مانسہرہ ڈاٹ کام مانسہرہ ڈاٹ کام
12 جمادی الاول 1448 ہجری · ہفتہ، 24 اکتوبر 2026
آج کی حدیث
رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”جو شخص اللہ اور یومِ آخرت پر ایمان رکھتا ہے، اسے چاہیے کہ اچھی بات کہے یا خاموش رہے۔“ حوالہ: صحیح البخاری، حدیث 6018؛ صحیح مسلم، حدیث 47 اپنی بات سوچ سمجھ کر کہیں۔ ایک اچھا لفظ کسی کے دل میں خوشی پیدا کر سکتا ہے۔
اپنی خبر بھیجیں
تازہ ترین
خیبرپختونخوا میں دہشت گردی سے متاثرہ اضلاع اور پولیس منصوبوں کے لیے 5 ارب روپے سے زائد کے فنڈز جاری • حذیفہ رحمان کا انکشاف: پی ٹی آئی نے نئے وزیراعلیٰ کے لیے اکبر ایوب کا نام طے کر لیا؟ • گلیات میں برف باری کا آغاز، ایبٹ آباد پولیس سیاحوں کی حفاظت، رہنمائی اور مدد کے لیے الرٹ • نو عمر لڑکوں سے جوتے چٹوانے کا معاملہ، پنچایت کے چار افراد گرفتار • راولپنڈی: گھر سے دو خواتین کی لاشیں برآمد، مبینہ قتل کا مقدمہ نامعلوم ملزمان کے خلاف درج • لسبیلہ میں خوفناک ٹریفک حادثہ، ویگن اور مسافر کوچ میں تصادم سے 11 افراد جاں بحق، 20 سے زائد زخمی • حافظ نعیم الرحمٰن کا لانگ مارچ کا اعلان، کہا: تیاری کر رہے ہیں، اسلام آباد جائیں گے • مبینہ پولیس مقابلوں میں ہلاکتیں: ملزمان کو عدالتوں سے سزائیں کیوں نہیں دلوائی جاتیں؟ نظامِ انصاف پر سنگین سوالات اٹھنے لگے • خیبرپختونخوا میں دہشت گردی سے متاثرہ اضلاع اور پولیس منصوبوں کے لیے 5 ارب روپے سے زائد کے فنڈز جاری • حذیفہ رحمان کا انکشاف: پی ٹی آئی نے نئے وزیراعلیٰ کے لیے اکبر ایوب کا نام طے کر لیا؟ • گلیات میں برف باری کا آغاز، ایبٹ آباد پولیس سیاحوں کی حفاظت، رہنمائی اور مدد کے لیے الرٹ • نو عمر لڑکوں سے جوتے چٹوانے کا معاملہ، پنچایت کے چار افراد گرفتار • راولپنڈی: گھر سے دو خواتین کی لاشیں برآمد، مبینہ قتل کا مقدمہ نامعلوم ملزمان کے خلاف درج • لسبیلہ میں خوفناک ٹریفک حادثہ، ویگن اور مسافر کوچ میں تصادم سے 11 افراد جاں بحق، 20 سے زائد زخمی • حافظ نعیم الرحمٰن کا لانگ مارچ کا اعلان، کہا: تیاری کر رہے ہیں، اسلام آباد جائیں گے • مبینہ پولیس مقابلوں میں ہلاکتیں: ملزمان کو عدالتوں سے سزائیں کیوں نہیں دلوائی جاتیں؟ نظامِ انصاف پر سنگین سوالات اٹھنے لگے •
شہر کی خبریں

مانسہرہ کی شاہراہِ ریشم پر ٹریفک کا بدترین بحران، بڑے بڑے پلازے تعمیر، سڑکیں تنگ اور شہری مشکلات سے دوچار

24-اکتوبر-2026 — Qazi Jawad 0 تبصرے 29 وزٹ
Read in English
مانسہرہ کی شاہراہِ ریشم پر ٹریفک کا بدترین بحران، بڑے بڑے پلازے تعمیر، سڑکیں تنگ اور شہری مشکلات سے دوچار
شہر کی بڑھتی ہوئی آبادی اور تجارتی سرگرمیوں کے باوجود بنیادی انفراسٹرکچر میں بہتری نہ آ سکی، اسکول اوقات سمیت معمول کے اوقات میں بھی ٹریفک جام معمول بن گیا، تجاوزات، خستہ حال سڑکیں اور فٹ پاتھوں کی زبوں حالی نے صورتحال مزید سنگین بنا دی
مانسہرہ (خصوصی رپورٹ)
مانسہرہ کی اہم شاہراہِ ریشم (سلک روٹ) پر ٹریفک کی بگڑتی ہوئی صورتحال شہریوں کے لیے ایک سنگین مسئلہ بن گئی ہے۔ شہر میں تیزی سے بڑھتی ہوئی تجارتی سرگرمیوں، بڑی بڑی مارکیٹوں، جدید پلازوں اور شاپنگ مالز کی تعمیر کے باوجود سڑکوں کی گنجائش بڑھانے، ٹریفک کے نظام کو بہتر بنانے اور شہریوں کو آمدورفت کی بنیادی سہولیات فراہم کرنے کے لیے مؤثر اقدامات کی ضرورت شدت سے محسوس کی جا رہی ہے۔ شاہراہِ ریشم پر اکثر اوقات ٹریفک کا دباؤ اس قدر بڑھ جاتا ہے کہ گاڑیوں کی طویل قطاریں لگ جاتی ہیں اور شہریوں کو اپنی منزل تک پہنچنے کے لیے غیر معمولی وقت صرف کرنا پڑتا ہے۔
شاہراہِ ریشم پاکستان کی اہم شاہراہوں میں شمار ہوتی ہے، جہاں روزانہ بڑی تعداد میں گاڑیوں، موٹر سائیکلوں، مسافر بردار گاڑیوں اور پیدل چلنے والوں کی آمدورفت جاری رہتی ہے۔ اس شاہراہ کے اطراف تجارتی سرگرمیوں اور کمرشل عمارتوں میں اضافے کے باعث ٹریفک کا دباؤ بھی بڑھتا جا رہا ہے، تاہم سڑکوں کی گنجائش، پارکنگ کے انتظامات اور ٹریفک کی روانی کو برقرار رکھنے کے لیے بنیادی سہولیات میں اسی تناسب سے بہتری نہ آنے کے باعث شہریوں کو مشکلات کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔
صورتحال بالخصوص اسکولوں کے کھلنے اور چھٹی کے اوقات میں مزید خراب ہو جاتی ہے، جب طلبہ، والدین، اساتذہ اور دیگر شہری ایک ہی وقت میں سڑکوں پر سفر کرتے ہیں۔ گاڑیوں کی بڑھتی ہوئی تعداد، بے ترتیب پارکنگ، سڑکوں پر تجاوزات اور ٹریفک کی روانی میں رکاوٹیں پیدا ہونے کے باعث شاہراہِ ریشم پر ٹریفک جام کی صورتحال پیدا ہو جاتی ہے۔ معمول کے اوقات میں بھی شہریوں کو ٹریفک کے دباؤ کا سامنا رہتا ہے، جس سے نہ صرف روزمرہ کے معمولات متاثر ہوتے ہیں بلکہ کاروباری افراد، ملازمین، طلبہ اور مسافروں کا قیمتی وقت بھی ضائع ہوتا ہے۔
شہری حلقوں کے مطابق مانسہرہ میں بڑے بڑے پلازوں، مارکیٹوں اور شاپنگ مالز کی تعمیر کے ساتھ ٹریفک کے ممکنہ دباؤ، گاڑیوں کی پارکنگ اور پیدل چلنے والوں کی ضروریات کو بھی مدنظر رکھنا ضروری تھا۔ تاہم شاہراہِ ریشم پر سڑک کی محدود گنجائش اور تجارتی سرگرمیوں میں اضافے کے باعث آمدورفت کے مسائل میں شدت آتی جا رہی ہے۔ اگر تجارتی ترقی کے ساتھ سڑکوں، پارکنگ اور ٹریفک مینجمنٹ کے نظام کو بہتر نہ بنایا جائے تو اس کا براہِ راست بوجھ عام شہریوں کو برداشت کرنا پڑتا ہے۔
