بریکنگ نیوز
عمران خان کی تینوں بہنوں کی نظربندی میں مزید 30 روز کی توسیع، 20 نومبر تک حراست برقرار رہے گی
26-اکتوبر-2026 — Qazi Jawad
0 تبصرے
27 وزٹ
Read in English
لاہور: پاکستان تحریکِ انصاف (پی ٹی آئی) کے بانی چیئرمین عمران خان کی تینوں بہنوں علیمہ خان، نورین نیازی اور عظمیٰ خان کی نظربندی میں مزید 30 روز کی توسیع کر دی گئی ہے۔ پنجاب حکومت نے لاہور ہائیکورٹ میں رپورٹ پیش کرتے ہوئے اس توسیع سے آگاہ کیا، جس کے مطابق نظربندی اب 20 نومبر 2026 تک جاری رہے گی۔
لاہور ہائیکورٹ میں درخواست پر سماعت
تفصیلات کے مطابق عمران خان کی تینوں بہنوں کی بازیابی کے لیے دائر درخواست پر لاہور ہائیکورٹ میں سماعت ہوئی۔ جسٹس عبہر گل خان نے علیمہ خان کے صاحبزادے شاہریز کی جانب سے دائر درخواست پر کارروائی کی۔
سماعت کے دوران درخواست گزار کی جانب سے ایڈووکیٹ رانا مدثر عمر پیش ہوئے، جبکہ عظمیٰ خان کے شوہر احد خان اور علیمہ خان کے صاحبزادے بھی عدالت میں موجود تھے۔
پنجاب حکومت نے عدالت کو کیا بتایا؟
سماعت کے دوران پنجاب حکومت کے وکیل نے عدالت کو بتایا کہ صوبائی حکومت نے تینوں خواتین کی نظربندی میں مزید 30 روز کی توسیع کر دی ہے۔ سرکاری وکیل کے مطابق اس سے قبل بھی 7 اکتوبر کو نظربندی میں توسیع کی گئی تھی۔
سرکاری وکیل نے ہوم سیکرٹری کی رپورٹ عدالت میں پیش کی، جس کے بعد عدالت نے درخواست کو پیش کی گئی رپورٹ کی روشنی میں نمٹا دیا۔
عدالت نے درخواست گزار کے وکیل کو کیا جواب دیا؟
سماعت کے دوران درخواست گزار کے وکیل نے استدعا کی کہ تینوں بہنوں کو بازیاب کروا کر عدالت میں پیش کیا جائے۔
اس پر عدالت نے نشاندہی کی کہ نظربندی کا نوٹیفکیشن ڈپٹی کمشنر نے جاری کیا ہے، لیکن درخواست میں ڈپٹی کمشنر کو فریق نہیں بنایا گیا۔ عدالت نے ریمارکس دیے کہ وہ درخواست کے دائرہ کار سے باہر جا کر کوئی حکم جاری نہیں کر سکتی۔
درخواست گزار کے وکیل رانا مدثر عمر نے مؤقف اختیار کیا کہ اس معاملے میں 26ویں اور 27ویں آئینی ترامیم بھی قانونی رکاوٹ بن سکتی ہیں۔
لاہور ہائیکورٹ میں درخواست پر سماعت
تفصیلات کے مطابق عمران خان کی تینوں بہنوں کی بازیابی کے لیے دائر درخواست پر لاہور ہائیکورٹ میں سماعت ہوئی۔ جسٹس عبہر گل خان نے علیمہ خان کے صاحبزادے شاہریز کی جانب سے دائر درخواست پر کارروائی کی۔
سماعت کے دوران درخواست گزار کی جانب سے ایڈووکیٹ رانا مدثر عمر پیش ہوئے، جبکہ عظمیٰ خان کے شوہر احد خان اور علیمہ خان کے صاحبزادے بھی عدالت میں موجود تھے۔
پنجاب حکومت نے عدالت کو کیا بتایا؟
سماعت کے دوران پنجاب حکومت کے وکیل نے عدالت کو بتایا کہ صوبائی حکومت نے تینوں خواتین کی نظربندی میں مزید 30 روز کی توسیع کر دی ہے۔ سرکاری وکیل کے مطابق اس سے قبل بھی 7 اکتوبر کو نظربندی میں توسیع کی گئی تھی۔
سرکاری وکیل نے ہوم سیکرٹری کی رپورٹ عدالت میں پیش کی، جس کے بعد عدالت نے درخواست کو پیش کی گئی رپورٹ کی روشنی میں نمٹا دیا۔
عدالت نے درخواست گزار کے وکیل کو کیا جواب دیا؟
سماعت کے دوران درخواست گزار کے وکیل نے استدعا کی کہ تینوں بہنوں کو بازیاب کروا کر عدالت میں پیش کیا جائے۔
اس پر عدالت نے نشاندہی کی کہ نظربندی کا نوٹیفکیشن ڈپٹی کمشنر نے جاری کیا ہے، لیکن درخواست میں ڈپٹی کمشنر کو فریق نہیں بنایا گیا۔ عدالت نے ریمارکس دیے کہ وہ درخواست کے دائرہ کار سے باہر جا کر کوئی حکم جاری نہیں کر سکتی۔
درخواست گزار کے وکیل رانا مدثر عمر نے مؤقف اختیار کیا کہ اس معاملے میں 26ویں اور 27ویں آئینی ترامیم بھی قانونی رکاوٹ بن سکتی ہیں۔
تبصرے (0)
ابھی کوئی تبصرہ موجود نہیں — پہلا تبصرہ آپ کریں۔
تبصرہ کریں