ضلع کی خبریں
ایبٹ آباد: علی اصغر خان اور مشتاق غنی کی رہائش گاہوں پر پولیس کے چھاپے، مشتاق غنی ہاؤس اریسٹ
12-اکتوبر-2026 — Qazi Jawad
0 تبصرے
30 وزٹ
Read in English
ایبٹ آباد: علی اصغر خان اور مشتاق غنی کی رہائش گاہوں پر پولیس کے چھاپے، مشتاق غنی ہاؤس اریسٹ
ایبٹ آباد – صوبے میں گورنر راج اور ایمرجنسی کے نفاذ کے بعد رات گئے ایبٹ آباد پولیس نے رکن قومی اسمبلی علی اصغر خان اور رکن صوبائی اسمبلی مشتاق غنی کی رہائش گاہوں پر چھاپے مارے۔
چھاپے کی تفصیلات
اطلاعات کے مطابق چھاپے کے وقت علی اصغر خان اپنی رہائش گاہ پر موجود نہیں تھے، جبکہ مشتاق غنی کو ہاؤس اریسٹ کر دیا گیا۔
مشتاق غنی کا ردعمل
مشتاق غنی نے اپنے ردعمل میں کہا ہے کہ صوبے میں فوج تعینات کرکے عملاً مارشل لا نافذ کر دیا گیا ہے۔
یہ پیش رفت اس وقت سامنے آئی ہے جب صدر مملکت آصف علی زرداری نے آئین کے آرٹیکل 232 اور 234 کے تحت خیبرپختونخوا میں ایمرجنسی اور گورنر راج کے نفاذ کی سمری پر دستخط کر دیے۔
اعلامیے کے مطابق صوبائی حکومت موجودہ حالات میں آئین کے مطابق نہیں چلائی جا سکتی، اور وزیراعلیٰ، صوبائی وزراء، مشیران اور معاونین خصوصی اپنے عہدے فوری طور پر چھوڑ دیں گے۔
اہم نوٹ
مذکورہ بالا معلومات ذرائع اور اطلاعات پر مبنی ہیں۔ حتمی حقائق اور قانونی حیثیت کا تعین سرکاری تصدیق اور عدالتی کارروائی کے بعد ہی ممکن ہے۔
ایبٹ آباد – صوبے میں گورنر راج اور ایمرجنسی کے نفاذ کے بعد رات گئے ایبٹ آباد پولیس نے رکن قومی اسمبلی علی اصغر خان اور رکن صوبائی اسمبلی مشتاق غنی کی رہائش گاہوں پر چھاپے مارے۔
چھاپے کی تفصیلات
اطلاعات کے مطابق چھاپے کے وقت علی اصغر خان اپنی رہائش گاہ پر موجود نہیں تھے، جبکہ مشتاق غنی کو ہاؤس اریسٹ کر دیا گیا۔
مشتاق غنی کا ردعمل
مشتاق غنی نے اپنے ردعمل میں کہا ہے کہ صوبے میں فوج تعینات کرکے عملاً مارشل لا نافذ کر دیا گیا ہے۔
یہ پیش رفت اس وقت سامنے آئی ہے جب صدر مملکت آصف علی زرداری نے آئین کے آرٹیکل 232 اور 234 کے تحت خیبرپختونخوا میں ایمرجنسی اور گورنر راج کے نفاذ کی سمری پر دستخط کر دیے۔
اعلامیے کے مطابق صوبائی حکومت موجودہ حالات میں آئین کے مطابق نہیں چلائی جا سکتی، اور وزیراعلیٰ، صوبائی وزراء، مشیران اور معاونین خصوصی اپنے عہدے فوری طور پر چھوڑ دیں گے۔
اہم نوٹ
مذکورہ بالا معلومات ذرائع اور اطلاعات پر مبنی ہیں۔ حتمی حقائق اور قانونی حیثیت کا تعین سرکاری تصدیق اور عدالتی کارروائی کے بعد ہی ممکن ہے۔
تبصرے (0)
ابھی کوئی تبصرہ موجود نہیں — پہلا تبصرہ آپ کریں۔
تبصرہ کریں