خیبر پختونخوا میں ادویات اسکینڈل: سزا کے بعد بحالی پر سوالات اٹھنے لگے.

25

خیبر پختونخوا حکومت کے زیرِ انتظام چار ارب چوالیس کروڑ روپے مالیت کے مشہور ادویات اسکینڈل میں مبینہ طور پر مرکزی کردار سمجھے جانے والے ڈاکٹر سراج کو کرپشن ثابت ہونے پر 17 کروڑ روپے جرمانہ عائد کرکے ملازمت سے برطرف کردیا گیا تھا۔ تاہم حیران کن طور پر بعد ازاں اسی برطرف افسر کو دوبارہ محکمانہ بحالی دیتے ہوئے گریڈ 20 میں ترقی بھی فراہم کر دی گئی، جس نے سرکاری حلقوں اور عوامی سطح پر کئی سوالات کو جنم دے دیا ہے۔ ذرائع کے مطابق ادویات کی خریداری میں مبینہ مالی بے ضابطگیوں کے باعث یہ بڑا اسکینڈل سامنے آیا تھا، جس پر تحقیقات کے بعد کارروائی کی گئی تھی، لیکن حالیہ فیصلے نے احتساب کے عمل کی شفافیت پر بھی بحث شروع کر دی ہے۔ ناقدین کا کہنا ہے کہ ایسے معاملات میں سخت اور مستقل فیصلے نہ ہونے سے بدعنوانی کے خلاف حکومتی اقدامات کی ساکھ متاثر ہو سکتی ہے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں