مظہر برلاس کا دعویٰ: عمران خان کی جائے نماز جیل عملہ گھر لے جاتا ہے، کرسی پر دو افسروں میں جھگڑا
28-اکتوبر-2026 — Qazi Jawad
0 تبصرے
20 وزٹ
Read in English
لاہور: تجزیہ کار اور کالم نگار مظہر برلاس نے دعویٰ کیا ہے کہ پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے بانی عمران خان کی شخصیت کا اثر نہ صرف ان کے حامیوں بلکہ جیل کے بعض اہلکاروں اور سرکاری افسران پر بھی نمایاں رہا ہے۔ انہوں نے عمران خان کی جائے نماز اور اٹک جیل میں استعمال ہونے والی ایک کرسی سے متعلق دلچسپ واقعات بیان کیے ہیں۔
عمران خان کی جائے نماز سے متعلق دعویٰ
اینکرپرسن عاصمہ چوہدری کے وی لاگ میں گفتگو کرتے ہوئے مظہر برلاس نے دعویٰ کیا کہ عمران خان جس جائے نماز پر نماز ادا کرتے ہیں، جیل کا عملہ اسے خاص اہمیت دیتا ہے اور بعض اہلکار اسے اپنے گھروں میں لے جا کر محفوظ رکھتے ہیں۔
اٹک جیل میں کرسی پر اختلاف کا دعویٰ
مظہر برلاس کے مطابق، عمران خان جب پہلی مرتبہ قید کے دوران اٹک جیل پہنچے تو وہ ایک کرسی پر بیٹھے تھے۔ ان کا دعویٰ ہے کہ بعد ازاں اس کرسی کو اپنے پاس رکھنے کے معاملے پر جیل سپرنٹنڈنٹ اور ڈپٹی سپرنٹنڈنٹ کے درمیان اختلاف پیدا ہوگیا۔
برلاس کے بیان کے مطابق، ڈپٹی سپرنٹنڈنٹ کا مؤقف تھا کہ مذکورہ کرسی ان کے گھر سے لائی گئی تھی۔ انہوں نے مزید دعویٰ کیا کہ ڈپٹی سپرنٹنڈنٹ کے بچوں نے اس کرسی پر عمران خان کی تصویر لگا کر اور اس کے گرد ربن سجا کر اسے یادگار کے طور پر محفوظ کر رکھا ہے، اور اس پر کسی کو بیٹھنے کی اجازت نہیں دی جاتی۔
عمران خان کی قیادت سے متعلق مظہر برلاس کی رائے
مظہر برلاس نے عمران خان کی شخصیت اور عوامی مقبولیت پر اظہارِ خیال کرتے ہوئے کہا کہ برصغیر پاک و ہند کی گزشتہ پانچ سو سالہ تاریخ میں ان جیسا بہادر لیڈر پیدا نہیں ہوا۔ ان کے بقول عمران خان پاکستان کے کروڑوں عوام کے دلوں کی دھڑکن ہیں۔
اہم وضاحت
جائے نماز، کرسی اور جیل اہلکاروں کے درمیان مبینہ اختلاف سے متعلق یہ تفصیلات مظہر برلاس کے بیان کردہ دعووں پر مبنی ہیں۔ ان دعووں کی آزادانہ تصدیق نہیں ہو سکی اور اس حوالے سے جیل حکام یا متعلقہ اداروں کی جانب سے کوئی سرکاری وضاحت سامنے آنے کی تصدیق نہیں ہے۔
عمران خان کی جائے نماز سے متعلق دعویٰ
اینکرپرسن عاصمہ چوہدری کے وی لاگ میں گفتگو کرتے ہوئے مظہر برلاس نے دعویٰ کیا کہ عمران خان جس جائے نماز پر نماز ادا کرتے ہیں، جیل کا عملہ اسے خاص اہمیت دیتا ہے اور بعض اہلکار اسے اپنے گھروں میں لے جا کر محفوظ رکھتے ہیں۔
اٹک جیل میں کرسی پر اختلاف کا دعویٰ
مظہر برلاس کے مطابق، عمران خان جب پہلی مرتبہ قید کے دوران اٹک جیل پہنچے تو وہ ایک کرسی پر بیٹھے تھے۔ ان کا دعویٰ ہے کہ بعد ازاں اس کرسی کو اپنے پاس رکھنے کے معاملے پر جیل سپرنٹنڈنٹ اور ڈپٹی سپرنٹنڈنٹ کے درمیان اختلاف پیدا ہوگیا۔
برلاس کے بیان کے مطابق، ڈپٹی سپرنٹنڈنٹ کا مؤقف تھا کہ مذکورہ کرسی ان کے گھر سے لائی گئی تھی۔ انہوں نے مزید دعویٰ کیا کہ ڈپٹی سپرنٹنڈنٹ کے بچوں نے اس کرسی پر عمران خان کی تصویر لگا کر اور اس کے گرد ربن سجا کر اسے یادگار کے طور پر محفوظ کر رکھا ہے، اور اس پر کسی کو بیٹھنے کی اجازت نہیں دی جاتی۔
عمران خان کی قیادت سے متعلق مظہر برلاس کی رائے
مظہر برلاس نے عمران خان کی شخصیت اور عوامی مقبولیت پر اظہارِ خیال کرتے ہوئے کہا کہ برصغیر پاک و ہند کی گزشتہ پانچ سو سالہ تاریخ میں ان جیسا بہادر لیڈر پیدا نہیں ہوا۔ ان کے بقول عمران خان پاکستان کے کروڑوں عوام کے دلوں کی دھڑکن ہیں۔
اہم وضاحت
جائے نماز، کرسی اور جیل اہلکاروں کے درمیان مبینہ اختلاف سے متعلق یہ تفصیلات مظہر برلاس کے بیان کردہ دعووں پر مبنی ہیں۔ ان دعووں کی آزادانہ تصدیق نہیں ہو سکی اور اس حوالے سے جیل حکام یا متعلقہ اداروں کی جانب سے کوئی سرکاری وضاحت سامنے آنے کی تصدیق نہیں ہے۔
تبصرے (0)
ابھی کوئی تبصرہ موجود نہیں — پہلا تبصرہ آپ کریں۔
تبصرہ کریں