پاکستان
وفاقی وزارتِ اطلاعات کا افغان طالبان کو واضح پیغام: ٹی ٹی پی اور بی ایل اے کی حمایت ختم کریں
26-اکتوبر-2026 — Qazi Jawad
0 تبصرے
23 وزٹ
Read in English
اسلام آباد: وفاقی وزارتِ اطلاعات و نشریات نے افغان طالبان حکومت کے بیانات پر ردعمل دیتے ہوئے واضح کیا ہے کہ افغان طالبان کو تحریکِ طالبان پاکستان (ٹی ٹی پی) اور بلوچ لبریشن آرمی (بی ایل اے) کے لیے مبینہ حمایت، سہولت کاری اور چشم پوشی ختم کرنا ہوگی۔
پاکستان کا مؤقف
وزارتِ اطلاعات و نشریات کے مطابق پاکستان دہشت گردوں کی محفوظ پناہ گاہوں کے خاتمے اور سرحد پار دراندازی روکنے کے لیے عملی اقدامات کی بنیاد پر مذاکرات کے لیے تیار ہے۔
پاکستان کا مؤقف ہے کہ سیکیورٹی خدشات کا ازالہ اور سرحد پار حملوں کی روک تھام اسلام آباد اور کابل کے درمیان تعلقات میں بہتری کے لیے اہم ہیں۔
اہم نکات
افغان طالبان سے ٹی ٹی پی اور بی ایل اے کی مبینہ حمایت اور سہولت کاری ختم کرنے کا مطالبہ۔
پاکستان دہشت گردوں کی محفوظ پناہ گاہوں کے خلاف عملی اقدامات کی بنیاد پر مذاکرات کے لیے تیار ہے۔
سرحد پار دراندازی اور حملوں کی روک تھام کے لیے مؤثر اقدامات پر زور۔
پس منظر
یہ بیان پاکستان اور افغان طالبان حکومت کے درمیان سیکیورٹی معاملات پر جاری کشیدگی کے دوران سامنے آیا ہے۔ پاکستان متعدد مواقع پر افغان سرزمین پر عسکریت پسند گروہوں کی موجودگی اور پاکستان میں ہونے والے حملوں میں ان کے مبینہ کردار پر تشویش کا اظہار کر چکا ہے۔
سیکیورٹی سے متعلق خدشات دونوں فریقوں کے تعلقات میں ایک اہم چیلنج ہیں۔ پاکستان کی جانب سے دہشت گرد گروہوں کے خلاف عملی اقدامات کے ساتھ ساتھ مذاکرات کو بھی مسائل کے حل کے لیے اہم قرار دیا جا رہا ہے۔
پاکستان کا مؤقف
وزارتِ اطلاعات و نشریات کے مطابق پاکستان دہشت گردوں کی محفوظ پناہ گاہوں کے خاتمے اور سرحد پار دراندازی روکنے کے لیے عملی اقدامات کی بنیاد پر مذاکرات کے لیے تیار ہے۔
پاکستان کا مؤقف ہے کہ سیکیورٹی خدشات کا ازالہ اور سرحد پار حملوں کی روک تھام اسلام آباد اور کابل کے درمیان تعلقات میں بہتری کے لیے اہم ہیں۔
اہم نکات
افغان طالبان سے ٹی ٹی پی اور بی ایل اے کی مبینہ حمایت اور سہولت کاری ختم کرنے کا مطالبہ۔
پاکستان دہشت گردوں کی محفوظ پناہ گاہوں کے خلاف عملی اقدامات کی بنیاد پر مذاکرات کے لیے تیار ہے۔
سرحد پار دراندازی اور حملوں کی روک تھام کے لیے مؤثر اقدامات پر زور۔
پس منظر
یہ بیان پاکستان اور افغان طالبان حکومت کے درمیان سیکیورٹی معاملات پر جاری کشیدگی کے دوران سامنے آیا ہے۔ پاکستان متعدد مواقع پر افغان سرزمین پر عسکریت پسند گروہوں کی موجودگی اور پاکستان میں ہونے والے حملوں میں ان کے مبینہ کردار پر تشویش کا اظہار کر چکا ہے۔
سیکیورٹی سے متعلق خدشات دونوں فریقوں کے تعلقات میں ایک اہم چیلنج ہیں۔ پاکستان کی جانب سے دہشت گرد گروہوں کے خلاف عملی اقدامات کے ساتھ ساتھ مذاکرات کو بھی مسائل کے حل کے لیے اہم قرار دیا جا رہا ہے۔
تبصرے (0)
ابھی کوئی تبصرہ موجود نہیں — پہلا تبصرہ آپ کریں۔
تبصرہ کریں