پولیس
.مانسہرہ: محسن شاہ قتل کیس کا اہم موڑ، کورٹ میرج کے تنازع پر 4 ملزمان گرفتار، مزید 3 کی تلاش جاری
27-اکتوبر-2026 — Qazi Jawad
0 تبصرے
32 وزٹ
Read in English
مانسہرہ: لمبی ڈھیری ٹیکسی اسٹاپ پر نوجوان محسن شاہ کے قتل کے مقدمے میں مانسہرہ پولیس نے اہم پیش رفت کرتے ہوئے چار ملزمان کو گرفتار کر لیا ہے، جبکہ مقدمے میں نامزد مزید تین ملزمان کی گرفتاری کے لیے کارروائیاں جاری ہیں۔ پولیس کے مطابق ابتدائی تفتیش میں قتل کی وجہ مبینہ طور پر کورٹ میرج سے پیدا ہونے والی عداوت سامنے آئی ہے۔
پولیس کے مطابق مقتول محسن شاہ کی عمر تقریباً 21 سے 22 سال تھی اور وہ ٹیکسی چلا کر روزگار کماتا تھا۔ واقعے کے بعد پولیس نے مقدمہ درج کرکے مختلف پہلوؤں سے تفتیش شروع کی، جس کے نتیجے میں چار مشتبہ ملزمان کو گرفتار کیا گیا۔ حکام کے مطابق مزید تفتیش جاری ہے اور واقعے میں دیگر افراد کے ممکنہ کردار کا بھی جائزہ لیا جا رہا ہے۔
واقعہ کیسے پیش آیا؟
پولیس کو درج کرائی گئی رپورٹ کے مطابق، 16 ستمبر 2026 کو مقتول کے والد نے بتایا کہ ان کے بیٹے محسن شاہ نے تقریباً سات سے آٹھ سال قبل مسماۃ (ع) سے کورٹ میرج کی تھی۔ رپورٹ میں مؤقف اختیار کیا گیا کہ اس شادی کے بعد لڑکی کے والدین مانسہرہ سے نقل مکانی کرکے پشاور منتقل ہوگئے تھے۔
رپورٹ کے مطابق وقوعے کے روز محسن شاہ لمبی ڈھیری ٹیکسی اسٹاپ پر موجود تھا، جہاں وہ ٹیکسی چلا کر اپنے روزگار کے سلسلے میں کام کرتا تھا۔ اسی دوران نامعلوم موٹر سائیکل سوار مانسہرہ بائی پاس کی جانب سے آئے اور مبینہ طور پر اس پر فائرنگ کردی۔
فائرنگ کے نتیجے میں محسن شاہ شدید زخمی ہوگیا اور بعد ازاں زخموں کی تاب نہ لاتے ہوئے جاں بحق ہوگیا۔ واقعے کی اطلاع ملنے پر پولیس نے مقدمہ درج کرکے ملزمان کی تلاش اور شواہد اکٹھے کرنے کا عمل شروع کیا۔
کورٹ میرج کا تنازع قتل کی وجہ قرار
پولیس کے مطابق ابتدائی تفتیش میں قتل کے پیچھے کورٹ میرج سے متعلق تنازع اور اس کے نتیجے میں پیدا ہونے والی مبینہ عداوت کا پہلو سامنے آیا ہے۔
تفتیشی حکام اس بات کا تعین کرنے کی کوشش کر رہے ہیں کہ واقعے کی منصوبہ بندی کیسے کی گئی، مبینہ طور پر کون کون اس میں شریک تھا اور قتل میں ملوث افراد کے درمیان کیا روابط تھے۔ تاہم، مقدمے کے تمام پہلوؤں اور ملزمان کے کردار کا حتمی تعین تفتیش اور قانونی کارروائی کے بعد ہی ہوسکے گا۔
بین الصوبائی سطح پر تفتیش، پہلی گرفتاری
واقعے کا مقدمہ ابتدا میں نامعلوم ملزمان کے خلاف درج کیا گیا تھا۔ پولیس نے ملزمان تک پہنچنے کے لیے تفتیش کا دائرہ وسیع کیا اور مختلف علاقوں میں کارروائیاں اور تلاش کا سلسلہ جاری رکھا۔