شاہراہِ ریشم پر انڈر پاسز اور فلائی اوورز جیسی سہولیات کی عدم موجودگی بھی ٹریفک کے نظام کو جدید تقاضوں کے مطابق بہتر بنانے کے حوالے سے اہم سوالات کو جنم دیتی ہے۔ شہریوں کا کہنا ہے کہ مانسہرہ جیسے اہم شہر میں ٹریفک کے بڑھتے ہوئے دباؤ کو مدنظر رکھتے ہوئے طویل المدتی منصوبہ بندی کی ضرورت ہے، جس میں ٹریفک کی روانی، متبادل راستوں، چوراہوں کی بہتری، مناسب پارکنگ اور ضرورت کے مطابق جدید انفراسٹرکچر کی تعمیر کو ترجیح دی جائے۔
دوسری جانب پیدل چلنے والوں کے لیے فٹ پاتھوں کی صورتحال بھی توجہ طلب ہے۔ شہریوں کو متعدد مقامات پر فٹ پاتھوں کے استعمال اور سڑک عبور کرنے میں مشکلات کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ جہاں فٹ پاتھ موجود ہیں، وہاں ان کی حالت اور دستیابی کو بہتر بنانے کی ضرورت ہے تاکہ پیدل چلنے والے افراد، بالخصوص بزرگ، خواتین، بچے اور اسکول جانے والے طلبہ، محفوظ طریقے سے سفر کر سکیں۔ فٹ پاتھوں پر رکاوٹیں اور تجاوزات ہوں تو شہری سڑک پر چلنے پر مجبور ہو جاتے ہیں، جس سے ٹریفک کے دباؤ کے ساتھ حادثات کے خدشات بھی بڑھ سکتے ہیں۔
مانسہرہ کی سڑکوں کی مجموعی صورتحال اور بنیادی شہری انفراسٹرکچر کی بہتری میں سست روی پر بھی شہری حلقوں میں تشویش پائی جاتی ہے۔ شہریوں کا مؤقف ہے کہ گزشتہ پندرہ سے بیس سال کے دوران شہر کی آبادی، تجارتی سرگرمیوں اور گاڑیوں کی تعداد میں اضافے کے مطابق سڑکوں کے نظام کو بہتر بنانے کے لیے مزید سنجیدہ اقدامات ہونے چاہییں تھے۔ شہر کی ترقی کے لیے صرف نئی عمارتوں اور کاروباری مراکز کا قیام کافی نہیں، بلکہ ان کے ساتھ کشادہ سڑکیں، مؤثر نکاسی آب، مناسب پارکنگ، معیاری فٹ پاتھ اور منظم ٹریفک کا نظام بھی بنیادی اہمیت رکھتا ہے۔
شاہراہِ ریشم پر ٹریفک جام کے مسئلے کا ایک اہم پہلو تجاوزات اور پارکنگ کے انتظامات بھی ہیں۔ اگر سڑکوں کے کناروں پر غیر ضروری رکاوٹیں موجود ہوں یا گاڑیاں غیر منظم انداز میں پارک کی جائیں تو پہلے سے محدود سڑک مزید تنگ ہو جاتی ہے۔ اس صورت حال میں ٹریفک پولیس اور متعلقہ بلدیاتی اداروں کی ذمہ داری ہے کہ وہ ٹریفک کی روانی برقرار رکھنے، تجاوزات کی روک تھام اور پارکنگ کے مناسب انتظامات کے لیے مؤثر حکمت عملی اختیار کریں۔ اس کے ساتھ کمرشل عمارتوں کے لیے پارکنگ اور دیگر متعلقہ ضوابط پر عمل درآمد کو بھی یقینی بنانا ضروری ہے۔
شہریوں کا کہنا ہے کہ مانسہرہ ایک اہم تجارتی اور سیاحتی شہر ہے، جہاں سے مختلف علاقوں کی جانب سفر کرنے والے افراد بھی گزرتے ہیں۔ ایسے شہر میں شاہراہوں کی خراب صورتحال اور ٹریفک جام نہ صرف مقامی آبادی بلکہ مسافروں اور کاروباری سرگرمیوں کو بھی متاثر کرتا ہے۔ اگر ٹریفک کی روانی بہتر بنانے کے لیے بروقت اقدامات نہ کیے گئے تو مستقبل میں بڑھتی ہوئی آبادی اور گاڑیوں کی تعداد کے باعث مسائل مزید پیچیدہ ہو سکتے ہیں۔
شہریوں اور کاروباری حلقوں نے ضلعی انتظامیہ، متعلقہ بلدیاتی اداروں، محکمہ مواصلات و تعمیرات اور ٹریفک پولیس کے اعلیٰ حکام سے مطالبہ کیا ہے کہ شاہراہِ ریشم سمیت مانسہرہ کی اہم سڑکوں کا جامع سروے کیا جائے اور ٹریفک کے مسائل کے مستقل حل کے لیے عملی اقدامات کیے جائیں۔ تجاوزات کے خلاف قانون کے مطابق بلاامتیاز کارروائی، غیر قانونی پارکنگ کی روک تھام، فٹ پاتھوں کی بحالی، ٹریفک قوانین پر سختی سے عمل درآمد اور اسکول اوقات میں خصوصی ٹریفک انتظامات کو یقینی بنایا جائے۔
شہریوں نے مزید مطالبہ کیا ہے کہ مانسہرہ کے مستقبل کو مدنظر رکھتے ہوئے ٹریفک کے لیے ایک جامع ماسٹر پلان تیار کیا جائے، جس میں سڑکوں کی توسیع، متبادل راستوں کی تعمیر، مناسب پارکنگ ایریاز کے قیام، اہم چوراہوں کی بہتری اور ضرورت کے مطابق انڈر پاسز یا فلائی اوورز کی تعمیر کا جائزہ لیا جائے۔ اس کے علاوہ سڑکوں کی خستہ حالی دور کرنے اور پیدل چلنے والوں کے لیے محفوظ راستے فراہم کرنے پر بھی خصوصی توجہ دی جائے۔
شہری حلقوں کے مطابق ترقی کا اصل معیار صرف بلند و بالا پلازوں، جدید مارکیٹوں اور شاپنگ مالز کی تعمیر نہیں، بلکہ ایسا شہری نظام قائم کرنا بھی ہے جس میں لوگوں کو سفر کرنے، کاروبار چلانے اور روزمرہ کے امور انجام دینے میں غیر ضروری مشکلات کا سامنا نہ کرنا پڑے۔
اب دیکھنا یہ ہے کہ متعلقہ حکام مانسہرہ کی شاہراہِ ریشم پر ٹریفک کے بڑھتے ہوئے بحران اور شہری انفراسٹرکچر کے مسائل کے حل کے لیے کب عملی اقدامات کرتے ہیں۔ شہریوں کو امید ہے کہ ان کے مسائل کا نوٹس لیتے ہوئے ایسے دیرپا منصوبے شروع کیے جائیں گے جو مانسہرہ کو ٹریفک جام، تجاوزات اور آمدورفت کی مشکلات سے نجات دلانے میں مددگار ثابت ہوں گے۔
اہم سوال یہ ہے کہ جب مانسہرہ میں تجارتی عمارتوں اور پلازوں کی تعمیر جاری ہے تو کیا شہر کے بنیادی انفراسٹرکچر، کشادہ سڑکوں، فٹ پاتھوں اور جدید ٹریفک نظام کی بہتری کو بھی اتنی ہی ترجیح دی جا رہی ہے؟

تبصرے (0)

ابھی کوئی تبصرہ موجود نہیں — پہلا تبصرہ آپ کریں۔

تبصرہ کریں

آپ کا تبصرہ منظوری کے بعد یہاں شائع ہوگا۔ ای میل عام صارفین کو نظر نہیں آئے گی۔

ووٹنگ جاری ہے! اپنے پسندیدہ امیدوار کو ووٹ دیں
آخری تاریخ: 31 اکتوبر 2026