مانسہرہ میں تھانہ پھلڑہ کے ایس ایچ او حمزہ کے خلاف ایک عام شہری کے مبینہ قتل کا سنگین مقدمہ درج کر لیا گیا ہے، جس کے بعد علاقے میں شدید تشویش اور غم و غصہ پایا جا رہا ہے۔
تفصیلات کے مطابق مقتول عباس ارشد کے بھائی علی اصغر کی مدعیت میں تھانہ پھلڑہ میں ایف آئی آر نمبر 43 درج کی گئی۔ مقدمے کے متن کے مطابق یہ واقعہ 13 فروری 2026 کو سہ پہر تقریباً 4 بجے لوھدر کٹھہ کے مقام پر پیش آیا۔ ایف آئی آر میں مؤقف اختیار کیا گیا ہے کہ عباس ارشد اپنے ساتھیوں کے ہمراہ موٹر سائیکل پر جا رہا تھا کہ راستے میں پہلے سے موجود ایس ایچ او حمزہ اور اس کے ساتھیوں نے انہیں رکنے کا اشارہ کیا۔
مدعی کے مطابق جیسے ہی عباس ارشد نے موٹر سائیکل روکی، ایس ایچ او حمزہ نے مبینہ طور پر پسٹل نکال کر سیدھی فائرنگ کر دی۔ فائرنگ کے نتیجے میں عباس ارشد کو متعدد گولیاں لگیں اور وہ شدید زخمی ہو کر موقع پر ہی جاں بحق ہو گیا۔ ایف آئی آر میں الزام عائد کیا گیا ہے کہ ملزمان فائرنگ کے بعد موقع سے فرار ہونے میں کامیاب ہو گئے۔
پولیس نے مدعی کے بیان کی روشنی میں ایس ایچ او حمزہ اور دیگر نامزد ساتھیوں کے خلاف تعزیراتِ پاکستان کی دفعہ 302 کے تحت قتل کا مقدمہ درج کر کے تفتیش کا آغاز کر دیا ہے۔ ابتدائی اطلاعات کے مطابق واقعے کی ممکنہ وجہ سابقہ عداوت بتائی جا رہی ہے، تاہم حتمی حقائق تفتیش مکمل ہونے کے بعد ہی سامنے آئیں گے۔
علاقہ مکینوں اور سماجی حلقوں نے ایک حاضر سروس پولیس افسر کا نام مرکزی ملزم کے طور پر سامنے آنے پر گہری تشویش کا اظہار کیا ہے۔ شہریوں نے آئی جی خیبر پختونخوا اور دیگر اعلیٰ حکام سے مطالبہ کیا ہے کہ واقعے کی غیر جانبدار اور شفاف تحقیقات کو یقینی بنایا جائے، تاکہ اگر الزام ثابت ہو تو ذمہ داروں کو قانون کے مطابق سخت سزا دی جا سکے اور عوام کا قانون نافذ کرنے والے اداروں پر اعتماد بحال ہو۔
مانسہرہ: تھانہ پھلڑہ کے ایس ایچ او پر شہری کے قتل کا مقدمہ درج، علاقے میں تشویش کی لہر.
13