پاکستان
.مانسہرہ میں تجاوزات کے خلاف کارروائی کے ساتھ پروٹوکول کلچر پر بھی نظرِ ثانی کا مطالبہ
08-نومبر-2026 — Qazi Jawad
0 تبصرے
25 وزٹ
Read in English
مانسہرہ: سرکاری پروٹوکول اور وی آئی پی شخصیات کے ہمراہ چلنے والے طویل گاڑیوں کے قافلوں پر ایک اہم سوال اٹھایا گیا ہے۔ سوشل میڈیا پر گردش کرنے والے ایک پیغام میں کہا گیا ہے کہ تجاوزات کے خلاف کارروائی اور عوامی راستوں کی بحالی کے ساتھ ساتھ غیر ضروری پروٹوکول کے مسئلے پر بھی توجہ دینے کی ضرورت ہے۔ پیغام میں مؤقف اختیار کیا گیا ہے کہ اگر کوئی شخص ایک گاڑی میں باآسانی سفر کر سکتا ہے تو اس کے لیے پروٹوکول کے نام پر 20 گاڑیوں کا قافلہ چلانے اور عوامی وسائل استعمال کرنے کی اجازت نہیں ہونی چاہیے۔ اس میں سوال اٹھایا گیا ہے کہ ایک فرد کی آمدورفت کے لیے اتنی بڑی تعداد میں گاڑیوں کی ضرورت کیوں پیش آتی ہے، جبکہ دوسری جانب عام شہریوں کو ٹریفک جام، سڑکوں کی بندش اور روزمرہ آمدورفت میں مشکلات کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ عوامی حلقوں میں یہ بحث بھی اہمیت اختیار کر رہی ہے کہ جہاں تجاوزات کے خاتمے، سڑکوں کی کشادگی اور شہری سہولیات کی بہتری کے لیے اقدامات کیے جا رہے ہیں، وہاں سرکاری وسائل کے استعمال میں کفایت شعاری اور سادگی کو بھی ترجیح دی جانی چاہیے۔ ضرورت اس امر کی ہے کہ سرکاری پروٹوکول کو صرف ناگزیر سیکیورٹی اور انتظامی ضروریات تک محدود رکھا جائے تاکہ عوامی وسائل کا غیر ضروری استعمال کم ہو، ٹریفک کی روانی متاثر نہ ہو اور عام شہریوں کو بھی بلا رکاوٹ سفر کی سہولت میسر آ سکے۔
ٹیگز:
##mansehra.com
تبصرے (0)
ابھی کوئی تبصرہ موجود نہیں — پہلا تبصرہ آپ کریں۔
تبصرہ کریں