واشنگٹن: امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے سعودی عرب کے ساتھ ایک تاریخی سول جوہری تعاون معاہدے کی باضابطہ منظوری دے دی، جسے دونوں ممالک کے درمیان توانائی کے شعبے میں اہم پیش رفت قرار دیا جا رہا ہے۔
وال اسٹریٹ جرنل کی رپورٹ کے مطابق اس معاہدے کے تحت امریکا سعودی عرب کو سویلین جوہری پروگرام کے قیام اور ترقی میں تعاون فراہم کرے گا، جس کے ذریعے مملکت کو پرامن مقاصد کے لیے جوہری ٹیکنالوجی تک رسائی حاصل ہوگی۔
رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ امریکا اور سعودی عرب کے درمیان ہونے والے اس جوہری تعاون معاہدے کی مدت 30 سال ہوگی، جبکہ اس کی مالیت کئی ارب ڈالر ہونے کا تخمینہ لگایا گیا ہے۔
رپورٹ کے مطابق اس معاہدے سے سعودی عرب میں جوہری بنیادی ڈھانچے کی تعمیر اور ترقی میں امریکی کمپنیوں کو مرکزی کردار حاصل ہوگا، جبکہ دیگر غیر ملکی کمپنیوں کی شمولیت محدود رکھی جائے گی۔
امریکی اخبار کا کہنا ہے کہ یہ معاہدہ مستقبل میں سعودی عرب کے لیے یورینیئم کی افزودگی کے امکانات بھی پیدا کر سکتا ہے، تاہم اس حوالے سے مزید تفصیلات سامنے نہیں آئی ہیں۔
ٹرمپ نے سعودی عرب کے ساتھ تاریخی سول جوہری معاہدے کی منظوری دے دی.
17