؤں بابر نواز، کیپٹن صفدر اور مرتضیٰ عباسی کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ انتخابات کے دوران کیے گئے وعدے عملی طور پر پورے نہیں ہوئے۔ ان کا کہنا تھا کہ:
100 یونٹ تک بجلی کے بل معاف کرنے کا وعدہ وفا نہ ہو سکا
تربیلا ڈیم سے متاثرہ خاندانوں کو پلاٹ فراہم کرنے کا اعلان عملی شکل اختیار نہ کر سکا
سستا آٹا اور چینی فراہم کرنے کے دعوے صرف انتخابی مہم تک محدود رہے
انہوں نے کہا کہ عوام کو ریلیف دینے کے بجائے مہنگائی میں مسلسل اضافہ کیا گیا ہے جس سے متوسط اور غریب طبقہ شدید متاثر ہو رہا ہے۔
حکومتی ترجیحات پر سوالات
سابق اپوزیشن لیڈر نے مزید کہا کہ ایک جانب حکومت بالواسطہ ٹیکسوں میں اضافہ کر کے عوام پر مالی بوجھ ڈال رہی ہے، جبکہ دوسری جانب اربوں روپے کے ترقیاتی اور غیر ترقیاتی اخراجات کیے جا رہے ہیں۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ 11 ارب روپے سے زائد مالیت کا طیارہ خریدنا عوامی مشکلات کے برعکس حکومتی ترجیحات کی عکاسی کرتا ہے۔
انہوں نے موجودہ سیٹ اپ کو “فارم 47 کی حکومت” قرار دیتے ہوئے کہا کہ ہری پور سمیت ملک کے مختلف علاقوں میں سردیوں اور رمضان کے دوران بھی بجلی کی شدید قلت حکومتی نااہلی کا واضح ثبوت ہے۔ ان کے مطابق عوام کو فوری اور عملی ریلیف فراہم کرنا حکومت کی ذمہ داری ہے، بصورت دیگر عوامی ردِعمل میں مزید شدت آ سکتی ہے۔
ہری پور میں لوڈشیڈنگ پر شدید ردِعمل: عمر ایوب خان کی وفاقی حکومت اور مقامی قیادت پر کڑی تنقید.
8