مانسہرہ: پولیس پر مبینہ سیاسی دباؤ، روزنامچہ میں درج واقعات نے تشویش بڑھا دی.

26

ضلع مانسہرہ میں پولیس پر مبینہ سیاسی دباؤ اور دھمکیوں کے بڑھتے ہوئے واقعات نے شہریوں اور صحافتی حلقوں میں شدید تشویش پیدا کر دی ہے۔ ذرائع کے مطابق یہ معاملہ محض افواہوں تک محدود نہیں بلکہ تھانہ اوگی کے سرکاری روزنامچہ میں درج دو باقاعدہ رپورٹس اس صورتحال کی سنگینی کو ظاہر کرتی ہیں۔
اطلاعات کے مطابق ایک مقامی منتخب نمائندے کے بھائی پر پولیس اہلکاروں کو دھمکانے، سرکاری ڈیوٹی میں مداخلت کرنے اور ملزمان کو زبردستی چھڑوانے جیسے سنگین الزامات عائد کیے گئے ہیں۔
پہلا واقعہ: ناکہ بندی پر مبینہ دھمکیاں اور تبادلہ
روزنامچہ میں درج پہلی رپورٹ کے مطابق تھانہ اوگی کی حدود میں رات تقریباً چار بجے ناکہ بندی کے دوران پولیس نے ایک مشکوک گاڑی کو روکا۔ گاڑی میں موجود شخص نے مبینہ طور پر شدید برہمی کا اظہار کیا اور ڈیوٹی پر موجود اہلکار کو دھمکی دیتے ہوئے کہا:
“دو دن میں تمہیں میرا تعارف مل جائے گا۔”
رپورٹ کے مطابق اس واقعے کے دو روز بعد ناکہ بندی پر موجود حوالدار سخی زمان کا تبادلہ مبینہ طور پر سیاسی اثر و رسوخ کے تحت اپر کوہستان کر دیا گیا، جہاں وہ اس وقت تعینات ہیں۔ پولیس ذرائع کا کہنا ہے کہ اس اچانک تبادلے نے محکمہ میں بے چینی کو جنم دیا ہے۔
دوسرا واقعہ: ملزمان کو چھڑوانے کا الزام
دوسری رپورٹ کے مطابق تھانہ اوگی کا ایک افسر اپنے سپاہی کے ہمراہ ایک مقدمے میں مطلوب ملزمان کی گرفتاری کے لیے کارروائی کر رہا تھا کہ اسی منتخب نمائندے کا بھائی موقع پر پہنچ گیا۔
روزنامچہ کے اندراج کے مطابق مذکورہ شخص نے نہ صرف ملزمان کو پولیس تحویل سے زبردستی چھڑوا لیا بلکہ افسران کو سنگین دھمکیاں بھی دیں۔ رپورٹ میں درج الفاظ کے مطابق کہا گیا:
“اپنے پہلے حوالدار کا بھی پتا کرو کہاں پھینکا ہے، اب تمہارا نمبر ہے۔ یہاں کی سرکار ہم ہیں، قانون ہم ہیں۔”
یہ بیانات پولیس اہلکاروں کے لیے کھلی دھمکی تصور کیے جا رہے ہیں، جس سے محکمہ میں خوف اور دباؤ کی فضا پیدا ہونے کی اطلاعات ہیں۔
دیگر تھانوں میں بھی صورتحال؟
ذرائع کے مطابق ضلع کے دیگر تھانوں میں بھی مبینہ سیاسی مداخلت کی شکایات سامنے آ رہی ہیں، تاہم بیشتر معاملات باضابطہ طور پر رپورٹ نہیں کیے جاتے۔ پولیس اہلکاروں کا کہنا ہے کہ فیلڈ میں ڈیوٹی کے دوران اگر سیاسی دباؤ کا سامنا ہو تو قانون پر عملدرآمد متاثر ہوتا ہے اور اہلکاروں کے حوصلے پست ہوتے ہیں۔
عوامی و صحافتی حلقوں کا مطالبہ
شہریوں، وکلا اور صحافتی تنظیموں نے ضلع مانسہرہ پولیس کی اعلیٰ قیادت، ہزارہ ڈویژن کے حکام، ضلعی انتظامیہ اور صوبائی حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ اس معاملے کا فوری نوٹس لیا جائے۔
ان کا کہنا ہے کہ ریاستی اداروں کو سیاسی مفادات کی نذر کرنا قانون کی بالادستی کے لیے نقصان دہ ہے۔ اگر ایسے واقعات کا بروقت سدباب نہ کیا گیا تو قانون نافذ کرنے والے اداروں کی ساکھ متاثر ہو سکتی ہے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں