🚨 وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا کی زیر صدارت اہم اجلاس، سالانہ ترقیاتی پروگرام 2026-27 کے بڑے منصوبوں پر غور 🚨

23

پشاور:
وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا محمد سہیل خان آفریدی کی زیر صدارت محکمہ پلاننگ اینڈ ڈویلپمنٹ کا ایک اہم اجلاس منعقد ہوا، جس میں آئندہ مالی سال 2026-27 کے سالانہ ترقیاتی پروگرام (ADP) کے تحت مختلف شعبوں میں نئے منصوبوں اور پالیسی اقدامات پر تفصیلی غور کیا گیا۔
اجلاس میں سماجی بہبود، کھیل، سیاحت، ریلیف اور ٹرانسپورٹ سمیت متعدد اہم شعبوں میں ترقیاتی منصوبوں کی منظوری اور بہتری کے لیے تجاویز پیش کی گئیں۔ وزیراعلیٰ نے ہدایت جاری کی کہ صوبے کی ہر تحصیل میں ریسکیو اسٹیشنز کی دستیابی کو یقینی بنایا جائے تاکہ کسی بھی ہنگامی صورتحال میں فوری امداد فراہم کی جا سکے۔
وزیراعلیٰ نے صوبے کی سوشیو اکنامک رجسٹری کو رواں سال دسمبر تک مکمل کرنے کی ہدایت بھی دی، تاکہ مستحق افراد کی درست نشاندہی کر کے حکومتی سہولیات ان تک مؤثر انداز میں پہنچائی جا سکیں۔
اجلاس میں جدید ٹیکنالوجی کے فروغ پر بھی زور دیا گیا، جس کے تحت الیکٹرک بائیکس اور اسکوٹیز کی صنعت کے قیام، ہیلی کاپٹر کے ذریعے سیاحت (ہیلی ٹورازم) کے فروغ اور ماحول دوست ٹرانسپورٹ نظام کے امکانات کا جائزہ لینے کی ہدایت دی گئی۔
سماجی بہبود کے شعبے میں “زمونگ کور” کے نئے مراکز، گونگے اور بہرے بچوں کے لیے خصوصی سکولز کے قیام، موجودہ تعلیمی اداروں کی اپ گریڈیشن، دارالامانوں کی بہتری اور بایونک مصنوعی اعضا (Artificial Limbs) بنانے کی ورکشاپس کے قیام کی تجاویز بھی زیر غور آئیں۔
خصوصی بچوں کے لیے تعلیمی وظائف، سکالرشپس اور جدید تعلیمی کمپلیکسز کے قیام پر بھی سنجیدگی سے غور کیا گیا، تاکہ انہیں بہتر تعلیمی مواقع فراہم کیے جا سکیں۔
کھیلوں کے شعبے میں ہزارہ اور مالاکنڈ ڈویژن میں تحصیل سطح پر گراؤنڈز، بٹگرام اور دیر اپر میں جدید سپورٹس کمپلیکسز، خواتین کے لیے انڈور گیمز کی سہولیات اور نوجوانوں کے لیے جوان مراکز قائم کرنے کی تجاویز پیش کی گئیں۔
سیاحت کے فروغ کے لیے نئے سیاحتی مقامات کی تلاش، آثار قدیمہ کی بحالی، تاریخی ریلوے اسٹیشنز کی مرمت اور ایڈونچر ٹورازم کے منصوبے بھی اجلاس کا حصہ رہے۔
ٹرانسپورٹ کے شعبے میں کوہاٹ تا خرلاچی ریل سروس، سب اربن ٹرین سسٹم، سیاحتی مقاصد کے لیے ڈبل ڈیکر الیکٹرک بسوں کی فراہمی اور بی آر ٹی پشاور کے لیے نئی الیکٹرک بسوں کی خریداری کی تجاویز زیر غور آئیں۔ اس کے علاوہ بی آر ٹی کو چارسدہ، نوشہرہ اور خیبر تک توسیع دینے کا منصوبہ بھی پیش کیا گیا۔
ریسکیو سروسز کے حوالے سے نئے ریسکیو اسٹیشنز کے قیام اور معدنیات والے اضلاع میں ایمرجنسی سروسز کو مائنز ریسکیو آپریشنز تک توسیع دینے کی تجویز بھی شامل تھی۔





وزیراعلیٰ نے اس عزم کا اظہار کیا کہ ترقی کے ثمرات صوبے کے ہر علاقے تک پہنچانا حکومت کی اولین ذمہ داری ہے، اور آنے والا ترقیاتی پروگرام خیبرپختونخوا کی معاشی و سماجی ترقی میں ایک اہم سنگ میل ثابت ہوگا۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں