ایبٹ آباد میں واقع فرنٹیر میڈیکل کالج میں زیرِ تعلیم ایک طالبہ کی پراسرار موت نے شہر بھر میں تشویش کی لہر دوڑا دی ہے۔ ذرائع کے مطابق طالبہ کی لاش کالج ہاسٹل کے کمرے سے برآمد ہوئی، جس کے بعد پولیس اور ضلعی انتظامیہ نے موقع پر پہنچ کر کارروائی کا آغاز کیا۔
متوفیہ طالبہ کی شناخت زارا کے نام سے ہوئی ہے، جس کا تعلق کوہاٹ سے بتایا جا رہا ہے۔ وہ ڈاکٹر بننے کے خواب کے ساتھ ایبٹ آباد آئی تھیں اور کالج میں زیرِ تعلیم تھیں۔ افسوسناک واقعے کے بعد ان کی میت آبائی شہر کوہاٹ روانہ کیے جانے کی اطلاعات ہیں۔
انتظامیہ کا متضاد مؤقف
ابتدائی طور پر کالج اور اسپتال انتظامیہ کی جانب سے مؤقف اختیار کیا گیا کہ طالبہ کی موت گیس ہیٹر سے دم گھٹنے کے باعث ہوئی، تاہم بعد ازاں یہ بات سامنے آئی کہ متعلقہ کمرے میں کوئی گیس ہیٹر موجود ہی نہیں تھا۔ اس کے بعد واقعے کو خودکشی قرار دینے کی باتیں سامنے آئیں، جس پر اہلِ خانہ نے شدید اعتراضات اٹھائے ہیں۔
اہلِ خانہ کے تحفظات
طالبہ کے اہلِ خانہ کا کہنا ہے کہ انہیں اعتماد میں لیے بغیر پوسٹ مارٹم کیا گیا، جبکہ وہ اس وقت تک ایبٹ آباد نہیں پہنچے تھے۔ خاندان کے مطابق نہ صرف انہیں بروقت اطلاع نہیں دی گئی بلکہ کئی اہم امور میں بھی شفافیت کا فقدان رہا۔ مزید برآں، پولیس کی جانب سے لاش کی تصاویر بنانے کی اجازت نہ دینے پر بھی سوالات اٹھائے جا رہے ہیں۔
اہلِ خانہ کا کہنا ہے کہ جب تک مکمل اور غیر جانبدار تحقیقات نہیں ہوتیں، وہ کسی بھی سرکاری مؤقف کو تسلیم نہیں کریں گے۔ انہوں نے اعلیٰ حکام سے مطالبہ کیا ہے کہ واقعے کی جوڈیشل یا آزادانہ انکوائری کرائی جائے تاکہ حقائق سامنے آ سکیں۔
ماضی کا واقعہ بھی سوالیہ نشان
یاد رہے کہ چند سال قبل بھی اسی ادارے میں ایک طالبعلم کی موت کا واقعہ پیش آ چکا ہے، جس کے بعد ایک بار پھر ہاسٹل سیکیورٹی، نگرانی کے نظام اور انتظامی امور پر سوالات اٹھ رہے ہیں۔
واقعے کے بعد طلبہ اور شہری حلقوں میں بے چینی پائی جا رہی ہے۔ سوشل میڈیا پر بھی اس معاملے کی شفاف تحقیقات کا مطالبہ زور پکڑ رہا ہے۔ پولیس کا کہنا ہے کہ واقعے کی مختلف پہلوؤں سے تحقیقات جاری ہیں اور حقائق سامنے آنے پر مزید تفصیلات فراہم کی جائیں گی۔
ایبٹ آباد: فرنٹیر میڈیکل کالج کی طالبہ کی پراسرار موت، اہلِ خانہ کا شفاف تحقیقات کا مطالبہ.
26