ایبٹ آباد: شہریوں کا کہنا ہے کہ ایبٹ آباد میں بڑھتی ہوئی بدامنی پولیس نظام خطرے کی گھنٹی بجا رہا ہے۔
ایبٹ آباد، جو کبھی پرامن شہر کی علامت سمجھا جاتا تھا، اب تیزی سے نقصِ امن کی سنگین صورتحال کی طرف بڑھ رہا ہے۔ شہر میں بڑھتے ہوئے جرائم نے ڈی پی او ایبٹ آباد، ڈی آئی جی ہزارہ اور آئی جی خیبر پختونخواہ کے لیے واضح پیغام دے دیا ہے کہ اب سر جوڑ کر بیٹھنے اور سخت فیصلے کرنے کا وقت آ گیا ہے۔
جرائم پیشہ عناصر کی بڑھتی ہوئی جسارت نے شہریوں میں خوف کی فضا پیدا کر دی ہے۔ اگر فوری اور عملی اقدامات نہ کیے گئے تو ایبٹ آباد بھی کراچی طرز کی سنگین وارداتوں کی زد میں آ سکتا ہے۔ صورتحال کی سنگینی یہی بتاتی ہے کہ محکمہ پولیس کے اندر واقعی سزا و جزا کا سسٹم تیز کرنا ہوگا۔
ایبٹ آباد میں جرائم بڑھنے کی سب سے بڑی وجہ پولیس اہلکاروں کی اپنے ہی مقامی تھانوں میں طویل تعیناتیاں ہیں۔ تناول کے اہلکار تناول کے تھانوں میں، گلیات کے لوگ گلیات کے تھانوں میں، حویلیاں کے اہلکار حویلیاں کے تھانوں میں پورا ضلع رشتے داری، برادری اور مقامی تعلق داری کے چکر میں پھنس گیا ہے۔
یہی وجہ ہے کہ مقامی اہلکار اپنے ہی علاقے کے جرائم پیشہ عناصر کے خلاف کارروائی سے کتراتے ہیں۔یہ ایک سنگین انتظامی غلطی ہے جس نے پورے ضلع میں پولیس کی رٹ کو کمزور کر دیا ہے۔
اعلیٰ حکام سے پرزور مطالبہ ہے کہ مقامی افراد کی مقامی تھانوں میں تعیناتی فوری بند کی جائے۔
پولیس کو فری ہینڈ دیا جائے تاکہ وہ بلاخوف و بلا امتیاز کارروائی کر سکے۔
جرائم پیشہ عناصر کی بلا تفریق سرکوبی کے لیے سخت اور فوری اقدامات کیے جائیں۔
جرائم سے پاک اور محفوظ معاشرہ ہی وقت کی اہم ترین ضرورت ہےاور اب اس کے بغیر کوئی راستہ باقی نہیں رہا۔