پاکستان
پارلیمنٹ میں قہقہے، مولانا فضل الرحمان کا خواجہ آصف پر طنزیہ وار
29-اکتوبر-2026 — Qazi Jawad
0 تبصرے
34 وزٹ
Read in English
اسلام آباد: پارلیمانی سیاست میں سیاسی طنز و مزاح اور برجستہ جملے اکثر ایوان کا ماحول دلچسپ بنا دیتے ہیں۔ ماضی میں پیش آنے والے ایسے ہی ایک واقعے کا تذکرہ کیا جا رہا ہے، جب خواجہ آصف کے ایک جملے پر قومی اسمبلی میں قہقہے گونج اٹھے تھے اور اس کی خوب چرچا ہوئی تھی۔
یاد رہے کہ گزشتہ اسمبلی کے دور میں تحریک انصاف کے اراکینِ اسمبلی استعفے دینے کے بعد دوبارہ ایوان میں واپس آئے تھے۔ اس موقع پر خواجہ آصف نے ایک طنزیہ جملہ کہا تھا، جس پر ایوان میں موجود اراکین نے بھرپور ردِعمل دیا اور قہقہے گونج اٹھے۔
کئی سال بعد جمعیت علمائے اسلام کے سربراہ اور رکنِ قومی اسمبلی مولانا فضل الرحمان نے اسی جملے کو خواجہ آصف کا نام لے کر ان پر چسپاں کیا۔ مولانا فضل الرحمان کے اس برجستہ انداز پر بھی ایوان میں ہنسی اور تالیاں دیکھنے میں آئیں۔
یہ واقعات پارلیمانی سیاست میں زبانی طنز و مزاح کی روایت کی عکاسی کرتے ہیں، جہاں سیاسی اختلافات کے باوجود بعض مواقع پر برجستہ جملے ایوان کی توجہ حاصل کر لیتے ہیں اور ارکان کے درمیان دلچسپ صورتِ حال پیدا ہو جاتی ہے۔
نوٹ: واقعات کی درست تفصیل، اصل جملے اور ان کے مکمل سیاق و سباق کی تصدیق کے لیے متعلقہ قومی اسمبلی کی کارروائی یا مستند ویڈیو ریکارڈنگ سے رجوع کرنا ضروری ہے۔
یاد رہے کہ گزشتہ اسمبلی کے دور میں تحریک انصاف کے اراکینِ اسمبلی استعفے دینے کے بعد دوبارہ ایوان میں واپس آئے تھے۔ اس موقع پر خواجہ آصف نے ایک طنزیہ جملہ کہا تھا، جس پر ایوان میں موجود اراکین نے بھرپور ردِعمل دیا اور قہقہے گونج اٹھے۔
کئی سال بعد جمعیت علمائے اسلام کے سربراہ اور رکنِ قومی اسمبلی مولانا فضل الرحمان نے اسی جملے کو خواجہ آصف کا نام لے کر ان پر چسپاں کیا۔ مولانا فضل الرحمان کے اس برجستہ انداز پر بھی ایوان میں ہنسی اور تالیاں دیکھنے میں آئیں۔
یہ واقعات پارلیمانی سیاست میں زبانی طنز و مزاح کی روایت کی عکاسی کرتے ہیں، جہاں سیاسی اختلافات کے باوجود بعض مواقع پر برجستہ جملے ایوان کی توجہ حاصل کر لیتے ہیں اور ارکان کے درمیان دلچسپ صورتِ حال پیدا ہو جاتی ہے۔
نوٹ: واقعات کی درست تفصیل، اصل جملے اور ان کے مکمل سیاق و سباق کی تصدیق کے لیے متعلقہ قومی اسمبلی کی کارروائی یا مستند ویڈیو ریکارڈنگ سے رجوع کرنا ضروری ہے۔
تبصرے (0)
ابھی کوئی تبصرہ موجود نہیں — پہلا تبصرہ آپ کریں۔
تبصرہ کریں