“وردی بمقابلہ وکالت” — ایبٹ آباد واقعہ نے نئی بحث چھیڑ دی، حقیقت کیا ہے؟

25

ایبٹ آباد میں پیش آنے والے ایک تنازعے کی ویڈیوز سوشل میڈیا پر وائرل ہونے کے بعد معاملہ عوامی توجہ کا مرکز بن گیا ہے، جہاں ایک جانب لیڈی کانسٹیبل جبکہ دوسری جانب وکیل اپنے اپنے مؤقف پر قائم ہیں۔
تفصیلات کے مطابق ایبٹ آباد میں پیش آنے والے اس واقعے کے بعد مختلف ویڈیوز منظر عام پر آئیں، جن میں دونوں فریقین کے درمیان تلخ جملوں کا تبادلہ بھی سنائی دیتا ہے۔
وکیل ملک حیدر علی کے مطابق “مشال خان بنام سرکار” کیس کی پیشی کے بعد باوردی لیڈی کانسٹیبل نگہت بی بی، ان کی والدہ اور ماموں نے مبینہ طور پر ان کا راستہ روکا، دھمکیاں دیں اور گاڑی سے اتارنے کی کوشش کی، جس کے بعد سکیورٹی اہلکار حرکت میں آئے اور معاملہ تھانے تک جا پہنچا۔
دوسری جانب، سوشل میڈیا صارفین کی جانب سے بھی کئی سوالات اٹھائے جا رہے ہیں، خاص طور پر یہ کہ اگر صورتحال واقعی خطرناک تھی تو خواتین کے پاس ایسا کیا تھا جس سے فوری خطرہ محسوس کیا گیا؟
وائرل ویڈیوز میں سنائی دینے والے جملے جیسے:
“چھوڑ دے، اس دی نوکری جُلسی”،
“اس میرا راہ روکیا اے”،
اور “شیشہ اوتاں کر”
سوشل میڈیا پر بحث کا مرکز بن چکے ہیں۔
مبصرین کا کہنا ہے کہ چند ویڈیو کلپس کی بنیاد پر کسی ایک فریق کو مکمل قصوروار یا بےگناہ قرار دینا قبل از وقت ہوگا، اور اصل حقائق غیرجانبدارانہ تحقیقات کے بعد ہی سامنے آئیں گے۔
شہری حلقوں کی جانب سے مطالبہ کیا جا رہا ہے کہ:
▪️ واقعے کی شفاف اور غیرجانبدارانہ انکوائری کی جائے
▪️ ویڈیوز اور شواہد کا فرانزک جائزہ لیا جائے
▪️ دونوں فریقین کا مؤقف سنا جائے
▪️ اختیارات کے ممکنہ ناجائز استعمال پر بلاامتیاز کارروائی کی جائے


قانونی ماہرین کے مطابق قانون کی نظر میں سب برابر ہیں، نہ وردی کے زور پر دباؤ قابل قبول ہے اور نہ ہی وکالت کے نام پر دھونس۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں