پولیس
.مانسہرہ: ماڈل کریمنل کورٹ کا اہم فیصلہ، قتل کے ملزم عیسیٰ خان افغانی کو عمر قید کی سزا
21-اکتوبر-2026 — Qazi Jawad
0 تبصرے
31 وزٹ
Read in English
غیر قانونی طور پر گھر میں داخل ہونے پر 10 سال قیدِ بامشقت، تفتیشی افسر سیف الرحمان خان تنولی کی پیشہ ورانہ تفتیش بھی نمایاں
مانسہرہ، 21 اکتوبر 2026ء: مانسہرہ کی ماڈل کریمنل کورٹ نے قتل کے مقدمے میں ملزم عیسیٰ خان افغانی ولد عبدالقادر کو عمر قید سمیت مختلف جرائم میں سزائیں سنا دیں۔
مقدمے کے دستیاب بیان کے مطابق عدالت نے ملزم کو قتل کے جرم میں عمر قید جبکہ گھر میں غیر قانونی طور پر داخل ہونے کے جرم میں 10 سال قیدِ بامشقت کی سزا سنائی۔ ملزم کو ناجائز اسلحہ رکھنے کے جرم میں بھی سزا سنائے جانے کا ذکر کیا گیا ہے، تاہم اس کی مدت اور دیگر سزاؤں کی تفصیلات فراہم نہیں کی گئیں۔
ڈی ایس پی وارث خان کا مراسلہ، تفتیشی افسر کی تکنیکی تفتیش
مقدمے کا مراسلہ ڈی ایس پی وارث خان، حال تعینات شتیال، کی جانب سے پیش کیا گیا۔ کیس کے تفتیشی افسر سب انسپکٹر سیف الرحمان خان تنولی نے مبینہ طور پر جدید اور تکنیکی ذرائع استعمال کرتے ہوئے تفتیش مکمل کی اور مقدمے کو منطقی انجام تک پہنچانے میں کردار ادا کیا۔
واقعہ 8 جنوری 2023ء کو پیش آیا
استغاثہ کے مطابق واقعہ 8 جنوری 2023ء کی رات تقریباً 9 بج کر 40 منٹ پر پیش آیا تھا۔ مقدمے کی سماعت کے بعد عدالت نے دستیاب شواہد اور قانونی کارروائی کی بنیاد پر ملزم کو سزائیں سنائیں۔
یہ فیصلہ قتل کے مقدمات میں مؤثر تفتیش، شواہد کی اہمیت اور قانون کے مطابق عدالتی کارروائی کی عکاسی کرتا ہے۔
نوٹ: ناجائز اسلحہ رکھنے کے جرم میں سزا کی مدت اور دیگر سزاؤں کی مکمل تفصیلات اصل عدالتی فیصلے سے تصدیق کے بعد شامل کی جا سکتی ہیں۔
مانسہرہ، 21 اکتوبر 2026ء: مانسہرہ کی ماڈل کریمنل کورٹ نے قتل کے مقدمے میں ملزم عیسیٰ خان افغانی ولد عبدالقادر کو عمر قید سمیت مختلف جرائم میں سزائیں سنا دیں۔
مقدمے کے دستیاب بیان کے مطابق عدالت نے ملزم کو قتل کے جرم میں عمر قید جبکہ گھر میں غیر قانونی طور پر داخل ہونے کے جرم میں 10 سال قیدِ بامشقت کی سزا سنائی۔ ملزم کو ناجائز اسلحہ رکھنے کے جرم میں بھی سزا سنائے جانے کا ذکر کیا گیا ہے، تاہم اس کی مدت اور دیگر سزاؤں کی تفصیلات فراہم نہیں کی گئیں۔
ڈی ایس پی وارث خان کا مراسلہ، تفتیشی افسر کی تکنیکی تفتیش
مقدمے کا مراسلہ ڈی ایس پی وارث خان، حال تعینات شتیال، کی جانب سے پیش کیا گیا۔ کیس کے تفتیشی افسر سب انسپکٹر سیف الرحمان خان تنولی نے مبینہ طور پر جدید اور تکنیکی ذرائع استعمال کرتے ہوئے تفتیش مکمل کی اور مقدمے کو منطقی انجام تک پہنچانے میں کردار ادا کیا۔
واقعہ 8 جنوری 2023ء کو پیش آیا
استغاثہ کے مطابق واقعہ 8 جنوری 2023ء کی رات تقریباً 9 بج کر 40 منٹ پر پیش آیا تھا۔ مقدمے کی سماعت کے بعد عدالت نے دستیاب شواہد اور قانونی کارروائی کی بنیاد پر ملزم کو سزائیں سنائیں۔
یہ فیصلہ قتل کے مقدمات میں مؤثر تفتیش، شواہد کی اہمیت اور قانون کے مطابق عدالتی کارروائی کی عکاسی کرتا ہے۔
نوٹ: ناجائز اسلحہ رکھنے کے جرم میں سزا کی مدت اور دیگر سزاؤں کی مکمل تفصیلات اصل عدالتی فیصلے سے تصدیق کے بعد شامل کی جا سکتی ہیں۔
ٹیگز:
##mansehra.com
تبصرے (0)
ابھی کوئی تبصرہ موجود نہیں — پہلا تبصرہ آپ کریں۔
تبصرہ کریں