پشاور: ایمل ولی خان، مرکزی صدر عوامی نیشنل پارٹی (اے این پی)، نے خیبر پختونخوا میں اہم شاہراہوں اور موٹر ویز کی مسلسل بندش پر سخت ردِعمل دیتے ہوئے وفاقی اور صوبائی حکومتوں کو کڑی تنقید کا نشانہ بنایا ہے۔
اپنے ایک بیان میں انہوں نے کہا کہ سڑکوں کی بندش، دھرنوں اور سیاسی کشمکش کے باعث سب سے زیادہ مشکلات عام شہریوں کو برداشت کرنا پڑ رہی ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ کاروبار زندگی مفلوج ہو کر رہ گیا ہے، مریضوں کو بروقت اسپتال پہنچانے میں شدید رکاوٹ پیش آرہی ہے، طلبہ امتحانات اور تعلیمی سرگرمیوں سے متاثر ہو رہے ہیں جبکہ ٹرانسپورٹرز اور یومیہ اجرت پر کام کرنے والے مزدور معاشی بحران کا شکار ہو چکے ہیں۔
ایمل ولی خان نے کہا، “اس تمام صورتحال میں سب سے زیادہ نقصان پختونخوا کے عوام کو اٹھانا پڑ رہا ہے۔ یہ کیا افراتفری اور بدنظمی پھیلائی گئی ہے؟ موجودہ حالات نے عوام کی زندگی اجیرن بنا دی ہے۔” انہوں نے سوال اٹھایا کہ سیاسی تنازعات اور اقتدار کی رسہ کشی کا خمیازہ آخر صوبے کے عوام کیوں بھگتیں؟
انہوں نے مزید کہا کہ سیاسی اختلافات کو عوامی مسائل پر مسلط کرنا کسی طور مناسب نہیں۔ “آخر اس ساری کشمکش میں صوبے کے عوام کا کیا قصور ہے؟ کیا بانی پی ٹی آئی کو ہم نے قید کیا ہے؟ اگر کسی سیاسی شخصیت کی گرفتاری یا رہائی کا معاملہ ہے تو اس کا حل سیاسی اور قانونی فورمز پر نکالا جائے، سڑکیں بند کر کے عام آدمی کی زندگی کو مفلوج نہ کیا جائے۔”
اے این پی کے مرکزی صدر نے وفاق اور صوبائی حکومتوں کے درمیان جاری تناؤ کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے اسے ایک سوچی سمجھی حکمت عملی قرار دیا اور کہا کہ دونوں حکومتیں سیاسی پوائنٹ اسکورنگ کے بجائے عوامی ریلیف کو ترجیح دیں۔ انہوں نے مطالبہ کیا کہ فوری طور پر شاہراہوں کو کھولا جائے، ٹریفک کی روانی بحال کی جائے اور کاروباری سرگرمیوں کو معمول پر لایا جائے۔
ایمل ولی خان نے اپنے بیان کے اختتام پر کہا کہ “اگر بانی کو رہا کرنا ہے تو قانونی طریقے سے کریں، اگر بند رکھنا ہے تو قانون کے مطابق رکھیں، مگر پختونخوا کے عوام کی زندگیوں کو یرغمال نہ بنایا جائے۔ حکومتوں کی اولین ذمہ داری عوام کو سہولت فراہم کرنا ہے، نہ کہ انہیں مشکلات میں دھکیلنا۔”
ایمل ولی خان کا خیبر پختونخوا میں سڑکوں کی بندش پر شدید ردِعمل، حکومتوں کو عوام کا حق مارنے کا الزام.
10