پولیس کے مطابق دورانِ تفتیش مقتول کی اہلیہ کے بھائی اعزاز زمان ولد شاہزمان کو گرفتار کیا گیا۔ حکام کا کہنا ہے کہ اس ملزم سے تفتیش اور اس کی مبینہ نشاندہی پر دیگر افراد تک رسائی حاصل ہوئی، جس کے نتیجے میں مزید تین ملزمان عبدالواحد، عبدالبصیر اور عبدالقـدیر کو بھی گرفتار کرلیا گیا۔
اس طرح اس مقدمے میں گرفتار ملزمان کی تعداد چار ہوگئی ہے۔
گرفتار ملزمان کے نام اور رہائشی تفصیلات
پولیس کی فراہم کردہ معلومات کے مطابق گرفتار ملزمان کی تفصیلات درج ذیل ہیں:
اعزاز زمان ولد شاہزمان — سکنہ پشاور، حال اسلام آباد۔
عبدالواحد ولد زیارت گل — سکنہ چارسدہ، حال راولپنڈی۔
عبدالبصیر ولد عبدالرشید — سکنہ ٹینکی موڑ، مانسہرہ۔
عبدالقدیر ولد انور خان — سکنہ کھنہ، اسلام آباد۔
پولیس کے مطابق گرفتار افراد سے مزید تفتیش جاری ہے تاکہ واقعے کے محرکات، منصوبہ بندی اور دیگر ممکنہ سہولت کاروں کے کردار کے بارے میں معلومات حاصل کی جاسکیں۔
قتل کی منصوبہ بندی اور رقم کی فراہمی سے متعلق مبینہ انکشافات
پولیس کے مطابق دورانِ تفتیش یہ بات بھی سامنے آئی ہے کہ مبینہ طور پر محسن شاہ کے قتل کے لیے رقم فراہم کی گئی تھی اور وقوعے سے ایک روز قبل ملزمان کو مانسہرہ لایا گیا تھا۔
تفتیشی معلومات کے مطابق ملزمان کو مبینہ طور پر اسلحہ بھی فراہم کیا گیا۔ پولیس ان دعوؤں کی مزید چھان بین کر رہی ہے تاکہ واقعے کی منصوبہ بندی، مالی معاملات اور مبینہ طور پر استعمال ہونے والے ذرائع سے متعلق شواہد کی تصدیق کی جاسکے۔
یہ تفصیلات تفتیش کے دوران سامنے آنے والے مبینہ انکشافات پر مبنی ہیں؛ ان کی حتمی قانونی حیثیت کا تعین متعلقہ شواہد اور عدالتی کارروائی کے ذریعے ہوگا۔
مزید تین نامزد ملزمان کی گرفتاری باقی
پولیس کے مطابق مقدمے میں نامزد مزید تین ملزمان تاحال گرفتار نہیں ہوسکے، جن کی تلاش جاری ہے۔ ان کے نام درج ذیل ہیں:
شاہزمان ولد گلزمان
سعد زمان ولد شاہزمان
عنایت اللہ ولد کفایت اللہ
دستیاب تفتیشی معلومات کے مطابق شاہزمان اور اس کے بیٹے سعد زمان کے بارے میں بتایا گیا ہے کہ وہ وقوعے سے دو روز قبل افغانستان چلے گئے تھے۔ پولیس ان کی گرفتاری کے لیے مزید قانونی اور تفتیشی اقدامات کر رہی ہے۔
تفتیش جاری، مزید حقائق سامنے آنے کا امکان
محسن شاہ قتل کیس میں چار ملزمان کی گرفتاری کو پولیس کی تفتیش میں اہم پیش رفت قرار دیا جا رہا ہے۔ تاہم، مقدمے میں نامزد دیگر ملزمان کی گرفتاری، مبینہ منصوبہ بندی کی مکمل تفصیلات اور تمام افراد کے کردار کا تعین ہونا ابھی باقی ہے۔
پولیس کی جانب سے مزید تفتیش کے بعد کیس میں پیش رفت سامنے آنے کا امکان ہے۔ ملزمان کے خلاف عائد الزامات کا حتمی فیصلہ عدالت کرے گی۔
نوٹ: خبر میں بیان کردہ محرکات اور تفتیشی انکشافات پولیس سے منسوب ہیں۔ ملزمان کو جرم ثابت ہونے تک قانون کے مطابق بے گناہ تصور کیا جائے گا۔
پولیس کے مطابق مقتول محسن شاہ کی عمر تقریباً 21 سے 22 سال تھی اور وہ ٹیکسی چلا کر روزگار کماتا تھا۔ واقعے کے بعد پولیس نے مقدمہ درج کرکے مختلف پہلوؤں سے تفتیش شروع کی، جس کے نتیجے میں چار مشتبہ ملزمان کو گرفتار کیا گیا۔ حکام کے مطابق مزید تفتیش جاری ہے اور واقعے میں دیگر افراد کے ممکنہ کردار کا بھی جائزہ لیا جا رہا ہے۔
واقعہ کیسے پیش آیا؟
پولیس کو درج کرائی گئی رپورٹ کے مطابق، 16 ستمبر 2026 کو مقتول کے والد نے بتایا کہ ان کے بیٹے محسن شاہ نے تقریباً سات سے آٹھ سال قبل مسماۃ (ع) سے کورٹ میرج کی تھی۔ رپورٹ میں مؤقف اختیار کیا گیا کہ اس شادی کے بعد لڑکی کے والدین مانسہرہ سے نقل مکانی کرکے پشاور منتقل ہوگئے تھے۔
رپورٹ کے مطابق وقوعے کے روز محسن شاہ لمبی ڈھیری ٹیکسی اسٹاپ پر موجود تھا، جہاں وہ ٹیکسی چلا کر اپنے روزگار کے سلسلے میں کام کرتا تھا۔ اسی دوران نامعلوم موٹر سائیکل سوار مانسہرہ بائی پاس کی جانب سے آئے اور مبینہ طور پر اس پر فائرنگ کردی۔
فائرنگ کے نتیجے میں محسن شاہ شدید زخمی ہوگیا اور بعد ازاں زخموں کی تاب نہ لاتے ہوئے جاں بحق ہوگیا۔ واقعے کی اطلاع ملنے پر پولیس نے مقدمہ درج کرکے ملزمان کی تلاش اور شواہد اکٹھے کرنے کا عمل شروع کیا۔
کورٹ میرج کا تنازع قتل کی وجہ قرار
پولیس کے مطابق ابتدائی تفتیش میں قتل کے پیچھے کورٹ میرج سے متعلق تنازع اور اس کے نتیجے میں پیدا ہونے والی مبینہ عداوت کا پہلو سامنے آیا ہے۔
تفتیشی حکام اس بات کا تعین کرنے کی کوشش کر رہے ہیں کہ واقعے کی منصوبہ بندی کیسے کی گئی، مبینہ طور پر کون کون اس میں شریک تھا اور قتل میں ملوث افراد کے درمیان کیا روابط تھے۔ تاہم، مقدمے کے تمام پہلوؤں اور ملزمان کے کردار کا حتمی تعین تفتیش اور قانونی کارروائی کے بعد ہی ہوسکے گا۔
بین الصوبائی سطح پر تفتیش، پہلی گرفتاری
واقعے کا مقدمہ ابتدا میں نامعلوم ملزمان کے خلاف درج کیا گیا تھا۔ پولیس نے ملزمان تک پہنچنے کے لیے تفتیش کا دائرہ وسیع کیا اور مختلف علاقوں میں کارروائیاں اور تلاش کا سلسلہ جاری رکھا۔
پولیس کے مطابق دورانِ تفتیش مقتول کی اہلیہ کے بھائی اعزاز زمان ولد شاہزمان کو گرفتار کیا گیا۔ حکام کا کہنا ہے کہ اس ملزم سے تفتیش اور اس کی مبینہ نشاندہی پر دیگر افراد تک رسائی حاصل ہوئی، جس کے نتیجے میں مزید تین ملزمان عبدالواحد، عبدالبصیر اور عبدالقـدیر کو بھی گرفتار کرلیا گیا۔
