بدین: کڈھن میں مبینہ پولیس مقابلے پر سوالات، سابق پولیس سرجن نے پولیس کے مؤقف پر اعتراضات اٹھا دیے.

32

بدین: کڈھن میں مبینہ پولیس مقابلے کے دوران نوجوان کی ہلاکت کا معاملہ مزید متنازع ہوگیا۔ پولیس نے واقعے کو حقیقی پولیس مقابلہ اور پوسٹ مارٹم کو بھی درست قرار دیا، تاہم سابق پولیس سرجن ڈاکٹر وقار احمد نے پولیس کے مؤقف اور دستیاب ویڈیوز کی بنیاد پر متعدد سوالات اٹھا دیے۔
ڈاکٹر وقار احمد کے مطابق نوجوان کو لگنے والی گولیاں انتہائی قریب سے چلائی گئی معلوم ہوتی ہیں۔ ان کا دعویٰ ہے کہ اگر پولیس کے مقدمے میں ہوائی فائرنگ کا ذکر کیا گیا ہے تو پھر گولیوں کا جسم سے آرپار ہونا قابلِ غور سوال ہے۔
سابق پولیس سرجن نے جائے وقوعہ اور لاش ورثا کے حوالے کیے جانے سے متعلق ویڈیوز کا حوالہ دیتے ہوئے یہ بھی دعویٰ کیا کہ ان میں پوسٹ مارٹم کے واضح نشانات نظر نہیں آتے۔ ان کے مطابق ممکنہ طور پر میڈیکو لیگل رپورٹ جسم کے بیرونی معائنے کی بنیاد پر تیار کی گئی۔
ڈاکٹر وقار احمد نے یہ سوال بھی اٹھایا کہ ویڈیو میں نوجوان کے ہاتھ میں پستول موجود دکھائی دے رہا ہے، جس کی وجہ سے واقعے کی مزید شفاف تحقیقات کی ضرورت ہے۔
واضح رہے کہ 26 جولائی کو کڈھن میں مبینہ پولیس مقابلے کے دوران نوجوان کی ہلاکت پر اس کے ورثا نے واقعے کو جعلی قرار دیتے ہوئے قبرکشائی اور انصاف کی فراہمی کا مطالبہ کیا تھا۔
پولیس مقابلے کے خلاف ورثا کی درخواست پر سندھ ہائی کورٹ کے سرکٹ بینچ حیدرآباد میں سماعت 14 ستمبر کو مقرر ہے۔ عدالت میں سماعت کے بعد معاملے سے متعلق مزید حقائق سامنے آنے کی توقع ہے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں