پاکستان
قومی اسمبلی میں خواجہ آصف اور مولانا فضل الرحمان کے درمیان تلخ جملوں کا تبادلہ، ’’کچھ شرم کرو، کچھ حیا کرو!
29-اکتوبر-2026 — Qazi Jawad
0 تبصرے
25 وزٹ
Read in English
اسلام آباد: قومی اسمبلی کے اجلاس کے دوران وفاقی وزیر دفاع خواجہ محمد آصف اور جمعیت علمائے اسلام (ف) کے سربراہ مولانا فضل الرحمان کے درمیان سخت جملوں کا تبادلہ ہوا۔ خواجہ آصف نے مولانا فضل الرحمان کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے ان کی کشمیر کمیٹی کی سابقہ سربراہی اور طویل سیاسی کردار پر سوالات اٹھائے۔
خواجہ آصف نے کہا کہ مولانا فضل الرحمان تقریباً 10 سال تک کشمیر کمیٹی کے چیئرمین رہے، لیکن اس دوران انہوں نے مسئلہ کشمیر کے لیے کیا خدمات انجام دیں؟ انہوں نے سوال اٹھایا کہ مولانا فضل الرحمان کا کشمیر کے معاملے سے کیا تعلق رہا اور بطور چیئرمین کشمیر کمیٹی انہوں نے کون سے نمایاں اقدامات کیے۔
وفاقی وزیر دفاع نے مولانا فضل الرحمان کے سیاسی ماضی پر بھی تنقید کرتے ہوئے کہا کہ وہ مختلف ادوار میں حکومتوں کا حصہ بھی رہے اور اپوزیشن کی سیاست بھی کرتے رہے ہیں۔ خواجہ آصف کا کہنا تھا کہ وہ کوئی بات کرتے ہوئے اپنے ماضی کو بھی سامنے رکھتے ہیں تاکہ کوئی ان کے سابقہ کردار کی بنیاد پر ان پر تنقید نہ کر سکے۔
دورانِ خطاب خواجہ آصف نے سخت لہجہ اختیار کرتے ہوئے کہا، ’’آپ مجھے طعنہ دیتے ہیں، کچھ شرم کرو، کچھ حیا کرو! آپ بھی تو کچھ شرم کریں، حیا کریں!‘‘ انہوں نے مولانا فضل الرحمان کے گزشتہ تقریباً 40 سالہ سیاسی کردار اور مختلف ادوار میں حاصل ہونے والی مراعات کا حوالہ دیتے ہوئے ان کے سیاسی اصولوں اور عملی کردار پر بھی سوالات اٹھائے۔
خواجہ آصف نے کہا کہ سیاست میں کوئی بھی شخص خود کو ہر قسم کی تنقید سے بالاتر قرار نہیں دے سکتا اور سیاسی رہنماؤں کو اپنے ماضی اور کردار کے حوالے سے بھی جواب دہ ہونا چاہیے۔
یہ تلخ جملوں کا تبادلہ قومی اسمبلی میں ہونے والی سیاسی بحث کے دوران سامنے آیا، جہاں مولانا فضل الرحمان کے ایک جملے کے جواب میں خواجہ آصف نے سخت ردعمل دیا۔ اس واقعے نے ایوان میں سیاسی اختلافات اور رہنماؤں کے درمیان لفظی کشیدگی کو نمایاں کیا۔
خواجہ آصف نے کہا کہ مولانا فضل الرحمان تقریباً 10 سال تک کشمیر کمیٹی کے چیئرمین رہے، لیکن اس دوران انہوں نے مسئلہ کشمیر کے لیے کیا خدمات انجام دیں؟ انہوں نے سوال اٹھایا کہ مولانا فضل الرحمان کا کشمیر کے معاملے سے کیا تعلق رہا اور بطور چیئرمین کشمیر کمیٹی انہوں نے کون سے نمایاں اقدامات کیے۔
وفاقی وزیر دفاع نے مولانا فضل الرحمان کے سیاسی ماضی پر بھی تنقید کرتے ہوئے کہا کہ وہ مختلف ادوار میں حکومتوں کا حصہ بھی رہے اور اپوزیشن کی سیاست بھی کرتے رہے ہیں۔ خواجہ آصف کا کہنا تھا کہ وہ کوئی بات کرتے ہوئے اپنے ماضی کو بھی سامنے رکھتے ہیں تاکہ کوئی ان کے سابقہ کردار کی بنیاد پر ان پر تنقید نہ کر سکے۔
دورانِ خطاب خواجہ آصف نے سخت لہجہ اختیار کرتے ہوئے کہا، ’’آپ مجھے طعنہ دیتے ہیں، کچھ شرم کرو، کچھ حیا کرو! آپ بھی تو کچھ شرم کریں، حیا کریں!‘‘ انہوں نے مولانا فضل الرحمان کے گزشتہ تقریباً 40 سالہ سیاسی کردار اور مختلف ادوار میں حاصل ہونے والی مراعات کا حوالہ دیتے ہوئے ان کے سیاسی اصولوں اور عملی کردار پر بھی سوالات اٹھائے۔
خواجہ آصف نے کہا کہ سیاست میں کوئی بھی شخص خود کو ہر قسم کی تنقید سے بالاتر قرار نہیں دے سکتا اور سیاسی رہنماؤں کو اپنے ماضی اور کردار کے حوالے سے بھی جواب دہ ہونا چاہیے۔
یہ تلخ جملوں کا تبادلہ قومی اسمبلی میں ہونے والی سیاسی بحث کے دوران سامنے آیا، جہاں مولانا فضل الرحمان کے ایک جملے کے جواب میں خواجہ آصف نے سخت ردعمل دیا۔ اس واقعے نے ایوان میں سیاسی اختلافات اور رہنماؤں کے درمیان لفظی کشیدگی کو نمایاں کیا۔
تبصرے (0)
ابھی کوئی تبصرہ موجود نہیں — پہلا تبصرہ آپ کریں۔
تبصرہ کریں