اس طرح اس مقدمے میں گرفتار ملزمان کی تعداد چار ہوگئی ہے۔
گرفتار ملزمان کے نام اور رہائشی تفصیلات
پولیس کی فراہم کردہ معلومات کے مطابق گرفتار ملزمان کی تفصیلات درج ذیل ہیں:
اعزاز زمان ولد شاہزمان — سکنہ پشاور، حال اسلام آباد۔
عبدالواحد ولد زیارت گل — سکنہ چارسدہ، حال راولپنڈی۔
عبدالبصیر ولد عبدالرشید — سکنہ ٹینکی موڑ، مانسہرہ۔
عبدالقدیر ولد انور خان — سکنہ کھنہ، اسلام آباد۔
پولیس کے مطابق گرفتار افراد سے مزید تفتیش جاری ہے تاکہ واقعے کے محرکات، منصوبہ بندی اور دیگر ممکنہ سہولت کاروں کے کردار کے بارے میں معلومات حاصل کی جاسکیں۔
قتل کی منصوبہ بندی اور رقم کی فراہمی سے متعلق مبینہ انکشافات
پولیس کے مطابق دورانِ تفتیش یہ بات بھی سامنے آئی ہے کہ مبینہ طور پر محسن شاہ کے قتل کے لیے رقم فراہم کی گئی تھی اور وقوعے سے ایک روز قبل ملزمان کو مانسہرہ لایا گیا تھا۔
تفتیشی معلومات کے مطابق ملزمان کو مبینہ طور پر اسلحہ بھی فراہم کیا گیا۔ پولیس ان دعوؤں کی مزید چھان بین کر رہی ہے تاکہ واقعے کی منصوبہ بندی، مالی معاملات اور مبینہ طور پر استعمال ہونے والے ذرائع سے متعلق شواہد کی تصدیق کی جاسکے۔
یہ تفصیلات تفتیش کے دوران سامنے آنے والے مبینہ انکشافات پر مبنی ہیں؛ ان کی حتمی قانونی حیثیت کا تعین متعلقہ شواہد اور عدالتی کارروائی کے ذریعے ہوگا۔
مزید تین نامزد ملزمان کی گرفتاری باقی
پولیس کے مطابق مقدمے میں نامزد مزید تین ملزمان تاحال گرفتار نہیں ہوسکے، جن کی تلاش جاری ہے۔ ان کے نام درج ذیل ہیں:
شاہزمان ولد گلزمان
سعد زمان ولد شاہزمان
عنایت اللہ ولد کفایت اللہ
دستیاب تفتیشی معلومات کے مطابق شاہزمان اور اس کے بیٹے سعد زمان کے بارے میں بتایا گیا ہے کہ وہ وقوعے سے دو روز قبل افغانستان چلے گئے تھے۔ پولیس ان کی گرفتاری کے لیے مزید قانونی اور تفتیشی اقدامات کر رہی ہے۔
تفتیش جاری، مزید حقائق سامنے آنے کا امکان
محسن شاہ قتل کیس میں چار ملزمان کی گرفتاری کو پولیس کی تفتیش میں اہم پیش رفت قرار دیا جا رہا ہے۔ تاہم، مقدمے میں نامزد دیگر ملزمان کی گرفتاری، مبینہ منصوبہ بندی کی مکمل تفصیلات اور تمام افراد کے کردار کا تعین ہونا ابھی باقی ہے۔
پولیس کی جانب سے مزید تفتیش کے بعد کیس میں پیش رفت سامنے آنے کا امکان ہے۔ ملزمان کے خلاف عائد الزامات کا حتمی فیصلہ عدالت کرے گی۔
نوٹ: خبر میں بیان کردہ محرکات اور تفتیشی انکشافات پولیس سے منسوب ہیں۔ ملزمان کو جرم ثابت ہونے تک قانون کے مطابق بے گناہ تصور کیا جائے گا۔
تبصرے (0)
ابھی کوئی تبصرہ موجود نہیں — پہلا تبصرہ آپ کریں۔
تبصرہ کریں