مانسہرہ: امامت کے تنازعے پر مسجد میں تصادم، دو نمازی زخمی

40

مانسہرہ کے علاقے کنیٹ فرید آباد میں واقع مسجد شاہ اسماعیل شہید میں امامت کے تنازعے پر پیش آنے والے افسوسناک واقعے میں دو نمازی چھریوں کے وار سے شدید زخمی ہو گئے۔تھانہ خاکی میں یحییٰ ولد غلام ربانی کی مدعیت میں درج ایف آئی آر کے مطابق، مسجد کے امام قاری اسرار گزشتہ چار پانچ روز سے چھٹی پر تھے۔ ان کی غیر موجودگی میں جب مفتی خلیل الرحمن مغرب کی نماز پڑھانے کے لیے مصلے پر کھڑے ہوئے تو اہلِ محلہ کے بعض افراد نے ان کی امامت میں نماز ادا کرنے سے انکار کر دیا۔
رپورٹ کے مطابق اس صورتحال پر مفتی خلیل الرحمن مشتعل ہو گئے اور مبینہ طور پر شور شرابہ شروع کر دیا۔ ایف آئی آر میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ انہوں نے مسجد میں موجود اپنے ساتھیوں اور حقیقی بھائی کو آواز دی۔ بعد ازاں ان کا بھائی، جو مبینہ طور پر اسلحہ سے مسلح تھا، دیگر افراد احتشام الحق، اعجاز الحق، اظہار الحق اور حفیظ ولد غلام ربانی کے ہمراہ مسجد کا مرکزی دروازہ بند کر کے اندر موجود نمازیوں پر چھریوں سے حملہ آور ہو گیا۔
حملے کے نتیجے میں یحییٰ ولد غلام ربانی اور محمد جان نامی نمازی شدید زخمی ہو گئے، جنہیں طبی امداد کے لیے قریبی ہسپتال منتقل کیا گیا۔
تھانہ خاکی پولیس نے واقعہ کا مقدمہ علت نمبر 70 کے تحت زیر دفعات 324/34 کے تحت نامزد ملزمان کے خلاف درج کر کے تفتیش کا آغاز کر دیا ہے۔
ذرائع کے مطابق مذکورہ مسجد میں امامت کے مسئلے پر اس سے قبل بھی دو گروپوں کے درمیان تصادم ہو چکا ہے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں