پشاور ہائی کورٹ کے ایبٹ آباد بنچ نے کینٹ پبلک اسکول ایبٹ آباد کے قریب پیش آنے والے دلخراش ڈمپر حادثے میں نامزد ڈرائیور کی ضمانت قبل از گرفتاری کی درخواست مسترد کر دی ہے۔ عدالت نے قرار دیا کہ مقدمے کی نوعیت، شواہد اور واقعے کی سنگینی کو دیکھتے ہوئے اس مرحلے پر ملزم کو ضمانت کا ریلیف نہیں دیا جا سکتا۔
یہ درخواستِ ضمانت بعنوان محسن بنام ریاست سماعت کے لیے پیش ہوئی، جس کی سماعت معزز جسٹس اورنگزیب نے کی۔ سماعت کے دوران فریقین کے وکلاء نے تفصیلی دلائل دیے اور مقدمے کا مکمل ریکارڈ عدالت کے روبرو پیش کیا گیا۔
استغاثہ کا مؤقف
مدعی کے وکیل نے عدالت میں پیش ہو کر ضمانت کی بھرپور مخالفت کی۔ ان کا کہنا تھا کہ:
ملزم حادثے میں براہِ راست ملوث ہے۔
استغاثہ کے پاس موجود شواہد ملزم کے کردار کو واضح طور پر ظاہر کرتے ہیں۔
واقعہ مزید تفتیش کا متقاضی نہیں بلکہ شواہد مکمل اور مضبوط ہیں۔
ملزم کے پاس نہ ہی HTV اور نہ LTV ڈرائیونگ لائسنس موجود تھا۔
ڈمپر اسکول کے اوقات میں ممنوعہ وقت کے دوران لایا گیا، جو سنگین غفلت اور قانون شکنی ہے۔
وکیل کے مطابق یہ ایک انتہائی حساس مقدمہ ہے کیونکہ اس میں کم عمر اور معصوم اسکول کے بچے متاثر ہوئے، جس سے پورا علاقہ سوگ میں ڈوب گیا تھا۔
صفائی کا مؤقف
ملزم کی جانب سے نصیر تنولی ایڈووکیٹ ہائی کورٹ نے دلائل دیتے ہوئے مؤقف اختیار کیا کہ ملزم کو ضمانت کا حق دیا جائے اور اسے قانون کے مطابق ریلیف فراہم کیا جائے۔ تاہم عدالت نے دلائل سننے کے بعد استغاثہ کے مؤقف کو زیادہ وزن دیا۔
پس منظر
یاد رہے کہ گزشتہ سال کینٹ پبلک اسکول ایبٹ آباد کے باہر پیش آنے والے اس المناک حادثے میں آٹھ بچے جاں بحق ہوئے تھے، جن میں تین حقیقی بہنیں بھی شامل تھیں۔ اس افسوسناک واقعے نے نہ صرف ایبٹ آباد بلکہ پورے صوبے کو غمزدہ کر دیا تھا اور شہریوں کی جانب سے ذمہ داران کے خلاف سخت کارروائی کا مطالبہ کیا گیا تھا۔
عدالتی فیصلہ
فریقین کے دلائل مکمل ہونے کے بعد معزز عدالت نے مختصر فیصلہ سناتے ہوئے ملزم کی ضمانت قبل از گرفتاری کی درخواست مسترد کر دی اور قرار دیا کہ موجودہ حالات میں ملزم کو کسی قسم کی رعایت نہیں دی جا سکتی۔
عدالت کے اس فیصلے کو متاثرہ خاندانوں کے لیے ایک اہم پیش رفت قرار دیا جا رہا ہے، جبکہ مقدمے کی آئندہ سماعت ٹرائل کورٹ میں جاری رہے گی۔
پشاور ہائی کورٹ ایبٹ آباد بنچ کا بڑا فیصلہ: ڈمپر حادثہ کیس میں ملزم کی ضمانت مسترد.
9