پشاور: خیبر پختونخوا کے وزیرِ اعلیٰ سہیل آفریدی نے صوبے میں عوامی خدمات کے معیار کو بہتر بنانے اور حکومتی کارکردگی کو عوامی توقعات کے مطابق ڈھالنے کے لیے ’گڈ گورننس روڈ میپ‘ کے تحت اصلاحات اور بڑے منصوبوں پر عملدرآمد تیز کرنے کی واضح ہدایات جاری کر دی ہیں۔ پشاور میں منعقدہ ایک اعلیٰ سطحی جائزہ اجلاس کی صدارت کرتے ہوئے وزیرِ اعلیٰ نے خبردار کیا کہ حکومتی مشن کی تکمیل میں کسی قسم کی غفلت یا سستی ہرگز برداشت نہیں کی جائے گی اور تاخیر کا شکار منصوبوں کو نمٹانے کے لیے غیر روایتی اور مؤثر حکمتِ عملی اپنائی جائے۔
اجلاس کے دوران وزیرِ اعلیٰ نے ضم شدہ اضلاع کی تیز رفتار ترقی کے لیے ’روشن قبائل پیکج‘ کی تیاری اسی ماہ مکمل کرنے، کم لاگت رہائشی سہولتوں کے منصوبے ’احساس اپنا گھر پروگرام‘ کو فاسٹ ٹریک پر ڈالنے اور جنوبی اضلاع کے ضلعی ہسپتالوں میں میموگرافی سروسز کے فوری اجرا کی ہدایت کی۔ انہوں نے کہا کہ صحت اور رہائش کے شعبوں میں نمایاں بہتری حکومت کی اولین ترجیح ہے اور متعلقہ محکمے مقررہ اہداف ہر صورت حاصل کریں۔
انتظامی کارکردگی بہتر بنانے کے لیے فیصلہ کیا گیا کہ صوبائی ترقیاتی ورکنگ پارٹی (PDWP) کا اجلاس اب ہفتہ وار بنیادوں پر منعقد ہوگا تاکہ ترقیاتی منصوبوں کی بروقت منظوری اور نگرانی یقینی بنائی جا سکے۔ وزیرِ اعلیٰ نے کمراٹ اور ہنگو–سروزئی روڈ منصوبوں پر تعمیراتی رفتار بڑھانے، فنڈز کے بروقت اجرا اور فیلڈ مانیٹرنگ مؤثر بنانے کی بھی ہدایت کی۔
تعلیم اور صحت کے شعبوں میں اصلاحات پر زور دیتے ہوئے وزیرِ اعلیٰ نے سرکاری اسکولوں میں اساتذہ کی سو فیصد حاضری یقینی بنانے، پولیو ٹیموں کی سکیورٹی مزید سخت کرنے اور سرکاری ہسپتالوں میں کنٹریکٹ ڈاکٹروں کی بھرتی مقررہ مدت کے اندر مکمل کرنے کا حکم دیا۔ انہوں نے واضح کیا کہ بنیادی خدمات کی فراہمی میں کسی بھی قسم کی کوتاہی قابلِ قبول نہیں ہوگی۔
ماحولیاتی بہتری کے حوالے سے وزیرِ اعلیٰ نے موسمِ بہار کی شجرکاری مہم کو صوبے کی تاریخ کی سب سے بڑی مہم بنانے کی ہدایت دیتے ہوئے کہا کہ تمام سرکاری دفاتر اور سرکاری رہائش گاہوں میں پھل دار پودے لگانا لازمی ہوگا۔ اس مہم میں سرکاری ملازمین، طلبہ، بلدیاتی نمائندوں اور سول سوسائٹی کی بھرپور شمولیت یقینی بنانے کے لیے جامع حکمتِ عملی تیار کرنے کا بھی حکم دیا گیا۔
اجلاس کو بریفنگ میں بتایا گیا کہ گڈ گورننس روڈ میپ کے تحت 17 محکموں میں مجموعی طور پر 327 انٹرونشنز میں سے 47 مکمل جبکہ 139 مقررہ رفتار سے جاری ہیں۔ اسی طرح مجموعی 268 مائل اسٹونز میں سے 90 حاصل کر لیے گئے ہیں جبکہ صرف 3 اہداف آف ٹریک ہیں۔ وزیرِ اعلیٰ نے متعلقہ حکام کو ہدایت کی کہ آئندہ مالی سال کے بجٹ کی تیاری فوری شروع کی جائے، غیر فعال ٹیوب ویلز کو ہنگامی بنیادوں پر فعال کیا جائے اور روڈ میپ کے مڈ ٹرم اقدامات رواں سال جون تک ہر صورت مکمل کیے جائیں۔
خیبر پختونخوا میں گڈ گورننس روڈ میپ پر تیزی، وزیرِ اعلیٰ کی سخت ہدایات.
10