صوبہ ہزارہ کی قرارداد منظور کروا کر عوام کو بے وقوف بنایا جا رہا ہے

54

ایبٹ آباد ہزارہ قومی محاز کے مرکزی ترجمان بابو بشیر نے اپنے بیان میں کہا کہ صوبائی اسمبلی میں صوبہ ہزارہ کی قرارداد منظور کروا کر عوام کو بے وقوف بنایا جا رہا ہے جبکہ ہزارہ قومی محاز ایسی جھوٹی قراردادوں کی منظوری پر یقین نہیں رکھتی، صوبائی، قومی یا سینٹ پر پیش ہو سکتی ہے اور آئین پاکستان کے آرٹیکل (4-239) صاف بتاتا ہے کہ صوبہ بنانے کے لیے آئینی بل ناگزیر ہے اور اس بل کو دوتہائی اکثریت سے منظور کرنا ضروری ہوتا ہے، جبکہ صوبائی اسمبلی کے ممبران نے ہزارہ کی عوام کو ایک بار پھر دھوکے میں رکھ کر شائع کردیا ہے کہ صوبائی اسمبلی سے صوبہ ہزارہ کی قرارداد منظور ہو گئی ہے.

جبکہ اب نیشنل اسمبلی کے ممبران صوبہ ہزارہ کی قرارداد پر عملدرآمد کریں، قراردادوں کے ذریعے صوبے نہیں بنتے، لیکن صوبائی اسمبلی کے ممبران نے جان بوجھ کر صوبہ ہزارہ کی تیسری بار قرارداد منظور کرنا شائع کرتی ہے، جبکہ یہ قرار داد غیر آئینی و غیر قانونی قرارداد لائی گئی ہے تا کہ عوام کو پھر سے دھوکے میں رکھا جائے.

ہم قوم کو آگاہ کرنا چاہتے ہیں کہ آئین پاکستان کے آرٹیکل (4-239)کے مطابق صوبے کی حدود میں تبدیلی صرف اس وقت ممکن ہے جب پہلے متعلقہ صوبائی اسمبلی خیبر پختونخوا نے اپنی کل رکنیت کے دوتہائی ووٹوں سے آئینی ترمیمی بل منظور کرے پھر قومی اسمبلی اسے دو تہائی اکثریت منظور کرے اس طرح سینٹ میں اسی دو تہائی ووٹوں سے منظور کرے بعدازاں بل صدر پاکستان کی منظور ی کے بعد آئین کا حصہ بن جاتا ہے، مرکزی ترجمان ہزارہ قومی محاز بابو بشیر نے واضح کیا ہے کہ عوام دھوکہ کھا سکتی ہے .

لیکن ہمارے قائد آصف ملک ایڈووکیٹ مرحوم نے ہمیں اپنے حقوق کی خاطر لڑنے کے لیے اور اپنا حقوق لینے کے لیے ہر بات سے آگاہ کیا ہوا ہے، صوبے اس طرح نہیں بنتے جس طرح صوبائی اسمبلی نے عوام سے دھوکہ کیا ہے، عوام متفقہ ہوکر اپنے صوبے کی آواز کو بلند کرے اور صوبائی اسمبلی میں اپنے نمائندہ منتخب کر کے بھیجے تو صوبہ ہزارہ کی قرارداد بھی منظور ہو گی اور صوبہ ہزارہ بھی بنے گا۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں