مانسہرہ پولیس کو بڑی کامیابی، دوہرے قتل کا ملزم وطن واپس.

32

اسلام آباد: انٹرنیشنل کریمنل پولیس آرگنائزیشن (انٹرپول) اور فیڈرل انویسٹی گیشن ایجنسی (FIA) کے باہمی تعاون سے ایک اہم کارروائی کے دوران ضلع مانسہرہ کو مطلوب مفرور ملزم، سابق پولیس اہلکار عزیر بن محمد عرف ٹیپو کو سعودی عرب سے گرفتار کر کے پاکستان منتقل کر دیا گیا۔
حکام کے مطابق ملزم دوہرے قتل، اقدامِ قتل اور گاڑی چوری سمیت متعدد سنگین مقدمات میں مطلوب تھا اور طویل عرصے سے بیرونِ ملک روپوش تھا۔ ملزم کو سعودی حکام نے اسلام آباد انٹرنیشنل ایئرپورٹ پر پاکستانی حکام کے حوالے کیا، جہاں ایف آئی اے امیگریشن کی ضروری کارروائی کے بعد مانسہرہ پولیس کی خصوصی اسکارٹ ٹیم نے اسے اپنی تحویل میں لے لیا۔
پولیس ریکارڈ کے مطابق ملزم اور اس کے ساتھیوں کے خلاف پہلا مقدمہ 16 دسمبر 2020 کو تھانہ سٹی مانسہرہ میں علت نمبر 1252 کے تحت مدعی محمد عثمان انور ولد قاضی محمد سلطان کی مدعیت میں درج کیا گیا تھا، جس میں تعزیراتِ پاکستان کی متعلقہ دفعات شامل ہیں۔ دوسرا مقدمہ 13 جولائی 2022 کو مسماۃ ریحانہ بیوہ محمد شبیر کی مدعیت میں علت نمبر 626 کے تحت دفعہ 302 (قتلِ عمد) کے تحت درج ہوا۔ تیسرا اور حالیہ مقدمہ 15 دسمبر 2023 کو علت نمبر 1698 کے تحت لعل خان تنولی ولد فضل الرحمن کی مدعیت میں درج کیا گیا، جس میں تعزیراتِ پاکستان کی دفعات 302، 324، 427، 148 اور 149 شامل ہیں۔
نیشنل سنٹرل بیورو (NCB) انٹرپول پاکستان کے مطابق ملزم کی گرفتاری کے لیے انٹرپول کے ذریعے ریڈ نوٹس کنٹرول نمبر A-4005/3-2025 جاری کیا گیا تھا، جس کے بعد بین الاقوامی سطح پر اس کی تلاش شروع کی گئی۔ ذرائع کے مطابق سعودی عرب میں تعینات این سی بی انٹرپول ریاض نے 9 فروری 2026 کو پاکستان کو آگاہ کیا کہ دوطرفہ سیکیورٹی تعاون کے تحت سعودی حکام نے ملزم کی حوالگی پر رضامندی ظاہر کر دی ہے۔
بعد ازاں ملزم کو سعودی ایئر لائن کی پرواز SV724 کے ذریعے 15 فروری 2026 کو صبح 8:10 بجے اسلام آباد پہنچایا گیا۔ ملزم کے ہمراہ سعودی سیکیورٹی ٹیم کے افسران — کیپٹن راکان الراشود، سارجنٹ سلطان القحطانی اور وائس سارجنٹ یاسر السہلی — بھی موجود تھے، جنہوں نے تمام قانونی تقاضے مکمل کرنے کے بعد ملزم کو پاکستانی حکام کے سپرد کیا۔ سعودی اسکارٹ ٹیم اسی روز پرواز SV725 کے ذریعے واپس روانہ ہو گئی۔
اس سے قبل این سی بی انٹرپول پاکستان نے سپرنٹنڈنٹ آف پولیس انویسٹی گیشن مانسہرہ کو خصوصی ہدایات جاری کی تھیں کہ ایف آئی اے امیگریشن اسلام آباد سے ملزم کی باقاعدہ حوالگی کے لیے پولیس اسکارٹ ٹیم تعینات کی جائے اور کارروائی مکمل ہونے پر رپورٹ پیش کی جائے۔
پولیس ذرائع کا کہنا ہے کہ ملزم کو مزید تفتیش اور قانونی کارروائی کے لیے ضلع مانسہرہ منتقل کر دیا گیا ہے، جہاں اس کے خلاف درج مقدمات کی روشنی میں تحقیقات جاری ہیں۔ حکام کے مطابق انٹرپول کے ذریعے ملزم کی گرفتاری اور حوالگی پاکستان اور سعودی عرب کے درمیان مؤثر سیکیورٹی تعاون کی واضح مثال ہے، جو سنگین جرائم میں ملوث مفرور ملزمان کو قانون کے کٹہرے میں لانے میں اہم کردار ادا کرتی ہے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں